بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
اور ابراہیم (بن طہمان) نے ابوعثمان سے کہا۔ اور ان کا نام جعد (بن دینار) تھا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انسؓ بنی رفاعہ کی مسجد میں ہمارے سامنے سے گزرے۔ میں نے ان کو یہ کہتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قاعدہ تھا کہ جب وہ حضرت اُم سلیمؓ کے پڑوس سے گزرتے تو ان کے پاس آتے اور ان کو سلام کہتے۔ پھر حضرت انسؓ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت زینبؓ سے شادی ہوئی تو مجھ سے حضرت ام سلیمؓ نے کہا: اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ہدیہ بھیجیں (تو اچھا ہے) میں نے ان سے کہا: بھیجیں۔ انہوں نے کچھ کھجوریں اور گھی اور پنیر لیا اور ان سے ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ذریعہ وہ حلوہ آپؐ کو بھیجا۔ میں وہ لے کر آپؐ کے پاس گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو رکھ دو ۔ پھر آپؐ نے مجھے حکم دیا اور فرمایا: میرے پاس کچھ آدمی بلاؤ۔ آپؐ نے ان کا نام لیا اور (فرمایا کہ) جس کو بھی تم ملو اُس کو میرے پاس بلا لاؤ۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: جو آپؐ نے مجھے حکم دیا تھا میں نے وہ کیا۔ میں جو لوٹ کر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گھر لوگوں سے بھرا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ نے دونوں ہاتھ اس حلوہ پر رکھے اور جو اللہ نے چاہا اس حلوہ پر پڑھا۔ پھر دس دس کو اس میں سے کھانے کے لئے بلانے لگے اور ان سے فرماتے جاتے: اللہ کا نام لو اور ہر ایک شخص اپنے سامنے سے کھائے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: یہاں تک کھاتے رہے کہ سب خوب سیر ہو کر اس سے ہٹتے۔ اور اُن میں سے جنہوں نے جانا تھا چلے گئے اور کچھ تھوڑے سے رہ گئے جو باتیں کرتے تھے۔ کہتے تھے اور میں رنج محسوس کرنے لگا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے حجروں کی طرف چلے گئے اور میں بھی آپؐ کے پیچھے پیچھے گیا۔ میں نے کہا کہ وہ اب چلے گئے ہیں تو آپؐ لوٹ آئے، آپؐ گھر میں داخل ہوئے اور پردہ ڈال دیا اور ابھی میں حجرے میں ہی تھا اور آپؐ یہ آیت پڑھ رہے تھے: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا … یعنی اے وہ جو مومن ہو نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو سوائے اس کے کہ تم کو کھانے کے لئے اندر آنے کی اجازت دے مگر اس کے پکنے کا انتظار نہ کرتے رہا کرو۔ لیکن اگر تمہیں بلایا جائے تم اندر جاؤ اور جب تم کھا چکو تو منتشر ہو جایا کرو اور باتوں میں مزے لینے نہ لگ جایا کرو۔ یہ بات نبی کو تکلیف دیتی تھی اور وہ تم سے شرماتا تھا۔ اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں جھینپتا۔ ابوعثمان (جعد بن دینار) نے کہا کہ حضرت انسؓ کہتے تھے: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیا ن کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی اُنہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں میں سے کسی کا ولیمہ اتنانہیں کیا جتنا کہ حضرت زینبؓ کا۔ آپؐ نے ایک بکری سے ولیمہ کیا۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے شعیب سے، شعیب نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہؓ کو آزاد کیا اور ان سے شادی کی اور ان کی آزادی ہی اُن کا مہر ٹھہرائی اور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بیان (بن بشر) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نےحضرت انسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے شادی کی۔ (دعوتِ ولیمہ پر بلانے کے لیے) آپؐ نے مجھے بھیجا تو میں کچھ لوگوں کو کھانے کے لئے بلا لایا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ثابت سے روایت کی۔ ثابت نے کہا:حضرت انسؓ کے پاس حضرت زینب بنت جحشؓ کی شادی کا ذکر کیا گیا تو اُنہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپؐ نے اپنی ازواج میں سے کسی کا ولیمہ اتنا کیا ہو جتنا کہ اُن کا کیا۔ آپؐ نے ایک بکری سے ولیمہ کیا۔
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور بن صفیہ سے، منصور نے اپنی ماں حضرت صفیہ بنت شیبہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج کا ولیمہ دو مُد جَو سے بھی کیا۔
