بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 158 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال ( بن حمید) سے، ہلال نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس سے آپؐ اُٹھ نہیں سکے، فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ہے۔ اگر آپؐ یہ نہ فرماتے تو آپؐ کی قبر کھلی رکھی جاتی، مگر آپؐ ڈرے یا کہا: لوگوں کو ڈر ہو ا کہ کہیں وہ مسجد (یعنی سجدہ گاہ) نہ بنالی جائے اور ہلال سے روایت کرتے ہوئے راوی نے کہا: عروہ بن زبیر نے میری کنیت رکھ دی، حالانکہ میری کوئی اولاد ہی نہیں ہوئی۔ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوبکر بن عیاش نے ہمیں بتایا کہ سفیان ( بن دینار) تَمّار (کھجور فروش) سے مروی ہے۔ سفیان نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر دیکھی کہ وہ اونٹ کے کوہان کی طرح اونچی بنی ہوئی تھی۔ فروہ ( بن ابی مغراء ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) علی (بن مسہر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ولید بن عبدالملک کے عہد حکومت میں جب حضرت عائشہؓ کے حجرہ کی دیوار لوگوں پر گری تو وہ بنانے لگے۔ اسی اثناء میں ان کو ایک پائوں دکھائی دیا تو وہ گھبراگئے اور خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پائوں ہے تو انہوں نے کسی کوبھی نہ پایا جو اس کو پہنچانتا ہو،یہاں تک کہ عروہ( بن زبیر) نے کہا: ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم! یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پائوں نہیں، یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پائوں ہے۔
نیز ہشام سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ حضرت عائشہؓ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو وصیت کی تھی کہ مجھے ان کے ساتھ دفن نہ کرنا اور بقیع میں میری ہم نشینوں کے ساتھ دفن کرنا تا اس (حجرہ) میں دفن ہونے کی وجہ سے میری تعریف نہ ہو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یزید بن زریع نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) خالد (حذائ) نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے، حضرت ثابتؓ نے نبی
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) جریر بن عبدالحمید نے ہم سے بیان کیا ۔ (انہوں نے کہا:) حصین بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا کہ عمروبن میمون اودی سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو( اس وقت) دیکھا (جب وہ زخمی ہوئے) تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمرؓ! امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائو اور کہو: عمر بن خطابؓ آپؓ کو سلام کہتا ہے۔ پھر ان سے دو ساتھیوں کے ساتھ مجھے دفنائے جانے کی بابت ان سے اجازت مانگو۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: میں یہ جگہ اپنے لئے چاہتی تھی، مگر آج میں ان کو اپنے نفس پر مقدم کروں گی۔ جب حضرت عبداللہؓ آئے۔ حضرت عمر ؓنے ان سے پوچھا: کیا خبر ہے؟ تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! انہوں نے آپؓ کے لئے اجازت دے دی ہے۔ حضرت عمر ؓنے کہا: مجھے جس قدر اس ٹھکانے کا فکر تھا اتنا اور کسی بات کا نہ تھا۔ جب میں مرجائوں تو مجھے اُٹھا کر لے جائیو۔ پھر حضرت عائشہؓ کو سلام کہنا اور پوچھنا: عمربن خطاب اجازت مانگتا ہے۔ اگر انہوں نے مجھے اجازت دے دی تو مجھے وہاں دفن کر دینا ورنہ مسلمانوں کے مقبرہ میں لے جانا۔ دیکھو اس خلافت کا حق دار میں ان چند لوگوں سے بڑھ کر کسی اور کو نہیں سمجھتا ، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت تک خوش رہے۔ سوجس کو یہ لوگ میرے بعد خلیفہ بنائیں، وہی خلیفہ ہے۔ اس کی سننا اور اسی کو ماننا۔ تب حضرت عمرؓ نے حضرتعثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا نام لیا اور ایک انصاری جو ان آپؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے امیرالمومنین! اللہ (عزو جل) کی بشارت پر خوش ہوں۔ اسلام میں آپؓ کاجو درجہ تھا وہ آپؓ جانتے ہی ہیں۔ پھر اس کے بعد آپؓ خلیفہ ہوئے تو آپؓ نے انصاف کیا۔ پھر ان سب باتوں کے بعد شہادت ملی۔ حضرت عمر نے کہا: اے میرے بھتیجے میری تو یہ آرزو ہے کہ یہ خلافت برابر ہی اُترے۔ نہ مجھے وبال ہو اور نہ مجھے ثواب ملے۔ میں اپنے بعد کے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ آغاز کے مہاجرین سے بھلائی کرے، ان کا حق پہچانے، ان کی عزت کا خیال رکھے۔ اور میں اس کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ انصار کے ساتھ بھی بھلائی کرے۔جو مدینہ میں پہلے سے رہتے تھے اور (مہاجرین کے آنے سے پہلے ایمان قبول کر چکے تھے۔) ان میں سے جو نیک ہوں ان کی نیکی قبول کرے اور جو قصور وار ہوں ان سے درگزر کرے اور میں اسے یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ وہ اللہ کی ذمہ داری اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری کا خیال رکھے۔ ان (ذمیوں) کے لئے ان کے عہد کی پوری پوری وفاداری کرے اور ان کی حفاظت کے لئے ( ان کے دشمن سے) جنگ کی جائے اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مُردوں کو گالی نہ دو کیونکہ وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔اور عبداللہ بن عبدالقدوس نے بھی اور محمد بن انس نے بھی اعمش سے روایت کی۔ (آدم کی طرح) علی بن جعد اور (محمد) بن عرعرہ اور ابن ابی عدی نے بھی شعبہ سے یہ روایت کی۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ (انہوں نے کہا:) عمرو بن مرہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابولہب ملعون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آج سارا دن تیرے لئے بربادی رہے۔ تب یہ آیت اتری : یعنی ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہوگئے اور وہ خود بھی برباد ہوگیا۔
(تشریح)مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ہم سے عبدالرحمن (بن عبداللہ) اصبہانی نے بیان کیا۔ انہوں نے ذکوان سے، ذکوان نے حضرت ابوسعیدرضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عورتوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرمائیں۔ چنانچہ آپؐ نے انہیں وعظ کیا۔ فرمایا: جس عورت کے تین بچے مرجائیں وہ اس کے لئے آگ سے پناہ ہوں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا: اگر دو (مرجائیں ؟) آپؐ نے فرمایا: تو بھی۔
حامد بن عمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد( بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت امّ عطیہؓ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہوگئیں۔ آپؐ باہر آئے اور فرمایا: اسے تین یا پانچ بار پانی اور بیری کے پتوں سے نہلائو یا اس سے زیادہ دفعہ اگر تم مناسب سمجھو اور آخری (غسل) میں کافور۔ یا فرمایا: کچھ کافور بھی ملا لو اور جب تم فارغ ہوجائو تو مجھے اطلاع دو۔ کہتی تھیں: جب ہم فارغ ہوئیں تو آپؐ کو اطلاع دی۔ آپؐ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: اسے اس پر لپیٹ دو اور ایوب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کی۔