بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
ابوالیمان (حکم بن نافع) نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ نے ان دونوں کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہؓ بنت حییّ حجۃ الوداع میں حائضہ ہوئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ ہمیں روک رکھیں گی؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ عرفات سے ہوآئی ہیں اور بیت اللہ کا طواف بھی کرلیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو وہ کوچ کریں۔
۴۴۰۳: دیکھو آگاہ رہو! اللہ نے تمہارے خون اور تمہارے مال ایسے ہی معزز قرار دئیے ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں معزز قرار دیا ہے۔ سنو! میں نے پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہیو۔ (فرمایا:) اپنی بربادی کا خیال رکھنا یا فرمایا: سنبھلنا, دیکھنا میرے بعد پھر کافر نہ ہوجانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن اڑانے لگ جائے۔
عمروبن خالد نے ہم سے بیان کیا۔ زُہیر (بن معاویہ) نے ہمیں خبر دی۔ ابواسحاق (سبیعی) نے ہم سے بیان کیا, کہا: زید بن ارقم نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات کئے اور یہ کہ آپؐ نے ہجرت کرنے کے بعد ایک ہی حج کیا۔ جس کے بعد آپؐ نے کوئی حج نہیں کیا یعنی حجۃ الوداع۔ ابواسحاق نے کہا کہ آپؐ نے ایک اور بھی حج کیا جبکہ آپؐ مکہ میں تھے۔ (ہجرت نہیں کی تھی۔)
ابراہیم بن منذر (حزمی) نے مجھے بتایا کہ ابوضمرہ (انس بن عیاض) نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔
یحيٰ بن سلیمان نےہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ عمر بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے باپ (محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر) نے اُن کو بتایا کہ حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ہم حجۃ الوداع سے متعلق آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے اور ہم نہیں جانتے تھے کہ حجۃ الوداع کیا ہے؟ آپؐ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر مسیح دجال کا ذکر کیا اور اس کا مفصل ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ نے کوئی بھی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس نے اپنی امت کو (دجال کے خطرے سے) نہ ڈرایا ہو۔ نوحؑ نے بھی اس کے خطرے سے ڈرایا اور ان کے بعد دوسرے نبیوں نے بھی اور وہ تم میں ضرور آئے گا اور اگر تم سے اس کی حالت پوشیدہ رہے تو تم سے یہ (صفات) تو پوشیدہ نہیں ہیں یعنی تمہارا ربّ تو تم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تین بار یہ کہہ کر آپؐ نے فرمایا: تمہارا ربّ کانا نہیں ہے اور وہ دجال دائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔ اس کی آنکھ ایسی ہوگی جیسے پھولا ہوا انگور۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھے بتایا کہ عبدالوہاب (ثقفی) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے, انہوں نے (عبدالرحمٰن) بن ابی بکرہ سے, انہوں نے حضرت ابوبکرہؓ سے, حضرت ابوبکرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: زمانہ پھر گھوم کر ہوبہو اس حالت پر آگیا ہے کہ جس پر وہ اس دن تھا کہ جس دن اللہ نے زمین وآسمان کو پیدا کیا۔ سال بارہ مہینہ کا ہے۔ ان میں سے چار مہینے معزز ہیں، تین یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ, ذوالحج اور محرم اور چوتھا مضر کا رجب جو کہ جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔ (فرمایا:) یہ کونسا مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ خاموش رہے، ہم نے خیال کیا کہ آپؐ اس ماہ کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا یہ ذوالحج نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔آپؐ نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ خاموش رہے، ہم نے خیال کیا کہ آپؐ اس شہر کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا وہی شہر نہیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کونسا دن ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آپؐ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے آپؐ نے فرمایا کہ کیا یہ قربانی کرنے کا دن نہیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر تمہارے خون اور تمہارے مال…محمد (بن سیرین) نے کہا: اور میں سمجھتا ہوں آپؐ نے یہ بھی فرمایا: تمہاری آبروئیں، تمہارے لئے اسی طرح معزز ہیں جس طرح یہ تمہارا دن تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینہ میں معزز ہے۔ تم اپنے ربّ سے ضرور ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق بازپرس کرے گا۔ دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن زنی کرتا رہے۔ دیکھو سنو! جو حاضر ہے وہ غیرحاضر کو پہنچا دے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جن کو پہنچا یا جائے، ان میں سے کوئی سننے والے سے اس بات کو زیادہ سمجھنے والا اور یاد رکھنے والا ہو۔ محمد (بن سیرین) جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو کہتے: حضرت محمدﷺ نے سچ فرمایا۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے دو دفعہ فرمایا: دیکھو سنو! کیا میں نے (تمہیں) پہنچا دیا ہے؟
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان ثوری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قیس بن مسلم سے, قیس نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا: اگر یہ آیت ہم میں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: کونسی آیت ہے؟ انہوں نے کہا: آج میں نےتمہارےلیے تمہارا دین کامل کردیا ہے اور میں نے اپنی نعمت تم پر پورے طور پر کی ہے اور تمہارے لیے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔ حضرت عمر ؓنے (یہ سن کر) کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ کس جگہ یہ آیت نازل کی گئی۔ یہ آیت اس وقت نازل کی گئی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں کھڑے تھے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک سے روایت ہے۔ انہوں نے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے, انہوں نے عروہ سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے عمرہ کا نام لے کر لبیک پکارا۔ اور بعض وہ تھے جنہوں نے حج کا اور ہم میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے حج وعمرہ دونوں کا نام لے کر لبیک پکارا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا۔سو جنہوں نے حج یا حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کیا تھا تو انہوں نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک کہ قربانی کا دن نہیں آگیا۔عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں یہ بات بتائی اور انہوں نے اس میں یوں کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے۔ اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں اسی طرح بتایا۔
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم نے جو کہ سعد کے بیٹے ہیں ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامر بن سعد سے, عامر نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں میری عیادت اس بیماری میں کرنے آئے کہ جس سے مَیں قریب المرگ ہوگیا تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ!بیماری نے میری وہ حالت کردی ہے جو آپؐ دیکھ رہے ہیں اور میں مال دار ہوں اور میرا کوئی وارث نہیں, سوائے میری ایک بیٹی کے۔ کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ میں دے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا میں اس کا آدھا صدقہ میں دے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تہائی؟ آپؐ نے فرمایا: تہائی بھی بہت ہے۔ دیکھو یہ کہ تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ جاؤ، یہ بات بہتر ہے اس سے کہ تم اُن کو محتاج چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اور تم جو بھی ایسا خرچ کرتے ہو کہ جس سے تم اللہ کی رضامندی چاہتے ہو تو ضرور اس کا تم کو بدلہ دیا جائے گا, یہاں تک کہ اس لقمہ کا بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! کیا میں اپنے ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہنے دیا جاؤں گا؟ آپؐ نے فرمایا: تمہیں پیچھے ہرگز نہیں رہنے دیا جائے گا۔ اگر رہیں بھی تو جو کام بھی تم ایسا کرو گے کہ جس سے تم اللہ کی رضامندی چاہو گے تو ضرور اس کام سے درجہ اور بلندی میں بڑھو گے اور شاید کہ تم دنیا میں کچھ دیر اور رہو کہ تمہارے ذریعہ بعض لوگ نفع حاصل کریں اور بعض کو تمہارے ذریعہ نقصان پہنچایا جائے۔ اے اللہ! میرے ساتھیوں کے لئے ان کی ہجرت کو آخر تک پورا کر اور ان کو ان کی ایڑھیوں کے بَل واپس نہ کر لیکن مسکین سعد بن خولہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے افسوس کیا کرتے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہوگئے۔