بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
عبداللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے ابوالنضر(ہاشم بن قاسم) سے سنا۔ (کہتے تھے:) عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم (بن دینار) سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں ایک دن مورچے پر رہنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی تمہاری جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور وہ سفر جسے بندہ اللہ کی راہ میں شام یا صبح اختیار کرے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن طلحہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے طلحہ سے، طلحہ نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ ان کودوسرے صحابہ پر فضیلت ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کمزور ہیں انہی کے ذریعہ تو تمہیں نصرت ملتی ہے }اور رزق حاصل ہوتا ہے۔٭{
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں عبدالرحمن بن غسیل نے بتایا۔ انہوں نے حمزہ بن ابی اُسید سے، حمزہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن جب ہم قریش کے مقابلہ کیلئے صف بستہ کھڑے ہوئے اور وہ ہمارے مقابلہ کے لئے صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے فرمایا: جب وہ تمہاری طرف حملے کے لئے بڑھیں تو پھر تم تیروں سے حملہ کرو۔
قُتَیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب (بن عبدالرحمن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن ابی عمرو) سے، عمرو نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہؓ سے فرمایا کہ اپنے لڑکوں میں سے میرے لیے کوئی لڑکا تلاش کرو جو میری خدمت کرے تا میں خیبر کا سفر کروں۔ حضرت ابوطلحہؓ سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر لے گئے۔ میں اس وقت لڑکا تھا۔ بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا جب آپؐ اُترتے۔ میں اکثر آپؐ کو یہ دعا مانگتے سنا کرتا تھا: اے میرے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں غم و اندوہ سے درماندگی اور سستی سے اور بخل اور بزدلی اور قرضداری کے بوجھ سے اور لوگوں کی سختی سے۔ پھر ہم خیبر پہنچے۔ جب اللہ نے خیبر کا قلعہ آپؐ کو فتح کرا دیا آپؐ سے حضرت صفیہ بنت حيّ بن اَخطبؓ کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا اور ان کا خاوند مارا گیا تھا اور وہ ابھی دلہن ہی تھیں۔ پھر نبی ﷺ نے ان کو اپنے لئے منتخب کیا۔ آپؐ ان کو لے کر نکلے۔ جب ہم سدّ صہباء میں پہنچے وہ حیض سے پاک ہوئیں اور زفاف کی تقریب ہوئی۔ آپؐ نے ایک چھوٹے سے دستر خوان پر مالیدہ بنواکر رکھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: جو تمہارے آس پاس ہوں ان کو بلائو۔ تو یہ تھا ولیمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حضرت صفیہؓ کی شادی کے موقع پر کیا گیا۔ پھر ہم مدینہ کو روانہ ہوگئے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ اپنے پیچھے حضرت صفیہؓ کے لئے اپنی عباء سے گول گدا بنا دیتے اور پھر اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اوراپنے زانو جھکا دیتے اور حضرت صفیہؓ اپنے پائوں آپؐ کے زانو پر رکھ کر سوار ہوجاتیں۔ ہم سفر کرتے رہے یہاں تک کہ جب مدینہ کے پاس بلند مقام پر پہنچ گئے۔ آپؐ نے اُحد کو دیکھا تو فرمایا: یہ پہاڑ ہے کہ ہم اس کو پیارے ہیں اور وہ ہمیں پیارا ہے۔ پھر آپؐ نے مدینہ کو دیکھا ( اور دعا کی) اے میرے اللہ! اس کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان جو جگہ ہے، میں اس کوحرام قرار دیتا ہوں جیسے ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اے میرے اللہ! ان کے مُدّ میں اور ان کے صاع میں ان کے لئے برکت ڈال۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ(بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے محمد بن یحيٰ بن حبان سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت امّ حرام نے مجھے بتایا (انہوں نے کہا) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر دوپہر کو سوئے۔ پھر آپؐ جاگے اور آپؐ ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ کس بات سے ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: اپنی اُمت میں سے بعض لوگوں پر مجھے تعجب آیا جو سمندر میں اس طرح سوار ہو رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے فرمایا: تم بھی ان کے ساتھ ہی ہو۔ پھر آپؐ سو گئے۔ پھر جاگ پڑے اور آپؐ ہنس رہے تھے تو آپؐ نے پھر وہی بات فرمائی دو دفعہ یا تین دفعہ۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں وہ مجھے بھی ان میں سے کرے۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو اوّلین میں سے ہو۔ چنانچہ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے ان سے شادی کی اور وہ ان کو جنگ میں لے گئے۔ جب وہ لوٹیں تو ایک سواری ان کے قریب لائی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں۔ وہ گر گئیں اور ان کی گردن کچلی گئی۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ(بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے محمد بن یحيٰ بن حبان سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت امّ حرام نے مجھے بتایا (انہوں نے کہا) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر دوپہر کو سوئے۔ پھر آپؐ جاگے اور آپؐ ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ کس بات سے ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: اپنی اُمت میں سے بعض لوگوں پر مجھے تعجب آیا جو سمندر میں اس طرح سوار ہو رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے فرمایا: تم بھی ان کے ساتھ ہی ہو۔ پھر آپؐ سو گئے۔ پھر جاگ پڑے اور آپؐ ہنس رہے تھے تو آپؐ نے پھر وہی بات فرمائی دو دفعہ یا تین دفعہ۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں وہ مجھے بھی ان میں سے کرے۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو اوّلین میں سے ہو۔ چنانچہ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے ان سے شادی کی اور وہ ان کو جنگ میں لے گئے۔ جب وہ لوٹیں تو ایک سواری ان کے قریب لائی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں۔ وہ گر گئیں اور ان کی گردن کچلی گئی۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابرؓ سے سنا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ انہوںنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی جماعت جنگ کے لئے نکلے گی۔ ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں ایسا بھی شخص ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟ تو کہا جائے گا: ہاں۔ تو پھر اس کی وجہ سے فتح نصیب ہوگی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ پوچھا جائے گا: کیا تم میں ایسا شخص بھی ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کے ساتھ رہا ہو؟ تو کہا جائے گا: ہاں۔ پھر فتح نصیب ہوگی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کہا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو صحابہؓ کے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ رہا ہو؟ تو کہا جائے گا: ہاں۔ پھر فتح نصیب ہوگی۔
قُتَیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کا آپس میں مقابلہ ہوا اور وہ لڑے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (میدان سے ہٹ کر) اپنے لشکر کو لوٹے اور دوسرے بھی اپنے لشکرکو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں ایک شخص تھا جو مشرکوں کا اکیلا دُکیلا کوئی آدمی نہیں چھوڑتا تھا جس کا پیچھا نہ کرتا ہو، اس پر اپنی تلوار کا وار نہ کرتا ہو۔ تو انہوں نے کہا: آج جیسے فلاں نے لڑائی کا حق ادا کیا ہے ہم میں سے کسی نے نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خیال رہے وہ دوزخیوں میں سے ہے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں اس کے ساتھ رہوں گا۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے کہ وہ اس کے ساتھ گیا۔ جب کبھی وہ ٹھہرتا یہ بھی ٹھہر جاتا۔ جب وہ جلدی سے چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: آخر وہ شخص سخت زخمی ہوگیا۔ پھر اس نے جلدی مرنا چاہا۔ اپنی تلوار کا قبضہ زمین پررکھا اور اس کی نوک اپنے دونوں پستانوں کے درمیان رکھی۔ پھر اپنی تلوار پر بوجھ ڈالا اور اس طرح اپنے آپ کو مار ڈالا۔ پھر وہ شخص (جو اس کے ساتھ ہو لیا تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: ایک شخص جس کا آپؐ نے ابھی ذکر کیا تھا کہ وہ دوزخیوں میں سے ہے لوگوں نے اسے عجیب خیال کیا تھا۔ میں نے ان سے کہا تھا: میں تمہارے لئے اس کا حال معلوم کرتا ہوں۔ میں اس کی جستجو کے لئے نکلا۔ پھر وہ سخت زخمی ہوگیا اور اس نے جلدی مرنا چاہا اور اپنی تلوار کے قبضے کو زمین پر رکھا اور اس کی نوک اپنے پستانوں کے درمیان رکھی اور اس پر اپنا بوجھ ڈالا اور اپنے آپ کو مار ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ایک شخص ظاہر میں لوگوں کو جنتیوں کے کام کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے بحالیکہ وہ دوزخیوں میں سے ہوتا ہے اور کوئی شخص ظاہر میں لوگوں کو دوزخیوں کے سے کام کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے بحالیکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عُبَید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سلمہ بن اَکوع رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلہ کے چند لوگوں کے پاس سے گذرے جو تیر اَندازی میں مقابلہ کر رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسمٰعیل کے بیٹو! تیر اَندازی کرتے رہا کرو۔ کیونکہ تمہارا باپ بھی تیراَندازتھا۔ تیر اَندازی کرو اور میں بھی فلاں قبیلہ کے ساتھ شریک ہوجاتا ہوں۔ حضرت سلمہؓ کہتے تھے کہ (ہم میں سے) ایک گروہ نے اپنے ہاتھ روک لئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ تیر کیوں نہیں چلاتے؟ انہوں نے کہا: تیر کیسے چلائیں جبکہ آپؐ ان کے ساتھ ہیں۔ نبی ﷺنے فرمایا: تیر اَندازی کرو۔ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زُہری سے، زُہری نے (سعید) بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک بار حبشی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے برچھوں سے کھیل رہے تھے کہ اتنے میں حضرت عمرؓآئے۔ انہیں دیکھ کر وہ کنکریوں کی طرف جھکے اور ان کو کنکریاں پھینکیں۔ آپؐ نے فرمایا: عمرؓ! انہیں رہنے دو۔ اور علی (ابن مدینی) نے اتنا اور بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا کہ مسجد میں (کھیل رہے تھے۔) ڈھال (کا استعمال) اور جو شخص اپنے ساتھی کی ڈھال سے آڑ لے