بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
محمد بن عبداللہ بن حوشب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوھاب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) خالد (حذائ)نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکّہ کو حرم قرار دیا ہے۔ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس کی بے حرمتی روارکھی اور نہ میرے بعد۔ میرے لئے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لئے ہی (جنگ) روارکھی۔ نہ اس کی گھاس کاٹی جائے اور نہ اس کے درخت اور نہ اس کا شکار پریشان کیا جائے۔ اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے، مگر شناخت کرانے والے کے لئے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اذخر بھی ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے لئے۔ آپؐ نے فرمایا: مگر اذخر۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں نقل کیا: ہماری قبروں اور گھروں کے لئے۔ اور ابان بن صالح نے حسن بن مسلم سے نقل کیا کہ حضرت صفیہؓ بنت شیبہ سے مروی ہے کہ (وہ کہتی تھیں:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ۔اور مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یوں روایت کی: ان کے لوہاروں اور گھروں کے لئے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سعید بن عامر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابی نجیح کے بیٹے سے، انہوں نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میرے باپ کے ساتھ ایک آدمی دفنایا گیا۔ میرے نفس کو چین نہ آیا،یہاں تک کہ میں نے ان کو نکالا اور ان کو ایک الگ قبر میں رکھا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ کہتے تھے: عبیداللہ (بن ابی یزید) نے کہاکہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: میں اور میری ماں کمزوروں میں سے تھے۔ میں بچوں میں اور میری ماں عورتوں میں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن دینار) نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ؛ عبداللہ بن اُبی ّ(کی قبر) پر آئے، جبکہ وہ اپنے گڑھے میں رکھ دیا گیا تھا۔ آپؐ نے اس (کو نکالنے) کے لئے فرمایا اور وہ نکالا گیا۔ آپؐ نے اس کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا اور اس (کے منہ) میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور اس کو اپناکُرتہ پہنایا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے (ایسا کیوں کیا؟) اور اس نے حضرت عباسؓ کو اپنا کُرتہ پہنایا تھا۔ سفیان (بن عیینہ) نے کہا: اور ابوہارون کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو کُرتے پہنے ہوئے تھے۔ عبداللہ کے بیٹے نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! میرے باپ کو اپنا وہ کُرتہ پہنائیں جو آپؐ کے جسم سے لگا ہوا ہے۔ سفیان کہتے تھے: لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کو اپنا کُرتہ اس احسان کے عوض پہنایا تھا جو اس نے کیا تھا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) بشر بن مفضل نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) حسین معلم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطائ(بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب اُحد کی لڑائی ہوئی۔ تو میرے باپ نے رات کو مجھے بلایا اور کہا: مجھے یہی معلوم ہوتا ہے کہ میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ساتھیوں کے ساتھ مارا جائوں گا جو پہلے شہید ہوں گے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے سوا اپنے بعد تجھ سے زیادہ عزیز اپنے لئے کسی کو نہیں چھوڑرہا اور مجھ پر قرض ہے اسے ادا کردینا اور اپنی بہنوں سے اچھا سلوک رکھنا۔ ہم صبح اٹھے تو میرے باپ ہی پہلے شہید ہوئے اور میں نے٭ ان کو قبر میں دفن کیا۔ ان کے ساتھ ایک اور بھی تھا۔ اس کے بعد میرے نفس نے گوارا نہ کیا کہ میں دوسرے کے ساتھ اُن کو رہنے دوں۔ اس لئے میں نے ان کو چھ ماہ کے بعد نکالا تو کیا دیکھتا ہوں وہ ویسے ہی ہیں جیسے اُس دن تھے کہ جس دن میں نے ان کو رکھا تھا۔ سوائے خفیف سے تغیر کے جو اُن کے کان میں تھا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) لیث بن سعد نے ہمیںبتایا۔( لیث نے کہا:) ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے، عبدالرحمن نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو اکٹھا کرتے اور پھر پوچھتے: ان میں سے کس نے قرآن زیادہ یاد کیا تھا۔ جب آپؐ کو ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیاجاتا تو آپؐ اس کو لحد میں پہلے رکھتے اور آپؐ نے فرمایا: قیامت کے دن میں ان کا شاہد ہوں اور ان کو ان کے خون سمیت ہی دفن کرنے کے لئے فرمایا اور انہیں نہلایا نہیں۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ (بن عمر) نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیاکہ حضرت عمرؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کچھ لوگوں کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے تو اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد بلوغت کے قریب تھا۔ اسے معلوم نہ ہوا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے تھپکا اور اس کے بعد ابن صیاد سے پوچھا: کیا تو شہادت دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس پر ابن صیاد نے آپؐ کی طرف دیکھا اور کہا: میں شہادت دیتا ہوں کہ آپؐ اُمیّوں کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپؐ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ تو آپؐ نے اس کو چھوڑ دیا اور فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ۔ پھر آپؐ نے اس سے پوچھا تو کیا کچھ دیکھتا ہے؟ ابن صیاد نے کہا: مجھے سچی اور جھوٹی خبریںآتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصل حقیقت تجھ پر مشتبہ کردی گئی ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں نے تیرے لئے ایک بات دل میں پوشیدہ رکھی ۔ تو ابن صیاد نے کہا: وہ دُخ ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: چل دور ہو۔ تو اپنی بساط سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اس کی گردن اڑانے دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو یہ وہی( دجّال) ہے تو تم کو اس پر کبھی غلبہ نہیں دیا جائے گا اور اگر وہ نہ ہوا تو تمہارے لئے اس کے مارڈالنے میں کوئی بھلائی نہیں ۔
اور سالم نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابی بن کعب ؓاس نخلستان کی طرف گئے جس میں ابن صیاد تھا۔ اور آپؐ یہ کوشش کر رہے تھے کہ پیشتر اس کے کہ ابن صیاد آپؐ کو دیکھ پائے۔ ابن صیاد سے آپؐ کچھ سن لیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ لیا اور وہ ایک چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا۔ چادرمیں اس کے گنگنانے یا بھنبھنانے کی آواز تھی تو ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا جبکہ آپؐ کھجوروں کے تنوں کی آڑ لیے ہوئے بچتے جارہے تھے۔ اس نے ابن صیاد سے کہا: صآف! اور یہ ابن صیاد کا نام تھا۔ یہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تو ابن صیاد جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر (ماں) اسے رہنے دیتی تو وہ اپنا حال ظاہر کردیتا۔ اور شعیب نے اپنی روایت میں (بجائے رَمْزْہ یا زمْرَہ) رَمْرَمَہ یا زمزمہ نقل کیا ہے اور (رَفَضَہٗکی بجائے) رَفَصَہٗ کہا۔ یعنی اسے لات مار ی اور اسحاق کلبی اور عقیل نے رَمْرَمَۃ کہا اور معمر نے رَمْزَہ کہا یعنی ستار کی آواز۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس(بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک یہودی لڑکا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کے لئے اس کے پاس آئے ۔ آپؐ اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور اس سے کہا: اسلام قبول کر لو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور وہ اس کے پاس ہی تھا۔ تو اس نے اسے کہا: ابو القاسم کی بات مانو۔ سو اس نے اسلام قبول کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور آپؐ یہ کہہ رہے تھے: اللہ ہی کی حمد ہے جس نے اس کو آگ سے بچالیا ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب کہتے تھے: ہر بچے کے لئے جو مرجائے نماز جنازہ پڑھی جائے گو وہ حرام کا ہی ہو۔ اس لئے کہ وہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔ اس کے ماں باپ اسلام کا دعویٰ رکھتے ہوں یا صرف اس کا باپ ہی(اسلام پر) ہو۔ خواہ اس کی ماں اسلام پر نہ ہو۔ جب وہ پیدا ہوتے وقت چلائے( اور پھر مرجائے) تو اس کے لئے نماز جنازہ پڑھی جائے اور جو نہیں چلاتا، اس کے لئے نماز نہ پڑھی جائے۔ اس لئے کہ وہ ناتما م بچہ ہے جو گرگیا ہے۔ کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایسا بچہ نہیں جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو۔ اس کے ماں باپ اس کو یہودی یاعیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ جیسے چوپائے جانور صحیح سالم چوپائے جانور ہی جنتے ہیں۔ کیا تم نے ان میں کوئی کن کٹا بھی پایا ہے؟ اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے : یعنی اللہ کی فطرت جس پر کہ اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