بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
علی بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ہمیں بتایا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابی اسحق سے، ابواسحق نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمی ابورافع کی طرف بھیجے کہ اُسے قتل کردیں۔ ان میں سے ایک آدمی گیا اور اس کے قلعے میں داخل ہوا۔ وہ کہتا تھا: میں ان کے چوپائوں کے طویلے میں چلا گیا۔ کہتا تھا: ابورافع کے لوگوں نے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنے ایک گدھے کو نہ پایا تو وہ تلاش میں نکلے۔ جو لوگ نکلے تھے ان کے ساتھ میں بھی نکلا۔ میں نے انہیں جتلایا کہ گویا میں بھی ان کے ساتھ اسے تلاش کر رہا ہوں۔ انہیں گدھا مل گیا اور وہ اندر چلے گئے اور میں بھی اندر چلا گیا اور انہوںنے رات کو قلعہ کا دروازہ بندکردیا اور چابیاں ایک طاق میں رکھ دیں۔ میں دیکھ رہا تھا۔ جب وہ سوگئے تو میں نے وہ چابیاں لیں اور قلعے کا دروازہ کھولا۔ پھر ابورافع کی طرف گیا۔ میں نے اسے آواز دی۔ ابورافع نے اس کا جواب دیا۔ میں اس کی آواز پر گیا اور اس پر وار کیا۔ وہ چلایا۔ میں باہر گیا اور پھر آیا جیسے میں اس کی مدد کے لئے پہنچا ہوں۔ میں نے کہا: ابورافع اور میں نے اپنی آواز بدل لی۔ وہ بولا: تمہاری ماں پر مصیبت آئے تم کہاں تھے؟ میں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگا: میں نہیں جانتا کون میرے پاس آیا اور اس نے مجھ پر وار کیا۔ اس نے کہا: یہ سن کر میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھی اور پھر جھک کر بوجھ ڈالا تو وہ ہڈی سے جا ٹکرائی۔ اس کے بعد میں وہاں سے نکلا اور میں سراسیمہ تھا۔ جب ان کی سیڑھی سے اترنے لگا تو میں گر پڑا۔ میرے پائوں میں موچ آگئی۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا: میں یہاں سے نہیں جائوں گا جب تک کہ موت کی خبر دینے والے کی آواز نہ سن لوں۔ چنانچہ میں وہاں سے نہ گیا جب تک کہ ابورافع تاجر اہل حجاز کی موت کی خبر دینے والیوں کی آواز نہ سن لی۔ وہ (صحابی) کہتے تھے: میں یہ خبر سن کر اُٹھا اور مجھے درد کی تکلیف نہ رہی اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپؐ سے سب واقعہ بیان کیا۔
اور ابوعامر (عبدالملک بن عمرو) نے کہا: ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرو اور اگر ان سے مقابلہ ہوجائے تو پھر استقلال دکھائو۔
اور آپؐ نے لڑائی کا نام دائوپیچ رکھا۔
ابوبکر بن اَصرم جن کا نام بور ہے، نے ہم سے بیان کیاکہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کا نام دائوپیچ رکھا ہے۔ طرفہُ: ۳۰۲۸۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لڑائی ایک دائوفریب ہے۔ لڑائی میں جھوٹ بولنا
عبداللہ بن محمد نے مجھے بتایا۔ یحيٰ بن آدم نے مجھ سے بیان کیاکہ یحيٰ بن ابی زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابواسحق سے، ابواسحق نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوںنے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ انصاری لوگوں کو ابو رافع کی طرف بھیجا تو عبداللہ بن عتیکؓ رات کو اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کو جبکہ وہ سویا ہوا تھا مار ڈالا۔
(تشریح)یوسف بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ عاصم بن یوسف یربوعی نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحق فزاری نے ہمیں بتایا، (کہا:) موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:سالم ابو النضر نے مجھ سے بیان کیا جو عمر بن عبید اللہ کے آزاد کردہ غلام تھے کہ میں عمر بن عبیداللہ کا محرر تھا۔ انہوں نے کہاکہ جب وہ خوارج کی طرف گئے تو حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیؓ نے انہیں (خط) لکھا۔ میں نے اسے پڑھا تو اس میں تھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ان جنگوں میں سے جو آپؐ نے دشمن سے کیں ایک جنگ میں اس وقت تک انتظار کیا کہ سورج ڈھل گیا۔
پھر آپؐ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگتے رہو اور اگر ان سے مقابلہ ہو جائے تو پھر استقلال دکھائواور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اے اللہ، کتاب کے نازل کرنے والے، بادلوں کے چلانے والے اور فوجوں کو شکست دینے والے! ان کو شکست دے اور ان کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا: سالم ابو نضر نے مجھ سے بیان کیا: میں عمر بن عبیداللہ کا محرر تھاکہ اُن کے پاس حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا خط آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرو۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اشرف سے کون نپٹے گا؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کی ایذاء دہی میں حدکردی ہے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اسے مار ڈالوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ محمدبن مسلمہؓ کعب کے پاس آئے اور کہنے لگے: اس شخص نے یعنی نبی ﷺ نے ہمیں جان جوکھوں میں ڈال دیا ہے اور ہم سے صدقہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ کعب نے کہا: بخدا اَبھی تو اور بھی مصیبت اُٹھائو گے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: ہم اب اس کے پیچھے لگ چکے ہیں، اس لئے ہم بری بات سمجھتے ہیں کہ اس کو چھوڑ دیں جب تک کہ دیکھ نہ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے تھے کہ مسلمہؓ اس سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ اس کو اپنے قابو میں کرلیا اور پھر اس کو مار ڈالا۔