بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ہشیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوہاشم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابومجلزسے، ابو مجلز نے قیس بن عباد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوذرؓ سے سنا وہ قسم کھا کرکہتے تھے: آیت هٰذٰنِ خَصْمٰنِ … ’’یہ دوجھگڑالو ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کے بارہ میں جھگڑا کیا‘‘ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن میدانِ جنگ میں لڑنے کے لئے نکلے تھے یعنی حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبیدہ بن حارثؓ اور ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ و شیبہ اور ولید بن عتبہ۔
احمد بن سعید ابوعبداللہ (اشقر) نے مجھے بتایا۔ اسحاق بن منصور سلولی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن یوسف نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ (یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق) سے، ان کے باپ نے (اپنے دادا) ابواسحاق(سبیعی) سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت براءؓ (بن عازب) سے پوچھا ا ور میں اس وقت سن رہا تھاکہا: کیا حضرت علیؓ جنگ بدر میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا: وہ میدان میں لڑائی کے لئے نکلے اور اوپر تلے دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔
فروہ (بن ابی المغراء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علی (بن مسہر) سے، علی نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ(عروہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت زبیرؓ کی تلوار چاندی سے مرصع تھی۔ ہشام نے کہا اور عروہ کی تلوار بھی چاندی سے مرصع تھی۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہا: یوسف بن ماجشون نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف سے سنا۔ صالح نے اپنے باپ(ابراہیم) سے، ابراہیم نے (اپنے باپ) صالح کے دادا حضرت عبدالرحمٰنؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے امیہ بن خلف سے مکاتبت کرلی تھی۔ جب جنگ بدر ہوئی۔ یہ کہہ کر حضرت عبدالرحمٰنؓ نے امیہ اور اس کے بیٹے کے قتل ہونے کا واقعہ بیان کیا (اور یہ کہا:) بلال (جنگ بدر کے دن) کہنے لگے: اگر امیہ بچ گیا تو میں نہیں بچوں گا۔
عبدان بن عثمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ (عثمان بن جبلہ) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابواسحاق (سبیعی) سے، ابواسحاق نے اَسوَد (بن یزید) سے، اَسوَد نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے سورۃ النجم پڑھی اور اس کے ساتھ سجدہ کیا اور جو لوگ آپؐ کے ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ سوائے ایک بوڑھے (امیہ بن خلف) کے، اُس نے ایک مٹھی مٹی لی اور پیشانی سے لگا لی اور کہنے لگا: میرے لئے یہی کافی ہے۔ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کہتے تھے: میں نے اس کو بعد میں دیکھا کہ وہ بدر کے دن کفر ہی کی حالت میں مارا گیا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے خبردی کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے (اپنے والد) عروہ (بن زبیر) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت زبیرؓ کوتلوار کے تین زخم لگے تھے، ان میں ایک ان کے کندھے پر تھا (وہ اتنا گہرا تھا) کہ میں اپنی انگلیاں اس میں ڈال سکتا تھا۔ عروہ کہتے تھے: ان کو دو زخم جنگ بدر میں لگے اور ایک زخم جنگ یرموک میں۔ عروہ بیان کرتے تھے کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیرؓ شہید ہوئے تو عبدالملک بن مروان نے مجھ سے پوچھا: عروہ! کیا تم حضرت زبیرؓ کی تلوار پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: اس کی کیا نشانی ہے؟ میں نے کہا: اس میں دندانے ہیں جو جنگ بدر میں پڑگئے تھے۔ عبدالملک نے کہا: تم نے سچ کہا ہے۔ ان تلواروں میں دستہ ہائے فوج سے ٹکرانے کی وجہ سے دندانے ہیں۔ پھر عبدالملک نے وہ تلوار عروہ کو دے دی۔ (ہشام بن عروہ) کہتے تھے: ہم نے آپس میں اس کی قیمت تین ہزار درہم اندازہ کی اور ہم میں سے ایک شخص نے وہ لے لی اور اب میرے دل میں یہ خواہش اُٹھتی ہے کہ کاش میں ہی اسے لے لیتا۔
