بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
: ابوعاصم نے ہمیں بتایا: انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے زہری سے، زہری نے عطاء بن یزید سے، عطاء نے عبیداللہ بن عدی سے، عبیداللہ نے حضرت مقداد بن اسودؓ سے روایت کی۔ ( امام بخاریؓ نے کہا:) اسحاق (بن منصور) نے بھی مجھے بتایا۔ یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) نے اپنے چچا (ابن شہاب) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا: عطاء بن یزید لیثی جندعی نے مجھے خبردی کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے ان کو بتایا کہ حضرت مقداد بن عمرو کندیؓ نے- اور وہ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بدر میں شریک تھے- ان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: (یارسول اللہ!) بتائیں اگر کفار میں سے کسی شخص سے میرا مقابلہ ہوجائے اور ہم دونوں لڑپڑیں اور وہ میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ ڈالے۔ پھر مجھ سے ایک درخت کی پناہ لے کر یہ کہے: میں اللہ کی خاطر مسلمان ہوگیا۔ یارسول اللہ! کیا اب میں اس کو مارڈالوں جبکہ اس نے ایسی بات کہی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے قتل نہ کرو۔ حضرت مقدادؓ نے کہا: یارسول اللہ! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے اور پھر اس کے بعد ایسا کہاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کردیا تو وہ تمہارے اس درجہ پر ہوجائے گا جو تم کو اُس کے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا اور تم اس کے درجہ پر ہوجاؤ گے جو اُس کو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے حاصل تھا جس کو اُس نے کہا۔
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن فُضَیل سے سنا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے روایت کی کہ غزوۂ بدر میں شریک ہونے والوں کا (سالانہ) عطیہ پانچ پانچ ہزار تھا۔ اور حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں اِنہیں فوقیت دوں گا اُن پر جواِن کے بعد (کے صحابہ) ہیں۔
اسحاق بن منصور (مروَزی) نے مجھے بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے محمد بن جبیر سے، ابن جبیر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور پڑھتے ہوئے سنا اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایمان میرے دل میں بیٹھ گیا ۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت زبیر (بن عوامؓ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: جنگ بدر کے دن مہاجرین کے لئے سو حصے رکھے گئے۔
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ (اسماعیل) بن علیّہ نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (بن طرخان) تیمی نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم سے) بدر کے دن فرمایا: کون دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا حال ہے؟ یہ سن کر (حضرت عبداللہ) بن مسعودؓ چلے گئے اور دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں (حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ) نے اسے اتنا مارا ہے کہ وہ ٹھنڈا پڑگیا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے کہا: تُو ہی ابوجہل ہے؟ ابن علیّہ کہتے تھے:سلیمان نے کہا: حضرت انسؓ نے اسی طرح یہ بتایا یعنی کہا: تُو ہی ابوجہل ہے؟ ابوجہل نے کہا: کیا مجھ سے بھی کوئی بڑھ کر ہے جس کو تم لوگوں نے مارا ہو؟ سلیمان کہتے تھے یا یوں کہا: جس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہو؟کہتے تھے: اور ابومجلز (لاحق بن حمید) کہتے تھے کہ ابوجہل نے یہ بھی کہا: اے کاش کہ زمیندار کے سوا کوئی اور مجھے قتل کرتا۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا (کہا:) معمر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے میں نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا: آپؓ ہمارے بھائی انصار کے پاس ہمارے ساتھ چلیں (چنانچہ ہم گئے) اور ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے جو بدر میں شریک ہوئے تھے۔ میں نے عروہ بن زبیر سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: وہ حضرت عویم بن ساعدہؓ اور حضرت معن بن عدیؓ تھے۔
اور زُہری سے مروی ہے۔ انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے بدر کے قیدیوں کی نسبت فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور پھر وہ مجھ سے ان بدبودار لوگوں کے بارے میں سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا۔ اور لیث نے یحيٰ بن سعید (بن قیس) سے۔ یحيٰ نے سعید بن مسیب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: پہلا فتنہ یعنی حضرت عثمانؓ کی شہادت ایسے وقت میں ہوئی کہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی باقی نہ تھا۔ پھر اس کے بعد دوسرا فتنہ یعنی حرّہ کا واقعہ ایسے وقت میں ہوا کہ ان لوگوں میں سے کوئی باقی نہ تھا جو حدیبیہ میں شریک تھے۔ پھر تیسرا فتنہ ہوا اور وہ اس وقت تک دور نہ ہوا جب تک کہ لوگوں میں کچھ طاقت باقی تھی۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر النمیری نے ہمیں بتایا۔ یونس بن یزید نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے زہری سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے عروہ بن زبیر،سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ سنا، ان میں سے ہر شخص نے اس واقعہ کا ایک حصہ مجھ سے بیان کیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں اور مسطحؓ کی ماں (سلمیٰ بنت ابی رہمؓ) دونوں (قضائے حاجت کے لئے) چلیں۔مسطحؓ کی ماں نے اپنی اوڑھنی سے اُلجھ کرٹھوکر کھائی۔ بولیں: مسطحؓ کا ستیا ناس! میں نے کہا: کیا ہی بُرا کلمہ ہے جو تم نے کہا ہے، ایسے شخص کو گالیاں دیتی ہو جو بدر میں شریک تھا۔ پھر زہری نے افک کاواقعہ بیان کیا۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا۔ محمد بن فُلَیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں ہیں اور پھر انہوں نے (بدر کا) واقعہ بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبکہ آپؐ (کفار کی لاشوں کو کنویں میں) ڈلوا رہے تھے فرمایا: تمہارے ربّ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا کیا تم نے اس کو سچا پالیا ہے؟ موسیٰ (بن عقبہ) کہتے تھے: نافع نے کہا کہ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) بیان کرتے تھے: آپؐ کے صحابہؓ میں سے بعض نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ مُردوں کو پکارتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے جو میں نے کہا ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: (موسیٰ بن عقبہ نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے کہا:) قریش میں سے وہ جو بدر میں شریک ہوئے تھے جن کا حصہ غنیمت کے مال میں رکھا گیا تھا، کل اکاسی شخص تھے اور عروہ بن زبیر کہتے تھے: حضرت زبیرؓ نے کہا: ان کے حصے تقسیم کئے گئے اور وہ ایک سو تھے۔ واللہ اعلم۔
اسحاق بن نصر نے ہمیں بتایا۔ عبدالرزاق (بن ہمام) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بنوقریظہ اور بنونضیر دونوں نے (آنحضرت ﷺ سے) لڑائی کی مگر آپؐ نے بنو نضیر کو تو جلا وطن کردیا اور بنوقریظہ کو رہنے دیا اور ان سے نیک سلوک کیا یہاں تک کہ بنوقریظہ نے (جنگ خندق میں آپؐ سے) لڑائی کی تو آپؐ نے اُن کے مَردوں کو قتل کئے جانے کا حکم دیا اور ان کی عورتیں بچے اور مال مسلمانوں کے درمیان تقسیم کئے گئے۔ ان میں سے بعض کے سوا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ملے، آپؐ نے اُن کو اَمان دی اور وہ مسلمان ہوگئے اور مدینہ کے سب یہودیوں کو جلاوطن کردیا یعنی بنوقینقاع کو- اور وہ عبداللہ بن سلام کی قوم میں سے تھے- اور ایسا ہی بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی اور ان تمام یہودیوں کو جو مدینہ میں تھے۔