بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے، محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت حسن بن علیؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈالی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فارسی میں ان سے فرمایا: کِخْ کِخْ۔ یعنی چھی چھی۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحیان (یحيٰ بن سعید) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوزُرعہ نے مجھ سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: نبی ﷺ ہم میں کھڑے ہوئے اور غنیمت کے مال میں خیانت کرنے کا ذکر فرمایاا ور اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا اور اس کی سزا بہت بڑی قرار دی۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن ایسی حالت میں نہ پائوں کہ اس کی گردن پر }بکری سوار ہوجوممیا رہی ہو یا اس کی گردن پر٭{ گھوڑا ہو جو ہنہنا رہا ہو۔ وہ شخص مجھ سے کہہ رہا ہو: یا رسول اللہ! میری مدد کیجئے اور میں کہوں: تمہارے لئے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تمہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا۔ یا اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو جو بلبلا رہا ہو اور وہ شخص مجھ سے کہہ رہا ہو: یا رسول اللہ! میری مدد کیجئے اور میں کہوں کہ میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تمہیں (اللہ کا حکم) پہنچا دیا تھا۔ یا اس کی گردن پر سونا چاندی لادے ہوئے ہوں اور وہ کہہ رہا ہو: یا رسول اللہ! میری مددکو پہنچیں اور میں کہوں: میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے تمہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا۔ یا اس کی گردن پر کپڑوں کے ٹکڑے لادے ہوں جو ہوا سے اُڑ رہے ہوںاور وہ کہے: یا رسول اللہ! میری مدد کو پہنچیں اور میں کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے تمہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا۔ اور ایوب نے ابوحیان سے یہی نقل کیا کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہوجو ہنہنا رہا ہو۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے سالم بن ابی الجعد سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان پر ایک شخص مقرر تھا جسے کِرْکِرَہ کہتے تھے اور وہ مرگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دوزخ ہی میں گیا ہے۔ یہ سن کر لوگ اس کو دیکھنے کے لئے گئے اور انہوں نے اس کے پاس ایک عبا پائی جو اس نے غنیمت کے مال سے چرائی تھی۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: (محمد) بن سلام نے کِرْکِرَہ کی بجائے کَرْکَرَہ ک کی زبر سے نقل کیا ہے اور یہ تلفظ اسی طرح درست ہے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن مسروق سے، سعید نے عبایہ بن رفاعہ سے، عبایہ نے اپنے دادا حضرت رافع (بن خدیجؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ذوالحلیفہ میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو بھوک لگی اور ہم نے کچھ اونٹ اور بکریاں غنیمت میں پائی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے لوگوں میں تھے۔ لوگوں نے جلدی کی اور ہانڈیاں چڑھا دیں۔ آپؐ نے ہانڈیوں کی نسبت حکم دیا تو وہ انڈیل دی گئیں۔ پھر آپؐ نے مالِ غنیمت کو تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر ٹھہرایا۔ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لشکر میں گھوڑے کم تھے۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا تو اس نے ان کو تھکا دیا۔ یہ دیکھ کر ایک شخص نے ہاتھ بڑھایا اور ایک تیرچلایا۔ اللہ نے اس اونٹ کو وہیں روک دیا۔ آپؐ نے فرمایا: ان جانوروں میں سے بھی بعض جنگلی جانوروں جیسے ہوتے ہیں جو قابو میں نہیں آتے۔ اس لئے جو جانور بھاگ کر تمہارے قابو سے نکل جائے تو تم اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔ (یعنی تیر مار کر گرا لو۔ عبایہ کہتے تھے:) میرے دادا نے کہا: ہم امید کرتے ہیں یا کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کل دشمن سے ہمارا مقابلہ ہو اور ہمارے پاس چھریاں نہیں تو کیا ہم کھپانچ (سرکنڈے) ہی سے ذبح کرلیں۔ آپؐ نے فرمایا: جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے وہ کھالو۔ مگر دانت اور ناخن سے ذبح کرنا درست نہیں اور میں اس کی وجہ بتائے دیتا ہوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا ،کہا: ہم سے یحيٰ (قطان) نے بیان کیا۔ ہمیں اسماعیل (بن ابی خالد) نے بتایا، کہا: قیس (بن ابی حازم) نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے کہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم ذوالخلصہ سے مجھے چھٹکارا نہیں دلائو گے اور یہ ایک بت خانہ تھا جو قبیلہ خثعم نے بنایا تھا۔ اسے یمنی کعبہ کہتے تھے۔ میں اَحمس قبیلہ کے ایک سو پچاس مردلے کر چل پڑا۔ یہ سب اچھے سوار تھے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔ آپؐ نے میرے سینہ پر زور سے ہاتھ مارا۔ یہاں تک کہ میں نے آپؐ کی انگلیوں کے نشان اپنے سینہ پر دیکھے اور آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! اسے گھوڑے پر جم کر بیٹھنے کی توفیق دے اور اسے راہنمابنا اور صحیح راستہ پر چلا۔ چنانچہ وہ اس بت خانہ کی طرف چلے گئے اور جا کر اسے توڑ ڈالا اور اس کو جلا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آدمی بھیجا کہ آپؐ کو خوشخبری دے۔ حضرت جریرؓ کے پیغامبر نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں آپؐ کے پاس اس وقت تک نہیں آیا جب تک کہ اس بت خانہ کو ایسی حالت میں نہیں چھوڑا جیسے خارشی اونٹ ہوتا ہے۔ آپؐ نے احمس قبیلے کے سواروں اور ان کے مردوں کو پانچ٭ بار برکت کی دعا دی۔ مسدد نے اپنی روایت میں کَانَ بَیْتًا فِیْہِ خَثْعَمُ کی جگہ بَیْتٌ فِیْ خَثْعَمَ نقل کیا ہے۔ یعنی خثعم قبیلہ میں بت خانہ تھا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے خالد سے، خالد نے ابوعثمان نہدی سے، نہدی نے حضرت مجاشع بن مسعودؓسے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت مجاشعؓ اپنے بھائی حضرت مجالدبن مسعودؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یہ مجالد ہے، آپؐ سے ہجرت کرنے پر بیعت کرتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد اَب کوئی ہجرت نہیں۔ لیکن میں اس سے اسلام پرقائم رہنے کی بیعت لیتا ہوں۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے خالد سے، خالد نے ابوعثمان نہدی سے، نہدی نے حضرت مجاشع بن مسعودؓسے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت مجاشعؓ اپنے بھائی حضرت مجالدبن مسعودؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یہ مجالد ہے، آپؐ سے ہجرت کرنے پر بیعت کرتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد اَب کوئی ہجرت نہیں۔ لیکن میں اس سے اسلام پرقائم رہنے کی بیعت لیتا ہوں۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) اور ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے سنا۔ کہتے تھے کہ میں عبیدبن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور وہ ثبیر (پہاڑ) کے قریب مقیم تھیں۔ انہوں نے ہم سے کہا: جب سے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو مکہ فتح کرایا ہے ہجرت موقوف ہوگئی ہے۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ بن حوشب طائفی نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ حصین (بن عبدالرحمن) نے ہمیں خبردی کہ انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابوعبدالرحمن سے روایت کی اور وہ حضرت عثمانؓ کے حامی تھے۔ انہوں نے ابن عطیہ سے جو حضرت علیؓ کے حامی تھے، کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ کس بات نے تمہارے ساتھی کو خونریزی کرنے کی جرأت دلائی ہے۔ میں نے ان کو یہ کہتے سنا کہ نبی ﷺ نے مجھے اور زبیرؓ کو بھیجا اور فرمایا: فلاں باغیچہ میں جائو اور وہاں تم ایک عورت پائو گے۔ حاطبؓ نے اسے ایک خط دیا ہے۔ }چنانچہ ہم اس باغیچہ میں پہنچے٭{ اور ہم نے کہا: خط نکالو۔ کہنے لگی: مجھے تو(حاطب نے کوئی خط) نہیں دیا۔ ہم نے کہا: تمہیں خط نکالنا ہوگا۔ ورنہ میں تمہیں برہنہ کرتا ہوں۔ یہ سن کر اس نے اپنے نیفے سے وہ خط نکالا۔ (ہم نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے) آپؐ نے حاطبؓ کو بلا بھیجا۔ انہوں نے عرض کیا: حضور آپؐ جلدی نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم! میں کافر نہیں ہوں اور میں اسلام کی محبت میں بڑھا ہوا ہوں۔ آپؐ کے صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا مکہ میں کوئی نہ کوئی تعلق والا نہ ہو جس کے ذریعہ سے اللہ اس کے بال بچوں اور جائیداد کی حفاظت کر رہا ہے اور میرا وہاں کوئی نہیں۔ میں نے چاہا کہ مکہ والوں پر کوئی احسان کردوں۔ نبی ﷺ نے انہیں سچا قرار دیا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ کیونکہ اس نے منافقت کی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا علم؟ شاید اللہ نے بدر والوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا ہو: تم جو چاہو کرو۔ سو یہ بات تھی جس نے حضرت علیؓ کو خونریزی پر جرأت دلائی ہے۔
(تشریح)