بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
اور وہ کہتی تھیں: آپؐ نے فرمایا: اسے تین یا پانچ یاسات بار نہلائو یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو۔ حفصہ کہتی تھیں کہ حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین لٹیں کر دیں۔
(تشریح)احمد (بن صالح) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابن جریج نے ہمیں بتایا کہ ایوب کہتے تھے: میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا۔ کہتی تھیں: حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کے بالوں کی تین لٹیں کردیں۔ انہیں پہلے کھولا پھر انہیں دھویا۔ پھر ان کی تین لٹیں کیں۔
(تشریح)قبیصہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن حسان)سے، ہشام نے ام ہذیل (حفصہ بنت سیرین) سے، ام ھذیل نے حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے بالوں کو گوندھ کر ان کی تین چوٹیاں کردیں اور وکیع نے کہا: سفیان ثوری نے بیان کیا: اس کی پیشانی کے بالوں کی چوٹی اور (دو چوٹیاں) اِدھر اُدھر کی۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ(بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین یمنی سفید سوتی دھلے ہوئے کپڑوں میں کفنایا گیا نہ ان میں قمیص تھی نہ دستار۔
احمد (بن صالح) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابن جریج نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ان کو بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابن سیرین سے سنا۔ کہتے تھے: ایک انصاری عورت حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا جو اُن عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی) بیعت کی تھی، بصرہ آئیں تا اپنے بیٹے کو مرنے سے پہلے دیکھ لیں مگر نہ دیکھ سکیں۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا۔ کہتی تھیں: نبی ﷺ ہمارے پاس آئے۔ ہم آپؐ کی بیٹی کو نہلا رہی تھیں اور آپؐ نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ بار یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو نہلائو اورآخری دفعہ کافور بھی ملا دو اور جب تم فارغ ہوجائو تو مجھے اطلاع دو۔ کہتی تھیں: جب ہم فارغ ہوئیں تو آپؐ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: یہ اس کے بدن پر لپیٹ دو اور (حضرت امّ عطیہؓ نے) اس سے زیادہ نہیں بیان کیا اور میں نہیں جانتا کہ یہ آپؐ کی بیٹیوں میں سے کون سی تھی اور (ایوب کا) خیال ہے کہ اشعار سے مراد یہ ہے کہ اس کو اس میں لپیٹ دو اور اسی طرح ابن سیرین عورت سے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ لپیٹ دی جائے اور اسے تہ بند نہ پہنایا جائے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن حسان سے روایت کی، کہا: حفصہ (بنت سیرین) نے ہمیں بتایا۔ حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی فوت ہوگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں سے طاق (ہونے کی حالت میں) یعنی تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو نہلائو اور آخری بار میں کافور ڈالو۔ یافرمایا: کچھ کافور ڈالو۔ جب تم فارغ ہوجائو تو مجھے خبر دو۔ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپؐ کو اطلاع دی اور آپؐ نے اپنا تہ بند ہمیںدیا۔ ہم نے اس کے بالوں کی تین چوٹیاں گوندھیں اور وہ اس کے پیچھے ڈال دیں۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوںنے کہا: ایک شخص عرفات میں کھڑا تھا کہ وہ اپنی اونٹنی پر سے گر پڑا اور اس نے اس کی گردن توڑدی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے نہلائو اور دوکپڑوں میں کفنائو اور اسے حنوط نہ لگائو اور نہ اس کے منہ کو ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن اَللَّھُمَّ لَبَیَّیْکَ کہتا ہوا اُٹھے گا۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں کھڑا تھا کہ اتنے میں وہ اپنی سوار ی سے گر پڑا اور اس نے اس کو پائوں سے کچل ڈالا۔ یا کہا: وہیں مار ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے نہلائو اور اسے دو کپڑوں میں کفنادو اور اس کو خوشبو نہ لگائو اور نہ اس کا سرڈھانپو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو روز ِقیامت لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعیدنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ دی اور ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور وہ احرام میں تھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے نہلائو اور دو کپڑوں میں کفنائو اور اس کو خوشبو نہ لگائو او ر نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) اور ایوب(سختیانی)سے، انہوں نے سعید بن جبیرسے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرا ہوا تھا کہ وہ اونٹنی پر سے گر پڑا۔ ایوب نے یہ لفظ کہے: اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی اور عمرو نے کہا: اونٹنی نے اس کو گرتے ہی وہیں مارڈالا اور وہ مرگیا تو آپؐ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے نہلائو اور دو کپڑوں میں کفنائو اور اُسے حنوط نہ لگائو اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتے ہوئے اُٹھے گا۔ ایوب نے مضارع کا صیغہ یُلَبِّیْ نقل کیا ہے اور عمرو نے اسم فاعل کا صیغہ مُلَبِّیًا نقل کیا ہے۔
(تشریح)