عبید بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ہار لیا تھا اور وہ ضائع ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا اور انہیں نماز کا وقت آگیا اور انہوں نے بغیر وضو ہی نماز پڑھ لی۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے آپؐ سے اس کا شکوہ کیا۔ تب تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت اسید بن حضیرؓ (حضرت عائشہؓ سے) کہنے لگے: اللہ آپؓ کو بہتر بدلہ دے۔ کیونکہ اللہ کی قسم! آپؓ سے کبھی کوئی حادثہ پیش نہیں آیا مگر اللہ نے آپؓ کے لئے اس سے نکلنے کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیدا کردی اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت ڈال دی۔
سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے سالم بن ابی جعد سے، سالم نے کریب سے، کریب نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگران میں سے کوئی جب وہ اپنی بیوی سے مباشرت کرنے لگے کہے: اللہ کے نام سے۔ اے اللہ! مجھ سے شیطان کو دُور رکھیو اور شیطان کو جو تم نے ہمیں دیا ہے اس سے دور رکھیو، تو پھر اس دعا کی وجہ سے ان دونوں سے ایسا بچہ مقدر ہوگا یا (فرمایا:) ایسا بچہ پیدا ہونے کے لئے فیصلہ کیا جائے گا کہ اس کو شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ کہتے تھے: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کے وقت دس برس کے تھے اور میری مائیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے کے لئے ہمیشہ کہتی رہتی تھیں اور میں نے آپؐ کی دس سال خدمت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت فوت ہوئے جب میں بیس سال کا تھا اور میں حجاب کے متعلق جب اس کا حکم نازل کیا گیا تمام لوگوں سے زیادہ واقف تھا اور پہلے پہل جو اس کا حکم نازل کیا گیا تو اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحشؓ کو اپنے گھر میں لائے۔ صبح جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے تو آپؐ حضرت زینبؓ کے دولہا تھے۔آپؐ نے لوگوں کو دعوت دی اور اُنہوں نے کھانا کھایا پھر چلے گئے اور اُن میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے رہے اور دیر تک بیٹھے رہے۔ آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر باہر چلے گئے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ گیا تا کہ وہ بھی چلے جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور میں بھی چلا یہاں تک کہ آپؐ حضرت عائشہؓ کے حجرے کی دہلیز پر آئے ۔ پھر آپؐ نے خیال کیا کہ وہ چلے گئے ہیں اور آپؐ (یہ خیال کرکے) لوٹے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ لوٹا۔ جب حضرت زینبؓ کے پاس اندر آئے تو معلوم ہوا کہ ابھی وہ بیٹھے ہوئے ہیں، اُٹھے نہیں۔ یہ معلوم کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے اور میں بھی لوٹا۔ جب آپؐ حضرت عائشہؓ کے حجرے کی دہلیز پر پہنچے اور خیال کیا کہ وہ نکل گئے ہوں گے تو آپؐ لوٹ آئے اور میں بھی آپؐ کے ساتھ لوٹا تو کیا دیکھا کہ وہ نکل گئے تھے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور حجاب کا حکم نازل کیا گیا۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: حمید (طویل) نے مجھے بتایا کہ اُنہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے پوچھا اور اُنہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی تھی، تم نے اُس کو مہر کتنا دیا؟ اُنہوں نے عرض کیا، کھجور کی گٹھلی برابر سونا۔ اور (اِسی سند سے) حُمَید سے مروی ہے، اُنہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انسؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ جب صحابؓہ مدینہ میں آئے تو مہاجرین انصار کے پاس اُترے اور حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف حضرت سعدؓ بن ربیع ؓ کے پاس اترے تھے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: میں تمہیں اپنی جائیداد آدھی دئیے دیتا ہوں اور اپنی دونوں بیویوں میں سے ایک سے تمہارے لیے دست بردار ہو جاتا ہوں۔حضرت عبدالرحمٰنؓ نے کہا: اللہ تمہیں تمہاری بیویوں اور تمہارے مال میں برکت دے۔ پھر وہ منڈی کو گئے اور وہاں بیچا اورخریدا اور کچھ پنیر اور گھی نفع میں لیا اور آخر اُنہوں نے شادی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ولیمہ کرو گو ایک بکری سہی۔