بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبد الرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے, یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے, ابوسلمہ نے حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہے۔ قرآن آپؐ پر اُترتا رہا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبد الرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے, یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے, ابوسلمہ نے حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہے۔ قرآن آپؐ پر اُترتا رہا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔
عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا کہ ابواسحاق سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات کئے؟ انہوں نے کہا: سترہ۔ میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات کئے؟ انہوں نے کہا: انیس۔
عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا کہ ابواسحاق سے روایت ہے۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا, کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پندرہ غزوات میں نکلا۔
احمد بن حسن نے مجھے بتایا کہ احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہمس سے، انہوں نے (عبداللہ) بن بریدہ سے, انہوں نے اپنے باپ حضرت بریدہؓ (بن حصیب) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شامل ہوئے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے, عقیل نے ابن شہاب سے, ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضیاللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپؐ تریسٹھ(۶۳) برس کے تھے۔ ابن شہاب نے کہا: اور سعید بن مسیب نے بھی مجھے ایسا ہی بتایا۔
(تشریح)ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فضیل بن سلیمان سے روایت کی کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ (بن زیدؓ) کو سپہ سالار مقرر کیا اور لوگ ان سے متعلق باتیں بنانے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے اسامہؓ کی بابت اعتراض کیا ہے بحالیکہ وہ مجھے لوگوں میں سے بہت پیارا ہے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن دینار سے, عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور آپؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو اُن پر امیر مقرر کیا۔ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کیا کرتے تھے۔ اور اللہ کی قسم! وہ امارت کے لائق ہی تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت پیارے ہیں اور یہ بھی اس کے بعد ان لوگوں میں سے ہے جو مجھے بہت پیارے ہیں ۔
(تشریح)اصبغ (بن الفرج) نے ہم سے بیان کیا,کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: عمرو (بن حارث) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے (یزید) بن ابی حبیب سے, انہوں نے ابوالخیر (مرثد) سے, ابوالخیر نے (عبدالرحمٰن بن عُسَیلہ) صنابحی سے روایت کی کہ انہوں نے ان سے پوچھا: تم نے کب ہجرت کی؟ صنابحی نے جواب دیا کہ ہم یمن سے ہجرت کرتے ہوئے نکلے اور جحفہ میں پہنچے۔ ایک سوار سامنے سے آنکلا۔ میں نے اس سے حال دریافت کیا۔ اس نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ دن سے دفنا چکے ہیں۔ میں نے صنابحی سے پوچھا: کیا تم نے لیلۃ القدر سے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت بلالؓ نے مجھے بتایا کہ وہ آخری دہاکے کی ساتویں رات ہے۔
(تشریح)