بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحمزہ (محمد بن میمون) سے, ابوحمزہ نے اعمش سے, اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے, ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت (عبداللہ) بن مسعودؓ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ اتنے میں حضرت خبابؓ (بن ارتّ) آئے۔ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰنؓ ! کیا یہ نوجوان قرآن پڑھ سکتے ہیں جیسا آپؓ پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں, اگر آپؓ چاہیں، ان میں سے کسی کو کہتا ہوں کہ وہ آپؓ کو پڑھ کر سنائے۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ حضرت ابن مسعودؓ نے کہا: علقمہؓ پڑھو۔ اس پر زید بن حُدَیر جو زیاد بن حُدَیر کے بھائی تھے، بولے: کیا آپؓ علقمہ سے کہتے ہیں کہ وہ قرآن پڑھے، حالانکہ وہ ہم سے بڑھ کر قاری نہیں ہیں۔ حضرت ابن مسعودؓ نے کہا: دیکھو اگر تم چاہو تو مَیں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو نبی ﷺ نے تمہاری قوم اور علقمہ کی قوم سے متعلق فرمائی ہے۔ علقمہ کہتے تھے: میں نے سورۂ مریم کی پچاس آیتیں پڑھیں۔ حضرت عبداللہؓ نے (حضرت خبابؓ سے) پوچھا: آپؓ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: عمدہ پڑھا ہے۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: جو بھی میں پڑھتا ہوں, علقمہ بھی اسے ضرور پڑھ لیتا ہے۔ پھر انہوں نے مڑ کر حضرت خبابؓ کو دیکھا اور انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہنی تھی۔ انہوں نے کہا: کیا ابھی اس انگوٹھی کے لئے وقت نہیں آیا کہ وہ اُتار ڈالی جائے؟ انہوں نے کہا: اچھا، اب اس کے بعد آپؓ مجھے یہ پہنے ہرگز نہ دیکھیں گے؛ اور انہوں نے وہ اُتار ڈالی۔ اسی طرح اس حدیث کو غندر نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔
(تشریح)محمد بن علاء نے مجھے بتایا کہ ابواُسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قیس سے, قیس نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو راستے میں یہ شعر پڑھا: ہائے رات کیسی ہی لمبی ہے اور کتنی ہی کڑی ہے خیر اس نے کفر کے گھر سے تو نجات دلادی اور راستے میں میرا ایک غلام بھاگ گیا۔ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ سے بیعت کی تو اس اثناء میں کہ میں آپؐ کے پاس تھا، وہ غلام آنکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ابوہریرہؓ! یہ تمہارا غلام ہے۔ میں نے کہا: وہ اللہ کے لئے ہے اور یہ کہہ کہ میں نے اسے آزاد کردیا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا, (کہا:) ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالملک (بن عمیر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن حریث سے, عمرو نے حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت عمرؓ (کے عہدِخلافت میں اُن) کے پاس ایک وفد کے ساتھ آئے اور وہ ایک ایک آدمی کا نام لے کر اس کو بلاتے گئے۔ میں نے کہا: امیر المومنین! کیا آپؓ مجھے نہیں پہچانتے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ تم اس وقت مسلمان ہوئے جب ان لوگوں نے انکار کیا اور تم اس وقت (اسلام کی طرف) متوجہ ہوئے جب انہوں نے پیٹھ موڑی اور تم نے اس وقت وفا کی جب انہوں نے غداری کی اور تم نے (حق کو) اس وقت پہچان لیا جب انہوں نے نہ پہچانا۔ یہ سن کر حضرت عدیؓ نے کہا: تو اَب مجھے کچھ پروا نہیں (جب آپ میرا سب حال اچھی طرح جانتے ہیں۔)
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے, ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، فرماتی تھیں: ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے۔ ہم نے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی کا جانورہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کی بھی نیت کرلے۔ پھر جب تک ان دونوں سے فارغ نہ ہوجائے احرام نہ کھولے۔ میں آپؐ کے ساتھ مکہ پہنچی۔ اس وقت میں حائضہ تھی اور میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کا۔ پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے (اس کا)شکوہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تم اپنے سر کو کھولو اور کنگھی کرلو اور حج کا احرام باندھو اور عمرہ کو رہنے دو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب ہم حج ادا کرچکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیقؓ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔ میں نے وہاں سے عمرہ ادا کیا ۔ آپؐ نے فرمایا: یہ عمرہ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے۔ کہتی تھیں: وہ لوگ جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ کے اردگرد بھی چکر لگائے اور صفا و مروہ کے درمیان بھی۔ پھر انہوں نے احرام کھول ڈالا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے ایک اور طواف کیا جبکہ وہ منیٰ سے لَوٹے اور وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کی اکٹھی نیت کی تھی انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔
عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا, کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب انہوں نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو وہ آزاد ہوگئے۔(ابن جریج) کہتے ہیں: میں نے (عطاء سے) پوچھا: حضرت ابن عباسؓ نے یہ مسئلہ کہاں سے استنباط کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس قول سے: پھر ان کو حلال ہونے کی جگہ پر قدیم گھر کے پاس لے جانا ہوگا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے جو آپؐ نے اپنے صحابہؓ کو حجۃ الوداع میں دیا کہ وہ احرام کھول ڈالیں۔ (ابن جریج کہتے ہیں:) میں نے کہا: یہ تو اس وقت تھا جب عرفات میں ٹھہر چکے تھے۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ اس کو پہلے بھی اور بعد بھی جائز سمجھتے تھے۔
بیان (بن عمرو) نے مجھے بتایا کہ نضر (بن شمیل) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قیس (بن مسلم) سے, انہوں نے کہا: میں نے طارق سے سنا۔ وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: میں بطحاء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے احرام باندھتے ہوئے کیا پکارا تھا؟ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی پکار کی طرح ہی پکارتے ہوئے میں تیرے حضور حاضر ہورہا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: بیت اللہ کاا ور صفا و مروہ کا طواف کرنا پھر اس کے بعد احرام کھول ڈالنا۔ چنانچہ میں نے بیت اللہ کے ارد گرد اور صفا و مروہ میں چکر لگائے اور قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اور اس نے میرے بال صاف کیے۔
ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں خبر دی کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے ان کو خبردی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہؓ نے ان کو بتایا کہ جس سال حجۃ الوداع ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا کہ وہ احرام کھول ڈالیں۔ حضرت حفصہؓ نے پوچھا: آپؐ کو احرام کھولنے سے کیا روک ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمالیا تھا اور اپنی قربانی کو ہار ڈال دیا تھا۔ اس لئے جب تک میں اپنی قربانی ذبح نہ کرلوں احرام نہیں کھول سکتا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔اور محمد بن یوسف (فریابی) نے کہا کہ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان بن یسار سے, سلیمان نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حجۃ الوداع میں خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا اور فضل بن عباسؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے۔ وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! اللہ کا یہ فرض اپنے بندوں پر ایسے وقت میں ہوا کہ اس وقت میرا باپ بہت ہی بوڑھا تھا کہ وہ اونٹنی پر سیدھا ہوکر بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ تو کیا یہ اس فرض کو ادا کردے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔
محمد (بن رافع) نے مجھے بتایا کہ سریج بن نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے, نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جس سال مکہ فتح ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) آئے اور آپؐ نے اسامہؓ کو اپنے پیچھے قصواء اونٹنی پر بٹھایا ہوا تھا اور آپؐ کے ساتھ بلا لؓ اور عثمانؓ بن طلحہ تھے۔ آپؐ آئے اور بیت اللہ کے پاس اونٹنی بٹھا دی۔ پھر عثمانؓ سے فرمایا: چابی ہمارے پاس لے آؤ اور وہ چابی لے آئے اور آپؐ کے لئے دروازہ کھول دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسامہؓ, بلالؓ اور عثمانؓ اندر گئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ آپؐ دیرتک دن کے وقت وہاں ٹھہرے رہے۔ پھر اس کے بعد نکلے اور لوگ اندر جانے کے لئے لپکے۔ میں ان سے پہلے پہنچا اور حضرت بلالؓ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا۔ میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: ان دو اگلے ستونوں کے درمیان آپؐ نے نماز پڑھی اور بیت اللہ چھ ستونوں پر بنا ہوا تھا جو دو قطاروں میں تھے۔ آپؐ نے اگلی قطار کے دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی اور بیت اللہ کا دروازہ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھا اور اپنا منہ اس جہت کی طرف کیا جو جہت تمہارے سامنے ہے, جب تم بیت اللہ میں داخل ہوتے ہو۔ آپؐ کے اور دیوار کے درمیان )تین ہاتھ کا) فاصلہ تھا۔ کہتے تھے: اور میں بلالؓ سے یہ پوچھنا بھول گیاکہ آپؐ نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟ اور اس جگہ کے پاس کہ جس میں آپؐ نے نماز پڑھی سرخ سنگ مرمر تھا۔