احمد بن محمد نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے والد سے روایت کی: جنگ یرموک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے حضرت زبیرؓ سے کہا:کیاآپؓ حملہ نہیں کریں گے کہ ہم بھی آپؓ کے ساتھ حملہ کریں؟ حضرت زبیرؓ نے کہا:میں نے اگر حملہ کیا تو تم پیچھے رہ جاؤ گے۔ انہوں نے کہا: ہم پیچھے نہیں رہیں گے۔ چنانچہ حضرت زبیرؓ نے کفار پر اس زور سے حملہ کیا کہ ان کی صفیں چیرتے ہوئے نکل گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ کوئی ایک بھی نہ تھا۔ پھر وہ لوٹے تو کفار نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور ان کے کندھے پر دو زخم لگائے جن کے درمیان وہ بڑا زخم بھی تھا جو جنگ بدر میں ان کو لگا تھا۔ عروہ کہتے تھے: میں اپنی انگلیاں ان زخموں میں ڈال کر کھیلا کرتا تھا اور میں اس وقت چھوٹا تھا۔ عروہ کہتے تھے: ان دِنوں یرموک کی لڑائی میں حضرت زبیرؓ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بھی تھے اور اس وقت وہ دس برس کے تھے، ان کو گھوڑے پر سوار کرکے لے گئے تھے اور ایک شخص کو ان کی حفاظت کے لئے مقرر کردیا تھا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے روح بن عبادہ سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوطلحہؓ (انصاری) سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن سرداران قریش میں سے چوبیس آدمیوں کی نسبت حکم دیا اور انہیں بدر کے کنوؤں میں سے ایک ناپاک کنویں میں ڈال دیا گیا اور آپؐ جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان میں تین راتیں قیام فرماتے۔ جب آپؐ بدر میں ٹھہرے اور تیسرا دِن ہوا تو آپؐ نے اپنی اونٹنی پر کجاوہ باندھنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ اس پر کجاوہ باندھا گیا۔ پھر آپؐ چلے اور آپؐ کے صحابہ بھی آپؐ کے ساتھ چلے اور کہنے لگے: ہم سمجھتے ہیں کہ آپؐ کسی غرض کے لئے ہی چلے ہیں۔ آپؐ اس کنویں کی منڈیر پر پہنچ کر کھڑے ہوگئے۔ آپؐ ان کے اور ان کے باپوں کے نام لے کر پکارنے لگے: اے فلاں، فلاں کے بیٹے، اے فلاں، فلاں کے بیٹے، کیا اب تم کو اس بات سے خوشی ہوگی کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی ہوتی کیونکہ ہم نے تو سچ سچ پالیا جو ہمارے ربّ نے ہم سے وعدہ کیا تھا،آیا تم نے بھی واقعی وہ پالیا ہے جو تمہارے ربّ نے تم سے وعدہ کیا تھا؟ ابوطلحہ کہتے تھے: حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ ان لاشوں سے کیا باتیں کررہے ہیں جن میں جان نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے ان باتوں کو جو میں کہہ رہا ہوں۔ قتادہ نے کہا: اللہ نے ان کو زندہ کردیا تھا تا آپؐ کی وہ بات انہیں سنائے کہ انہیں تنبیہ و تذلیل کا موجب ہو، ان پر ناراضگی کا اظہار کرکے ان کو حسرت دلائے اور شرمندہ کرے۔
(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہمیں بتایا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو (بن دینار) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کی کہ (اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے:) وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت کو لینے کی بجائے کفر اختیار کیا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! یہ لوگ کفار قریش ہیں۔ عمرو (بن دینار) نے کہا: (کفر اختیار کرنے والے) قریش کے لوگ ہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کی نعمت ہیں (اور یہ جو اس آیت میں فرمایا:) انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اُتار دیا۔ کہتے تھے: دَارَ الْبَوَارِ سے مراد آگ ہے جس میں جنگ بدر کے روز جا پڑے۔
عبید بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیان کیا گیا کہ حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حدیث پہنچاتے ہوئے بیان کیا کہ میت کو اس کی قبر میں اس کے اقرباء کے (اس پر) رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ (یہ سن کر) حضرت عائشہ کہنے لگیں: انہیں بھول ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ مرنے والے پر عذاب تو اپنی غلطی اور اپنے گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور ادھر اس کے اقرباء اس پر روتے ہیں ۔