بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
محمد بن سنان نے ہمیں بتایا کہ فلیح نے ہم سے بیان کیا کہ ہلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: میں اپنے پیچھے جس بات سے تمہارے لئے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ زمین کی برکتیں تمہارے لئے کھول دی جائیں گی۔ پھر آپؐ نے دنیا کی آرائش کا بیان کیا۔ آپؐ نے ایک بات بیان کی اور پھر دوسری۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا خیر شر لے کر آئے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اُسے جواب نہ دیا۔ ہم سمجھے کہ آپؐ کو وحی ہو رہی ہے اور لوگ ساکت رہے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ پھر آپؐ نے اپنے چہرہ سے پسینہ پونچھا اور فرمایا: کہاں ہے وہ شخص جو اَبھی پوچھ رہا تھا (کہ کیا خیر بھی شر لائے گا؟) حضورؐ نے تین دفعہ یہ فرمایا: (پھر فرمایا:) بھلائی تو بھلائی ہی کو لاتی ہے مگر یہ تو دیکھو کہ جب موسم بہار میں گھاس اُگتی ہے تو وہ اس (جانور) کو مار ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب کردیتی ہے جسے کھانے سے اپھارہ ہوجاتا ہے۔ مگر وہ (جانور) جو ہری گھاس٭ کھاتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے جا کھڑا ہوتا ہے اور بول وبراز کرتا ہے۔ پھر چرتا پھرتا ہے (تو وہ بچ جاتا ہے) دیکھو یہ مال بھی ہرابھرا اور میٹھا ہے اور مسلمان کا اچھا رفیق ہے خصوصاً اس کا جس نے اس کو جائز طریق سے لیا اور اسے اللہ کی راہ میں اور یتیموں اور مسکینوں کے لئے خرچ کردیا اور جس نے اس کو اس کے صحیح طریقہ سے نہ لیا تو وہ اس (بیمار) پیٹو کھانے والے کی طرح ہے جو سیر نہیں ہوتا اور وہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہ ہوگا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحق بن عبداللہ سے، اسحق نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی گھر نہیں جایا کرتے تھے سوائے اُمّ سُلَیمؓ کے یا اپنی ازواج کے گھر کے۔ آپؐ سے پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: مجھے اس پر رحم آتا ہے۔ اس کا بھائی (حرام بن ملحانؓ) میری معیت میں مارا گیا۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوشہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، خالد نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت مالک بن حویرثؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹا تو آپؐ نے مجھے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا: تم دونوں اذان دینا اور اقامت کہنا اور چاہیے کہ تم دونوں میں سے جو بڑا ہو وہ نماز میں امام بنے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں سے بھلائی قیامت تک بندھی ہوئی ہے۔ طرفہُ: ۳۶۴۴۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابوتیاح سے، ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برکت تو گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔ طرفہُ: ۳۶۴۵۔
(تشریح)ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا کہ حسین (بن ذکوان) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یحيٰ (بن ابی کثیر) نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ابوسلمہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بسر بن سعید نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کو سازوسامان سے تیار کیا تو گویا خود ہی جنگ کے لئے نکلا اور جس شخص نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کی اچھی جانشینی کی تو گویا وہ خود بھی جنگ کے لئے نکلا۔
عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہمیں بتایا کہ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن انس سے روایت ہے۔ وہ یمامہ کی جنگ کا ذکر کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت انس بن مالکؓ حضرت ثابت بن قیسؓ کے پاس آئے۔ حضرت ثابتؓ نے اپنی رانوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا اور وہ حنوط لگا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: چچا کس بات نے آپؓ کو روک رکھا ہے کہ نہیں آتے؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے ابھی آتا ہوں اور وہ حنوط لگانے لگے۔ یعنی وہ خوشبو جو مُردوں کو لگائی جاتی ہے۔ پھر وہ آئے اور بیٹھ گئے۔ حضرت انسؓ نے اس حدیث میں بیان کیا ہے کہ لوگوں کی طرف سے جنگ میں کچھ کمزوری کا اظہار ہوا اور وہ پسپا ہونے لگے تو حضرت ثابتؓ نے کہا: ہمارے سامنے سے ہٹ جائو کہ ہم ان لوگوں کا مقابلہ کریں۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو کر اس طرح نہیں لڑا کرتے تھے۔ تم نے اپنے مدمقابل کے لوگوں کی عادت کیسی بگاڑ دی ہے۔ اس حدیث کو حماد نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کیا۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، محمد بن منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ ِ احزاب میں فرمایا: کون میرے پاس اس قوم کی خبر لائے گا؟ زبیرؓ نے کہا: مَیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کون میرے پاس (چڑھائی کرنے والی) قوم کی خبر لائے گا؟ زبیرؓ نے کہا: مَیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک نبی کا ایک حواری یعنی سچا مددگار ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرؓ ہے۔
صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ ابن منکدر نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو پکارا (کہ بنی قریظہ کی خبر لائیں) صدقہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپؐ نے یہ بات غزوئہ خندق میں فرمائی تو حضرت زبیرؓ نے اپنے آپ کو اس کام کیلئے پیش کیا۔ پھر آپؐ نے لوگوں کو پکارا۔ پھر حضرت زبیرؓ نے اپنے آپ کوپیش کیا۔ پھر آپؐ نے لوگوں کو پکارا تو پھر حضرت زبیرؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری (یعنی مخلص مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرؓ بن عوام ہے۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیاکہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمن) اور (عبداللہ) بن ابی سفر سے، انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عروہ بن جعدؓ سے، حضرت عروہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن تک بھلائی گھوڑوں کی پیشانیوں سے بندھی رہے گی۔ سلیمان (بن حرب) نے اس حدیث کو شعبہ سے، شعبہ نے حضرت عروہ بن ابی جعدؓ سے نقل کیا۔ اور سلیمان کی طرح مسدد نے بھی ہشیم سے، ہشیم نے حصین (بن عبد الرحمن)سے، حصین نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عروہ بن ابی جعدؓ سے روایت کی۔