بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیعؓ نے مجھے بتایا کہ حضرت عتبان بن مالکؓ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان انصاری صحابہ میں سے تھے جو بدر میں شریک ہوئے، وہ رسول اللہ ﷺ کے پا س آئے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حصین بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد لیثی سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت رفاعہ بن رافع انصاریؓ کو دیکھا اور وہ بدری صحابی تھے۔
ابونعمان (محمد بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا کہ نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جو سانپ بھی دیکھ پاتے مار ڈالتے۔
آخر حضرت ابولبابہ بدریؓ نے ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے سفید پتلے سانپ مارنے سے منع فرمایا ہے۔ پھر وہ اُن سے رُک گئے۔
ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن فُلَیح نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ (انہوں نے کہا:) ابن شہاب کہتے تھے: حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے بیان کیا کہ انصار کے کچھ آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی ،کہنے لگے:ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباسؓ کو اُن کا فدیہ چھوڑ دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ایک درہم بھی اُن کو نہ چھوڑنا۔
احمد نے جو صالح کے بیٹے ہیں ہم سے بیان کیا کہ عنبسہ (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔یونس(بن یزید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے حصین بن محمد (انصاری) سے حضرتمحمود بن ربیع ؓ کی اس حدیث کی نسبت پوچھا جو انہوں نے حضرت عتبانؓ بن مالک سے روایت کی۔ اور (حصین بن محمد) قبیلہ بنی سالم کے ایک فرد اور اس کے سرداروں میں سے تھے۔ انہوں نے حضرت محمودؓ کی (اس روایت کی) تصدیق کی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔زہری سے روایت ہے،انہوں نے کہا: عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے مجھے خبردی اور وہ سردارانِ بنی عدی میں سے تھے اور ان کے باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک تھے، (انہوں نے کہا:) حضرت عمرؓ نے حضرت قدامہ بن مظعونؓ کو بحرین کا امیر مقرر کیا اور یہ بھی بدر میں شریک ہوئے تھے اور یہ حضرت عبداللہ بن عمر اور (امّ المومنین ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہم کے ماموں تھے۔
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ (بن اسماء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زہری سے روایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انہیں خبردی، کہا: حضرت رافع بن خدیج ؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بتایا کہ ان کے دونوں چچوں نے جو بدر میں شریک تھے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو ٹھیکہ پر دینے سے روکا ہے۔ زہری نے سالم سے کہا: آپ تو انہیں ٹھیکے پر دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں (ہم تو دیتے ہیں) حضرت رافعؓ نے اپنے اوپر زیادتی کی۔
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ (بن اسماء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زہری سے روایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انہیں خبردی، کہا: حضرت رافع بن خدیج ؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بتایا کہ ان کے دونوں چچوں نے جو بدر میں شریک تھے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو ٹھیکہ پر دینے سے روکا ہے۔ زہری نے سالم سے کہا: آپ تو انہیں ٹھیکے پر دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں (ہم تو دیتے ہیں) حضرت رافعؓ نے اپنے اوپر زیادتی کی۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک مروَزی) نے ہمیں خبردی کہ معمر اور یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو خبردی۔ حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ نے ان کو بتایا کہ حضرت عمرو بن عوفؓ نے جو بنو عامر بن لوئی کے حلیف اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک تھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو بحرین کی طرف جزیہ لینے کے لئے بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمیؓ کو امیر مقرر کیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہؓ بحرین سے مال لے کر آئے اور انصار نے حضرت ابوعبیدہؓ کے آنے سے متعلق سنا اور وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ فجر پڑھنے کے لئے آگئے جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ آپؐ کے سامنے آبیٹھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہؓ کچھ لائے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: خوش ہو اور وہی امید رکھو جو تمہیں خوش کردے۔ اللہ کی قسم! محتاجی نہیں ہے کہ جس کا مجھے تمہارے متعلق اندیشہ ہو مگر میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا کی کشائش تم پر اس طرح ہو جس طرح کہ تم سے پہلوں پر ہوئی اور پھر تم اس کی خواہش ایک دوسرے سے بڑھ کر اسی طرح کرنے لگ جاؤ جس طرح انہوں نے اس کی خواہش کی اور وہ تم کو اسی طرح ہلاک کردے جس طرح ان کو ہلاک کردیا۔