بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی بن میمون نے ہمیں بتایا۔ غیلان بن جریر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: بتائیں یہ جو انصار کا نام ہے کیا آپ نے خود ہی یہ رکھ لیا تھا یا اللہ نے آپ کا نام رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ نے ہمارا نام رکھا تھا۔ (غیلان کہتے تھے:) ہم حضرت انسؓ کے پاس جایا کرتے تھے اور وہ انصار کی خوبیاں اور ان کے کارنامے ہم سے بیان کرتے تھے اور میری طرف یا اَزد قبیلے کے کسی ایک شخص کی طرف متوجہ ہو کر کہتے: تمہاری قوم نے فلاں فلاں جنگ میں یہ یہ کیا۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عدی بن ثابت نے مجھے بتایا۔ عدی نے کہا: میں نے حضرت براء (بن عازب)رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار سے مومن ہی محبت رکھتا ہے اور سوائے منافق کے کوئی ان سے بغض نہیں رکھتا۔ سو جس نے تو ان سے محبت رکھی اللہ بھی اس سے محبت رکھے گا اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ بھی اس سے بغض رکھے گا۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن جبر سے، عبد اللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
(تشریح)ابومعمر نے ہمیں بتایا کہ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالعزیز نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو سامنے آتے ہوئے دیکھا۔ عبدالعزیز نے کہا: میرا خیال ہے کہ حضرت انسؓ نے یہ بھی کہا: کسی شادی سے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر سیدھے کھڑے ہوگئے اور فرمایا: بار خدا تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے بہت پیارے ہیں۔ آپؐ نے یہ تین بار فرمایا۔
عبیدبن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بعاث کی جنگ بھی ایسی جنگ تھی کہ جسے اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بطور پیش خیمہ بنایا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں (مدینہ) آئے جب انصار کی جمیعت بکھر چکی تھی اور ان کے سردار کچھ تو مارے گئے تھے اور کچھ زخمی ہوگئے تھے۔ سو اللہ نے اس جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیش خیمہ کے کیا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابوالتیاح سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: فتح مکہ کے دن انصار کہنے لگے: قریش کو مال دے دیا ہے یہ تو بخدا بڑے تعجب کی بات ہوئی تلواریں ہماری قریش کے خونوں سے ٹپک رہی ہوں اور غنیمت کے مال بھی ہمارے انہی کو واپس دے دئیے جائیں۔ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپؐ نے انصار کو بلایا اور فرمایا: مجھے تمہارے متعلق یہ کیا خبر پہنچی ہے؟ اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ انہوں نے کہا: وہی بات (درست ہے) جو آپؐ کو پہنچی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم اس سے خوش نہیں کہ لوگ تو اپنے گھروں میں غنیمتوں کو لے کر لوٹیں اور تم اپنے گھروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر لوٹو ۔ اگر انصار کسی وادی یا کہا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہی کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے، محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی یا (کہا:) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر انصار کسی وادی یا کہا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انصار کی ہی وادی میں چلوں گا اور اگر ہجرت نہ کی ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ہی ایک آدمی ہوتا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میرے ماں باپ آپؐ کے قربان آپؐ نے بے جا نہیں فرمایا۔ انہوں نے آپؐ کو پناہ دی اور آپؐ کی مدد کی یا ایسا ہی اور لفظ کہا۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا (ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب وہ مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰنؓ (بن عوف) اور حضرت سعد بن ربیع ؓ کو آپس میں بھائی بنایا۔ حضرت سعدؓ نے حضرت عبدالرحمٰنؓ سے کہا: میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ میں اپنے مال کو آدھوں آدھ تقسیم کئے دیتا ہوں اور میری دو بیویاں ہیں تم دیکھ لو جونسی ان میں سے تم کو پسند ہو وہ مجھے بتا دو، میں اسے طلاق دے دوں گا اور جب اس کی عدت پوری ہوجائے تو تم اس سے شادی کرلینا۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ نے کہا: اللہ تمہیں تمہاری بیویوں میں اور تمہارے مال میں برکت دے۔ تمہاری منڈی کہاں ہے؟ چنانچہ انہوں نے ان کو بنی قینقاع کی منڈی کا پتہ دیا۔ وہ تبھی لوٹے کہ ان کے پاس کھویا اور گھی بچ رہا۔ پھر وہ ہر صبح وہاں جاتے رہے۔ اس کے بعد وہ ایک دن آئے اور ان پر زردی کا نشان تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا: یہ کیا؟ حضرت عبدالرحمٰنؓ نے کہا: میں نے شادی کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: بیوی کو کیا مہر دیا ہے؟ انہوں نے کہا: سونے کی گٹھلی یا کہا: گٹھلی برابر سونا۔ ابراہیم نے اس کے متعلق شک کیا(کہ کیا الفاظ کہے۔)
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حُمَید سے، حُمَید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ ہمارے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت سعد بن ربیعؓ کو آپس میں بھائی بنایا اور یہ بہت مالدار تھے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: انصار خوب جانتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اُن میں بہت مالدار ہیں۔ میں اپنے مال کو اپنے اور تمہارے درمیان آدھوں آدھ تقسیم کروں گا اور میری دو بیویاں ہیں تم دیکھ لو جونسی ان میں سے تمہیں زیادہ پسند ہو، اسے میں طلاق دے دوں گا۔ جب وہ اپنی عدت سے آزاد ہو جائے تو اس سے شادی کرلو۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ نے کہا: اللہ تمہیں تمہاری بیویوں میں برکت دے۔اس دن وہ تبھی لوٹے جب کچھ گھی اور کھویا بچا لائے۔ وہ (وہاں) تھوڑی ہی مدت رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان پر زردی کے نشان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ہیں یہ کیا؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے۔ آپؐ نے پوچھا: تم نے اسے مہر کیا دیا؟ انہوں نے کہا: گٹھلی برابر سونا یا کہا: سونے کی ایک گٹھلی۔ آپؐ نے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے ہی۔
صلت بن محمد ابوہمام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے سنا کہ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: انصار کہنے لگے: یہ نخلستان ہم میں اور ان (مہاجرین) میں آپؐ تقسیم کردیں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ انصار نے کہا: وہ ہماری جگہ محنت کریں اور وہ ہمیں (کھجوروں کے) پھلوں میں شریک کر لیں گے۔ انہوں نے کہا: ہم نے منظور کیا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