بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میں نے زُہری سے جب انہوں نے یہ حدیث بیان کی، سنا (کہتے تھے:) اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھا اور جو میں بھولا ہوا تھا، معمر نے مجھے یاد دلایا۔ معمر نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ اور مروان بن حکم سے روایت کی۔ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا تھا۔ان دونوں نے کہا: جس سال حدیبیہ کا واقعہ ہوا، نبیﷺ ایک ہزار سے کچھ زیادہ اپنے ساتھیوں کو لے کر نکلے۔ جب آپؐ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو آپؐ نے قربانی کے گلے میں ہار ڈالا اور اس کے کوہان پر نشان لگایا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا اور اپنے ایک سراغ رساں کو بھیجا جو خزاعہ قوم سے تھا اور نبی ﷺ روانہ ہوگئے یہاں تک کہ آپؐ اشطاط کے جوہڑ پر پہنچے توآپؐ کا سراغ رساں آپؐ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: قریش نے آپؐ کیلئے بہت سے جتھے جمع کئے ہیں اور آپؐ کیلئے حبشی بھی اکٹھے کئے ہیں اور وہ آپؐ سے لڑیں گے اور آپؐ کو بیت اللہ سے روکیں گے اور عمرہ نہ کرنے دیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا تمہاری یہ رائے ہے کہ میں ان لوگوں کے بال بچوں پر حملہ کروں جو ہمیں بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ ہم پر حملہ کریں گے تو اللہ عزوجل مشرکوں کے ریاکار دوستوں کو کاٹ دے گا ورنہ ہم انہیں مفلوک و قلاش چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ بیت اللہ کا عزم کرکے نکلے تھے، نہ کسی کو مارنے کا ارادہ تھا اور نہ کسی سے لڑنے کا، اس لئے آپؐ اسی طرف چلئے۔ جس نے ہم کو اس سے روکا، ہم اس سے لڑیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے نام پر چلے چلو۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنے کے زمانہ میں عمرہ کی نیت سے نکلے اور انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ سے میں روک دیا گیا تو ہم ویسا ہی کریں گے جیسا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جس سال حدیبیہ کا واقعہ ہوا، عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
(محمد بن عبداللہ) بن نمیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعلیٰ (بن عبید) نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہماسے سنا، کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب آپؐ نے عمرہ کیا۔ آپؐ نے طواف کیا اور ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ طواف کیا اور آپؐ نے نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپؐ صفا و مروہ کے درمیان دوڑے اور ہم اہل مکہ سے آپؐ کو آڑ میں لیتے ہوئے حفاظت کررہے تھے کہ کوئی آپؐ کو ضرر نہ پہنچائے۔
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب (بن ابراہیم بن سعد) نے ہمیں خبردی کہ ابن شہاب کے بھتیجے نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے چچا (محمد بن مسلم بن شہاب) سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبردی۔ انہوں نے مروان بن حکم اور حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ سے سنا کہ وہ دونوں اس واقعہ کی خبر بیان کرتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ حدیبیہ میں پیش آیا تھا۔ عروہ نے ان دونوں سے روایت کرتے ہوئے مجھے جو بتایا اس میں یہ بھی تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ میں سہیل بن عمرو سے قضیہ معیادی کا صلح نامہ لکھوایا اور سہیل بن عمرو نے جو شرطیں کی تھیں ان میں سے اس نے یہ بھی کہا تھا: تمہارے پاس ہم میں سے جو کوئی جائے گا اور وہ تمہارے دین پر بھی ہوا تو تم نے اسے ہماری طرف لوٹا دینا ہوگا اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دوگے۔ سہیل نے انکار کردیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے بغیر اس کے صلح کرے۔ مومنوں نے اس شرط کو بُرا مانا اور پیچ و تاب کھانے لگے اوراس کے متعلق باتیں کرنے لگے۔ جب سہیل نے بغیر اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرنے سے قطعی انکار کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ شرط لکھنے کے لئے کہا اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوجندل بن سہیلؓ کو (جو مسلمان ہوچکے تھے) انہی ایام میں ان کے باپ سہیل بن عمرو کے پاس لوٹا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو مرد بھی(قریش سے) آتا تو آپؐ میعادی صلح کے دوران اسے واپس کردیتے گو وہ مسلمان ہی ہوتا اور چند مومن عورتیں بھی ہجرت کرکے آئیں۔ حضرت امّ کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیطؓ بھی ان لوگوں میں سے تھیں جو رسول اللہ ﷺ کے پاس نکل کر آئے اور وہ ابھی ابھی بالغ ہوئی تھیں۔ ان کے رشتہ دار آئے، رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرنے لگے کہ وہ اسے ان کو واپس کردیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کی بابت وحی نازل کی(کہ وہ واپس نہ کی جائیں)۔
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب (بن ابراہیم بن سعد) نے ہمیں خبردی کہ ابن شہاب کے بھتیجے نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے چچا (محمد بن مسلم بن شہاب) سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبردی۔ انہوں نے مروان بن حکم اور حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ سے سنا کہ وہ دونوں اس واقعہ کی خبر بیان کرتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ حدیبیہ میں پیش آیا تھا۔ عروہ نے ان دونوں سے روایت کرتے ہوئے مجھے جو بتایا اس میں یہ بھی تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ میں سہیل بن عمرو سے قضیہ معیادی کا صلح نامہ لکھوایا اور سہیل بن عمرو نے جو شرطیں کی تھیں ان میں سے اس نے یہ بھی کہا تھا: تمہارے پاس ہم میں سے جو کوئی جائے گا اور وہ تمہارے دین پر بھی ہوا تو تم نے اسے ہماری طرف لوٹا دینا ہوگا اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دوگے۔ سہیل نے انکار کردیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے بغیر اس کے صلح کرے۔ مومنوں نے اس شرط کو بُرا مانا اور پیچ و تاب کھانے لگے اوراس کے متعلق باتیں کرنے لگے۔ جب سہیل نے بغیر اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرنے سے قطعی انکار کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ شرط لکھنے کے لئے کہا اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوجندل بن سہیلؓ کو (جو مسلمان ہوچکے تھے) انہی ایام میں ان کے باپ سہیل بن عمرو کے پاس لوٹا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو مرد بھی(قریش سے) آتا تو آپؐ میعادی صلح کے دوران اسے واپس کردیتے گو وہ مسلمان ہی ہوتا اور چند مومن عورتیں بھی ہجرت کرکے آئیں۔ حضرت امّ کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیطؓ بھی ان لوگوں میں سے تھیں جو رسول اللہ ﷺ کے پاس نکل کر آئے اور وہ ابھی ابھی بالغ ہوئی تھیں۔ ان کے رشتہ دار آئے، رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرنے لگے کہ وہ اسے ان کو واپس کردیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کی بابت وحی نازل کی(کہ وہ واپس نہ کی جائیں)۔
ابن شہاب کہتے تھے اور مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مومن عورتوں کا جو ہجرت کرکے آئیں، اس آیت کے مطابق امتحان لیتے تھے: يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ…(یعنی اے نبی! جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں…۔) اور (ابن شہاب کے بھتیجے نے) اپنے چچا سے (مذکورہ بالا سند سے) روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی: اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ مشرکوں نے اپنی بیویوں پر جو خرچ کیا ہے جب ان کی بیویاں ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس مدینہ چلی آئیں تو اُن کو خرچ واپس کردیا جائے اور ہمیں یہ خبر بھی پہنچی کہ ابوبصیر…۔ یہ کہہ کر انہوں نے اس کا سارا واقعہ مفصل بیان کیا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے احرام باندھا اور کہا: اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی روک پیدا ہوئی تو میں ویسا ہی کروں گا جیسا نبی ﷺ نے کیا تھا، جب کفارِ قریش آپؐ کے سدِّراہ ہوئے تھے اور یہ آیت پڑھی: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ … یعنی تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ ہی اچھا نمونہ ہیں۔
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے روایت کی۔ عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ دونوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے گفتگو کی…۔(امام بخاریؒ نے کہا:) موسیٰ بن اسماعیل نے بھی ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) کے بیٹوں میں سے کسی نے ان سے کہا: اگر آپؓ اس سال ٹھہر جائیں (اور عمرہ کیلئے نہ جائیں تو اچھا ہے) کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ آپؓ بیت اللہ کو نہیں پہنچ سکیں گے۔ انہوں نے جواب دیا:ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے تھے اور کفارِ قریش سدِّ راہ ہوئے تھے۔ نبی ﷺ نے اپنی قربانیاں ذبح کردیں اور سر منڈوایا اور آپؐ کے صحابہؓ نے بھی بال کترائے۔ پھر (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) کہنے لگے: میں تم کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے عمرہ اپنے لئے واجب کرلیا ہے۔ اگر مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان روک ڈال دی گئی تو میں اسی طرح کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ پھر تھوڑی دیرچلے اس کے بعد کہنے لگے: میں حج اور عمرہ دونوں کی ایک ہی حیثیت سمجھتا ہوں میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب ٹھہرا لیا ہے۔چنانچہ انہوں نے ایک ہی طواف کیا اور ایک ہی سعی کی اور ان دونوں ہی کا احرام (ساتھ ہی دسویں تاریخ کو) کھولا۔
شجاع بن ولید نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے نضر بن محمد سے سنا۔ (کہتے تھے:) صخر (بن جویریہ) نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: لوگ باتیں کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ نے حضرت عمرؓ سے پہلے اسلام قبول کیا۔ حالانکہ یوں نہیں بلکہ بات یہ ہوئی کہ حضرت عمرؓ نے حدیبیہ کے دن حضرت عبداللہؓ کو اپنا ایک گھوڑا جو ایک انصاری شخص کے پاس تھا، لانے کے لئے بھیجا تا اُس پر سوار ہوکر لڑیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ کے پاس بیعت لے رہے تھے۔ حضرت عمرؓ کو یہ پتہ نہ تھا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) نے آپؐ کی بیعت کی۔ پھر گھوڑا لینے گئے اور حضرت عمرؓ کے پاس لے آئے اور حضرت عمرؓ اس وقت لڑائی کے لئے زرہ پہن رہے تھے۔حضرت عبداللہؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں۔ نافع کہتے تھے: یہ سنتے ہی حضرت عمرؓ چلے گئے اور ان کے ساتھ حضرت عبداللہؓ بھی گئے۔ اس وقت حضرت عمرؓ نے بھی بیعت کی۔ یہ وہ واقعہ ہے جس کی وجہ سے لوگ باتیں کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ ،حضرت عمرؓ سے پہلے مسلمان ہوئے ہیں۔
اور ہشام بن عمار نے کہا کہ ولید بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ عمر بن محمد عمری نے ہم سے بیان کیا کہ نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ حدیبیہ کے دن نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ درختوں کے سایے میں وہ اِدھر اُدھر منتشر ہوگئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: عبداللہ دیکھو لوگ کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہیں؟ حضرت ابن عمرؓ نے جا کر دیکھا کہ وہ بیعت کررہے ہیں اس لئے انہوں نے بیعت کی۔ پھر حضرت عمرؓ کے پاس وہ لوٹ کر آئے اور حضرت عمرؓ بھی نکلے اور انہوں نے بھی جاکر بیعت کی۔