بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت ابوطلحہؓ ایک ہی ڈھال سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے ساتھ اپنا بھی بچائو کرتے تھے اور حضرت ابوطلحہؓ اچھے تیر اَنداز تھے۔ جب وہ تیر چلاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جھانکتے اور ان کے تیر پڑنے کی جگہ دیکھتے۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے سلیمان بن حبیب سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوامامہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: یہ فتوحات ان لوگوں نے حاصل کیں جن کی تلواریں مزین نہ تھیں۔ نہ سونے سے، نہ چاندی سے بلکہ ان کی زینت چمڑا، سیسہ اور لوہاتھا۔ جو سفرمیں قیلولہ کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائے
سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل (بن سعد ساعدیؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خَود جو آپؐ پہنے تھے ٹوٹ گیا۔ آپؐ کا چہرہ زخم سے خون آلودہ تھا اور آپؐ کا سامنے کا درمیانی دانت بھی ٹوٹ گیا اور حضرت علیؓ ڈھال میں بار بار پانی لاتے تھے اور حضرت فاطمہؓ آپؐ کے زخم کو دھوتی تھیں۔ جب حضرت فاطمہؓ نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون زیادہ بہہ رہا ہے تو وہ ایک بورئیے کی طرف لپکیں اور اسے جلا یا اور آپؐ کے زخم پر اسے چمٹا دیا تو خون تھم گیا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے زُہری سے، زُہری نے مالک بن اَوس بن حدثان سے، مالک نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: بنی نضیر کی جائیدادیں ان غنیمتوں میں سے تھیں جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بن لڑے لادیں۔ یعنی ان کے حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ اور یہ خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھیں اور آپؐ ان میں سے اپنی بیویوں کو سالانہ خرچ دیا کرتے تھے۔ پھر جو بچتا وہ ہتھیار اور جانوروں کے خریدنے پر خرچ کرتے جو اللہ کی راہ میں سازوسامان کے طور پر استعمال کیا جاتا ۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سعد بن ابراہیم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن شداد سے، عبداللہ نے حضرت علیؓ سے روایت کی۔ (دوسری سند) قبیصہ (بن عقبہ) نے بھی ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبداللہ بن شداد نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپؐ نے حضرت سعدؓ کے بعد کسی شخص کی نسبت یہ کہا ہو کہ میرے ماں باپ یا میری جان اس پر قربان ہو۔ آپؐ انہی سے کہتے تھے: تیر چلائو۔ میرے ماں باپ تم پر قربان۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ عمرو(بن حارث) نے کہا: ابوالاسود نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے جبکہ میرے پاس دولڑکیاں بعاث کا گیت گا رہی تھیں۔ آپؐ بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنے منہ کو ایک طرف کرلیا۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ آئے۔ انہوں نے مجھے جھڑکا اور کہنے لگے: شیطان کی بنسریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: انہیں رہنے دو۔ جب حضرت ابوبکرؓکام میں مشغول٭ ہوئے۔ میں نے ان دونوں لڑکیوں کو اشارہ کیا، وہ باہر چلی گئیں ۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے۔ مدینہ والے ایک رات یکا یک گھبرا گئے اور آواز کی طرف چل پڑے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سامنے سے آتے ہوئے ملے۔ آپؐ بات کی تحقیق کر چکے تھے۔ آپؐ حضرت ابوطلحہؓ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ جس کی پیٹھ ننگی تھی (یعنی اس پر کچھ نہ تھا۔) تلوار آپؐ کے گلے میں حمائل تھی اور آپؐ کہہ رہے تھے: ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ہم نے اس گھوڑے کو دریا پایا یا فرمایا: وہ تو ایک دریا ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سنان بن ابی سنان دئولی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف جنگ کے لئے نکلے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو وہ بھی آپؐ کے ساتھ لوٹے۔ آپؐ کو ایک وادی میں جس میں کثرت سے ببول کے درخت تھے دوپہر آگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُتر پڑے اور لوگ اِدھر اُدھر بکھر کر درختوں کے سائے میں چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ببول٭ کے نیچے ڈیرہ لگایا اور اپنی تلوار اس سے لٹکا دی اور ہم تھوڑی دیر کے لئے سوگئے۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بلا رہے ہیں اور آپؐ کے پاس ایک بدوی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس شخص نے میری تلوار مجھ پر سونت لی، جبکہ میں سو رہا تھا۔ میں جاگ اُٹھا اور وہ تلوار اس کے ہاتھ میں ننگی تھی۔ اس نے کہا: مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے تین بار کہا: اللہ۔ اور آپؐ نے اس بدوی کو سزا نہ دی۔ اور وہ بیٹھ گیا۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے سہل (بن سعد ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ اُحد میں زخمی ہونے کی نسبت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپؐ کا درمیانی دانت ٹوٹ گیا تھا اور آپؐ کے سر کا خود بھی ٹوٹ گیا تھا اور حضرت فاطمہ علیہا السلام آپؐ کے زخم کا خون دھوتی تھیں اور حضرت علیؓ آپؐ کو تھامے ہوئے تھے۔ جب حضرت فاطمہؓ نے دیکھا کہ خون بڑھ رہا ہے تو انہوں نے ایک بوریا لیا اور اسے جلا یا یہاں تک کہ بوریا راکھ ہوگیا۔ پھر انہوں نے وہ زخم پر چپکا دیا تو خون وہیں تھم گیا۔