بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ (دوسری سند) اور محمود بن غیلان نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے ابن مسیب سے، ابن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ( ایک جنگ میں) تھے۔ آپؐ نے ایک شخص کے متعلق جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا فرمایا: یہ دوزخیوں میں سے ہے۔ جب مقابلے کا موقع آیا تو وہ سختی سے لڑا اور اس کو زخم لگے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ شخص جس کے متعلق آپؐ نے فرمایاتھا کہ وہ دوزخیوں میں سے ہے وہ آج خوب لڑا اور مرگیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: دوزخ ہی کو سدھارا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: یہ سن کر قریب ہی تھا کہ بعض لوگ شک میں پڑجائیں۔ اسی اثناء میں کہ وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ کسی نے کہا: وہ مرا نہیں بلکہ اس کو سخت زخم لگے ہیں۔ جب رات ہوئی تو وہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرسکا اور اس نے خودکشی کرلی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق خبردی گئی تو آپؐ نے فرمایا: اللہ اکبر میں اقرار کرتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا اور انہوں نے لوگوں میں یہ منادی کی: یاد رکھو جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر وہی نفس جو فرمانبردار ہو اور اللہ کبھی اپنے دین کی فاجر کے ذریعہ بھی تائید فرماتا ہے۔
(تشریح)ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انسؓ نے انہیں خبردی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ میں جہاں آپؐ نے حنین کا مالِ غنیمت تقسیم کیا تھا، عمرہ کا احرام باندھا۔
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ (اسماعیل بن ابراہیم) ابن علیہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے حُمَید بن ہلال سے، حُمَید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں سے) مخاطب ہوئے اور فرمایا: زیدؓ نے جھنڈا لیا اور وہ شہید ہوئے۔ پھر جعفرؓ نے اسے لیا اور وہ شہید ہوئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے اسے لیا اور وہ شہید ہوئے۔ پھر خالد بن ولیدؓ نے اسے لیا بغیر اس کے کہ وہ امیر مقرر کئے گئے ہوں اور ان کے ہاتھ پر اللہ نے فتح دی۔ مجھے اس امر سے خوشی نہیں یا فرمایا: انہیں اس امر سے خوشی نہیں کہ وہ ہمارے پاس ہوتے۔ آپؐ نے یہ فرمایا اور آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن ابی عدی اور سہل بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ان دونوں نے سعید (بن ابی عروبہ) سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رعل، ذکوان، عصیہ اور بنولحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور کہا کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور انہوں نے آپؐ سے اپنی قوم کے مقابلہ کے لئے مدد مانگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ستر انصار صحابہ سے مدد کی۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ دن کو وہ لکڑیاں لاتے اور رات کو نمازیں پڑھتے۔ وہ لوگ انہیں لے گئے جب بئر معونہ پر پہنچے تو انہوں نے ان سے غداری کی اور انہیں مار ڈالا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک نماز میں کھڑے ہوکر رِعل، ذکوان اور بنی لحیان کے لئے بددعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا: اور حضرت انسؓ نے ہم سے بیان کیا کہ صحابہ ان لوگوں سے متعلق قرآن کی آیت سمجھ کر یہ پڑھنے لگے:ہماری طرف سے ہماری قوم کو کہہ دو کہ ہم اپنے ربّ سے جا ملے ہیں۔ وہ ہم سے خوش ہوا اور ہمیں خوش کردیا۔ بعد میں یہ شبہ دورکردیا گیا (کہ یہ قرآنِ مجید کی آیت نہیں۔)
(تشریح)محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ رَوح بن عبادہ نے ہمیں بتایا۔ سعید (بن ابی عروبہ) نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے ذکر کیا۔ انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابوطلحہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب آپؐ کسی قوم پر غالب ہوتے تو میدان میںتین دن اور تین راتیں ٹھہرتے۔ رَوح بن عبادہ کی طرح معاذ اور عبدالاعلیٰ نے بھی یہی روایت بیان کی۔ (ان دونوں نے کہا:) سعید نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس ؓسے، حضرت انسؓ نے حضرت ابوطلحہؓ سے، حضرت ابوطلحہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ طرفہُ: ۳۹۷۶۔
(تشریح)ابن نمیر نے کہا کہ عبیداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ان کا ایک گھوڑا کہیں چلا گیا اور دشمن نے اسے پکڑ لیا۔ پھر مسلمان ان پر غالب آئے اور وہ گھوڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں انہیں دلایا گیا اور ان کا ایک غلام فرار ہوگیا اور رومیوں سے جا ملا۔ پھر مسلمان ان پر غالب آگئے (اور وہ غلام پکڑا گیا۔) حضرت خالد بن ولیدؓ نے وہ غلام ان کو واپس دلادیا۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ذکر ہے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی کہ انہوںنے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمرؓ کا ایک غلام فرار ہوگیا اور رومیوں کی طرف چلا گیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ رومیوں پر غالب آئے اور انہوں نے حضرت عبداللہؓ کو غلام واپس دلادیا اور حضرت ابن عمرؓ کا ایک گھوڑا بھاگ نکلا اور رومیوں کے لشکر میں جاپہنچا۔ پھر (حضرت خالد بن ولیدؓ) ان پر غالب آئے اور انہوں نے وہ گھوڑا حضرت عبداللہؓ کو دے دیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: عَارَ ، عَیْر سے مشتق ہے اور اس سے مراد جنگلی گدھا ہے یعنی جب وہ بھاگ جائے۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جس دن مسلمانوں کا (رومیوں سے) مقابلہ ہوا، وہ گھوڑے پر سوار تھے۔ ان دِنوں حضرت خالد بن ولیدؓ مسلمانوں کی فوج کے سردار تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان کو امیر بنا کر بھیجا تھا۔ دشمن نے وہ گھوڑا پکڑ لیا۔ جب دشمن کو شکست دے کر بھگا دیا گیا تو حضرت خالدؓ نے ان کا گھوڑا واپس کردیا۔
(تشریح)عمروبن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ہمیں خبردی کہ سعید بن میناء نے ان کو بتایا، کہا: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے میں نے سنا۔ وہ کہتے تھے میں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے بکری کا ایک چھوٹا سا بچہ ذبح کیا ہے جو ہمارا ہی تھا اور ایک صاع جو بھی پیسے ہیں۔ اس لئے آپؐ اور کچھ لوگ تشریف لائیں۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اور فرمایا: اے خندق والو! جابر نے ضیافت تیار کی ہے آئوچلو، جلدی کرو۔
حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن سعید سے، خالد نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ام خالد بنت خالد بن سعیدؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور میں زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سَنَہْ سَنَہْ۔ عبداللہ کہتے تھے: یہ لفظ حبشی زبان میں حَسَنَۃ کا ہم معنی ہے۔ یعنی نہایت عمدہ ہے، نہایت عمدہ ہے۔ وہ کہتی تھیں: میں مہرنبوت سے کھیلنے لگی تو میرے باپ نے مجھے جھڑکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا دی: نت نئے کپڑے پہنتی رہو۔ نت نئے کپڑے پہنتی رہو۔ نت نئے کپڑے پہنتی رہو۔ عبداللہ کہتے تھے کہ وہ اس وقت تک زندہ تھیں جب راوی نے ان کے لمبے عرصہ تک زندہ رہنے کا ذکر کیا۔