بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے ہمیں بتایا کہ عامر (شعبی) سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) حضرت عروہ بارقی ؓ نے ہم سے بیان کیاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تک بھلائی گھوڑوں کی پیشانیوں سے بندھی رہے گی۔ یعنی (آخرت میں) ثواب اور (دنیا میں) مالِ غنیمت۔
(تشریح)علی بن عبداللہ بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ معن بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ اُبیَّ بن عباس بن سہل نے مجھیبتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا (حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھوڑا ہمارے باغ میں تھا جسے لُحَیف کہتے تھے۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور ان میں سے بعض نے کہا: لُخَیف۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (کہا:) میں نے قتادہ سے سنا۔ وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: مدینہ میں گھبراہٹ ہوئی تو نبی
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: نحوست تو تین ہی چیزوں میں ہوتی ہے؛ گھوڑے، عورت اورمکان میں۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوحازم بن دینار سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی چیز میں (نحوست) ہے تو پھر عورت میں ہے اور گھوڑے میں اور گھر میں۔ طرفہُ: ۵۰۹۵۔ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: ہم نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے کہ تم ان پر سوا ر ہو اور ان کو زینت کا موجب بنایا ہے۔ نیز وہ (تمہارے لیے) وہ بھی پیدا کرے گا جسے تم نہیں جانتے۔
علی بن حفص نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) بن مبارک نے ہم سے بیان کیا کہ طلحہ بن ابی سعید نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے سعید مقبری کو بیان کرتے سنا کہ انہوں نے حضرت ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں اللہ پر ایمان رکھتے اور اس کے وعدہ کو سچا سمجھتے ہوئے گھوڑا باندھے رکھا تو اس گھوڑے کا پیٹ بھر کر کھانا اور پینا اور اس کی لید اور اس کا پیشاب قیامت کے دن اس کی نیکیوں کے حساب میں شمار ہوگا۔ أطرافہُ: ۲۳۷۱، ۲۸۶۰، ۳۶۴۶، ۴۹۶۲، ۴۹۶۳، ۷۳۵۶۔
(تشریح)محمد بن ابی بکر نے ہم سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ایک سفر میں) نکلے اور حضرت ابوقتادہؓ اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔ ان کے ساتھی تو احرام باندھے ہوئے تھے مگر وہ خود محرم نہ تھے۔ ان کے ساتھیوں نے ایک گورخر دیکھا پیشتر اس کے کہ حضرت ابوقتادہؓ اسے دیکھتے۔ جب ان کے ساتھیوں نے اسے دیکھا تو اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ مگر جب حضرت ابوقتادہؓ نے اسے دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے جسے جرادہ کہتے تھے۔ حضرت ابوقتادہؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کا کوڑا تو ان کو دے دیں۔ انہوں نے انکار کیا تو انہوں نے خود ہی لے لیا اور حملہ کرکے اسے شکار کرلیا۔ حضرت ابوقتادہؓ نے بھی کھایا اور ان کے ساتھیوں نے بھی کھایا اور اس کے بعد وہ آئے٭ اور آنحضرت ﷺ سے ملے تو آپؐ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ حضرت ابوقتادہؓ نے کہا: اس کی ایک ران ہے تو نبی ﷺ نے وہ لے لی اور اس میں سے کھایا۔
اسحق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے یحيٰ بن آدم سے سنا۔ (یحيٰ نے کہا:) ابوالاحوص نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحق سے، ابواسحق نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت معاذ (بن جبل) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا۔ جسے عُفَیر کہتے تھے۔آپؐ نے فرمایا: معاذ! کیاتم جانتے ہو جو اللہ کا حق اس کے بندوں پر ہے اور جو بندوں کا حق اللہ پر ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا حق تو بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو سزا نہ دے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! کیا میں لوگوں کو اس بات کی خبر نہ دوں؟ آپؐ نے فرمایا: ایسا نہ کرو ورنہ وہ بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور دوسرے اعمالِ خیر میں کوشش کم کر دیں گے۔)
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لئے ہوتے ہیں۔ ایک کے لئے تو وہ موجب ثواب ہیں اور ایک کے لئے بطور پردہ ہیں اور ایک کے لئے وبال۔ جس کے لئے موجب ثواب ہیں وہ ایسا شخص ہے جس نے ان کو اللہ کی راہ میں باندھا اور ان کی رسی مرغزار یا باغ میں لمبی کردی اور جہاں تک رسی کی لمبان میں باغ یا مرغزار میں چریں گے تو اسی قدر (لمبائی کے مطابق) اس کے لئے نیکیاں ہوں گی اور اگر انہوں نے اس کی رسی توڑ دی اور ایک میل یا دومیل کلیلیں کرتے ہوئے بھاگ گئے تو ان کی لِید اور ان کے قدموں کے نشان اس کے لئے نیکیوں کا موجب ہوں گے۔ اگر وہ کسی ندی پر سے گذریں گے اور ان سے پانی پئیں گے اور وہ شخص نہ چاہتا ہوگا کہ اس سے پانی پئیں تو یہ اَمر بھی اس کے لئے نیکی کا موجب ہو گا۔اور وہ شخص جس کے لیے یہ وبال ہوں گے تو وہ ایسا شخص ہے جس نے ان کو فخر اور دکھلاوے اور مسلمانوں سے دشمنی کرنے کے لئے باندھا ہے۔ وہ ایسے شخص کے لئے وبال ہوں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کی بابت پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: مجھ پر ان کے بارے میں سوائے اس ایک جامع آیت کے کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ یعنی جو ذرہ بھر نیکی کرے گا وہ اس کے ثواب کو حاصل کرے گا اور جو ذرہ بھر بدی کرے گا وہ اس کے عذاب کو دیکھ لے گا۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعقیل (بشیر بن عقبہ) نے ہمیں بتایا کہ ابوالمتوکل ناجی (علی بن دائود) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ کے پاس آ یا اور ان سے کہا: آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات سنی ہو بیان کریں۔ حضرت جابرؓ نے کہا: میں ایک سفر میں آپؐ کے ساتھ تھا۔ ابوعقیل (راوی) کہتے تھے: میں نہیں جانتا سفر جنگ کا تھا یا عمرہ کا۔ جب ہم (مدینہ کی طرف) لوٹے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر والوں کے پاس جلدی جانا چاہتا ہو وہ جلدی چلاجائے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: (یہ سن کر) ہم (جلدی) چلے اور میں اپنے ایک اونٹ پر سوار تھا جس کا رنگ خاکی تھا؛ کوئی داغ نہ تھا اور لوگ میرے پیچھے تھے۔ میں اسی طرح جارہا تھا کہ وہ اونٹ اَڑگیا۔ میرے چلانے سے نہ چلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: جابر اسے تھامو۔ یہ کہہ کر آپؐ نے اس کو اپنے کوڑے کی ایک ضرب لگائی تو وہ اونٹ اپنی جگہ سے کود کر چل پڑا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اس اونٹ کو بیچتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں بیچتا ہوں۔ جب ہم مدینہ پہنچے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی صحابہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے تو میں بھی آپؐ کے ساتھ گیا اور اس اونٹ کو مسجد کے سامنے پتھر کے فرش کے ایک کونے میں باندھ دیا اور میں نے آپؐ سے کہا: یہ آپؐ کا اونٹ ہے۔ آپؐ باہر نکلے اور اس اونٹ کے اردگرد پِھر کر فرمایا: یہ اونٹ ہمارا اونٹ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے کئی اوقئے بھیجے اور فرمایا: یہ جابر کو دے دو۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے قیمت پوری کی پوری لے لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ قیمت اور یہ اونٹ تمہار ا ہے۔