بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
: عبداللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا: انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے ابواسحاق سے، انہوں نے حضرت براء (بن عازبؓ) سے۔ (امام بخاریؒ نے کہا:) ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، (کہا:) ہمیں سفیان (ثوری) نے خبردی۔ انہوں نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم کہا کرتے تھے کہ بدر کی جنگ میں شامل ہونے والے تین سو دس سے کچھ اوپر تھے۔ جتنی تعداد میں طالوت کے وہ ساتھی تھے جنہوں نے ان کے ساتھ دریا عبور کیا اور ان کے ساتھ صرف اسی نے دریا عبور کیا تھا جو مومن تھا۔
(تشریح)(محمد بن عبداللہ) بن نُمَیر نے ہم سے بیان کیا۔ ابواسامہ نے ہمیں بتایا:اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہم سے بیان کیا کہ قیس (بن ابی حازم) نےہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) ؓ سے روایت کی کہ وہ جنگ بدر کے دن ابوجہل کے پاس آئے اور ابھی اس میں کچھ جان باقی تھی، ابوجہل نے کہا:کتنا بڑا وہ شخص ہے جسے تم نے قتل کیا ہے؟
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہا کہ میں نے یوسف بن ماجشون سے سن کر یہ حدیث لکھی۔ انہوں نے صالح بن ابراہیم سے، صالح نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا (حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ) سے روایت کرتے ہوئے غزوۂ بدر سے متعلق یہی بیان کیا یعنی عفراء کے دو بیٹوں کا واقعہ۔
عمرو بن خالد (حرانی) نے مجھے بتایا کہ زُہَیر (بن معاویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق (سبیعی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف منہ کیا اور قریش کے بعض لوگوں پر بددعا کی یعنی شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ اور ابوجہل بن ہشام پر۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں:) میں اللہ کی قسم کھا کر شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بدر کے میدان میں انہیں خود پچھڑے ہوئے دیکھا۔ دھوپ نے ان کی شکلیں بگاڑ دیں تھیں اور وہ نہایت گرم دن تھا۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہَیر (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا (کہا:) سلیمان تیمی نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ نے ان کو بتایا، وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ نے فرمایا... (امام بخاریؒ کہتے ہیں:) عمرو بن خالد نے بھی مجھ سے بیان کیاکہ زُہَیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان تیمی سے، سلیمان نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ نے (جنگ بدر کے دن) فرمایا: کون دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا حال ہوا ہے؟ حضرت ابن مسعودؓ گئے اور جا کر دیکھا کہ اس کو عفراء کے دونوں بیٹوں(معاذ اور معوذ) نے (تلواروں سے) اتنا مارا ہے کہ وہ مرنے کے قریب ہوگیا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے پوچھا: کیا تم ابوجہل ہو؟ حضرت ابن مسعودؓ کہتے تھے کہ انہوں نے ابوجہل کی داڑھی پکڑی۔ ابوجہل کہنے لگا: کیا اُس سے بڑھ کر بھی کوئی شخص ہے جس کو تم نے مارا ؟ یا یہ کہا کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ہے جس کو اس کی قوم نے مارا ہو؟ احمد بن یونس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ الفاظ کہے کہ تم ہی ابوجہل ہو(یعنی بغیر استفہام کے۔)
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیاکہ ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا کہ سلیمان تیمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا: انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن فرمایا: کون دیکھے گا کہ ابوجہل کس حالت میں ہے؟ یہ سن کر (حضرت عبداللہ) بن مسعودؓ گئے اور دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے اتنا مارا تھا کہ وہ زخموں سے نڈھال ہورہا تھا۔ انہوں نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا: کیا تم ابوجہل ہو؟ اس نے جواب دیا: کیا اس شخص سے بھی کوئی بڑھ کر ہے جس کو اُس کی قوم نے مارا؟ یا یہ کہا کہ جس کو تم نے مارا ہو؟ (محمد) بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ معاذ بن معاذ نے ہمیں خبر دی کہ سلیمان (تیمی) نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالکؓ نے ہمیں اسی طرح بتایا۔
محمد بن عبداللہ رقاشی نے مجھ سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا وہ کہتے تھے: ابومجلز(لاحق بن حمید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قیس بن عباد سے، قیس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: قیامت کے دن میں پہلا شخص ہوں گا جو جھگڑا چکا نے کے لئے رحمٰن خدا کے سامنے دو زانو ہوکر بیٹھوں گا۔ قیس بن عباد کہتے تھے: انہی لوگوں سے متعلق یہ آیت نازل کی گئی: یہ دوباہم مخالفت کرنے والے گروہ ایسے ہیں جو اپنے ربّ کے بارہ میں جھگڑ رہے ہیں۔ کہتے تھے: یہ وہی لوگ ہیں جو بدر کے دن میدان جنگ میں ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے نکلے۔ (مسلمانوں کی طرف سے ) حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہؓ یا کہا حضرت ابوعبیدہ بن حارثؓ اور (کافروں کی طرف سے) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوہاشم سے، ابوہاشم نے ابومجلز سے، ابومجلز نے قیس بن عباد سے، قیس نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ آیت هٰذٰنِ خَصْمٰنِ … ’’یہ دو جھگڑالو ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کے بارہ میں جھگڑا کیا‘‘ قریش کے چھ آدمیوں کی نسبت نازل ہوئی- حضرت علیؓ، حضرت حمزہؓ، حضرت عبیدہ بن حارثؓ اور شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔
اسحاق بن ابراہیم صواف نے ہم سے بیان کیا کہ یوسف بن یعقوب نے ہمیں بتایا کہ وہ بنی ضبیعہ کے محلہ میں اُترا کرتے تھے اور وہ بنی سدوس کے آزاد کردہ غلام تھے، (انہوں نے کہا:) سلیمان تیمی نے ہمیں بتایا: انہوں نے ابومجلز سے، ابومجلز نے قیس بن عباد سے روایت کی، کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے: آیت هٰذٰنِ خَصْمٰنِ … ’’یہ دو جھگڑالو ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کے بارہ میں جھگڑا کیا‘‘ہمارے متعلق نازل ہوئی۔
: یحيٰ بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع (بن جراح) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے ابوہاشم سے، ابوہاشم نے ا بومجلز سے، ابومجلز نے قیس بن عباد سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ قسم کھاکر کہتے تھے: یہ آیتیں (هٰذٰنِ خَصْمٰنِ … یعنییہ دو جھگڑالو ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کے بارہ میں جھگڑا کیا) تو بدر کی جنگ کے روز چھ آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ انہوں نے بھی اسی طرح بیان کیا جیسے اوپر گزرا ہے۔