بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 188 hadith
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ محارب بن دثار نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو برا سمجھتے تھے کہ کوئی شخص اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آئے۔
محمد بن مقاتل (مروَزی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ عاصم بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ عاصم نے (عامر) شعبی سے، شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دیر تک غائب رہے تو وہ اپنے گھر والوں کے پاس اچانک رات کو نہ آئے۔
عبداللہ بن یوسف(تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: حضرت ابوبکرؓ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اپنے ہاتھ سے میرے پہلو میں کونچا لگایا اور مجھے ہلنے سے صرف یہی بات روکتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام کر رہے تھے اور آپؐ کا سر میری ران پر تھا۔
مسدد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشیم (بن بشیر) سے، ہشیم نے سیار (بن وردان) سے، سیار نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جابرؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب ہم لوٹے تو میں ایک سست رفتار اونٹ پر سوار تھا، (مدینہ) جلدی جلدی پہنچنے کی کوشش کرتا تھا۔ اتنے میں ایک سوار میرے پیچھے سے آکر مجھے ملا۔ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپؐ نے فرمایا: تمہیں کیا جلدی پڑی ہے؟ میں نے کہا: میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا باکرہ سے شادی کی ہے یا ثیبہ سے؟ میں نے کہا: بلکہ ثیبہ سے۔ آپؐ نے فرمایا: لڑکی کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: جب ہم (مدینہ) پہنچے تو ہم شہر میں داخل ہونے لگے آپؐ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ ، رات کو یعنی عشاء کے وقت داخل ہونا تا کہ جس کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غائب تھا وہ پاکی کرلے۔ ہشیم کہتے تھے اور مجھ سے ایک معتبر شخص نے بیان کیا کہ آپؐ نے اس گفتگو کے اثنا میں یہ بھی کہا: جابرؓ اچھی اولاد کو مدنظر رکھنا، اچھی اولاد کو مد نظر رکھنا۔ كَيْسَ کے معنے ہیں عقلمند اولاد کی خواہش رکھنا۔
محمد بن ولید نے ہمیں بتایا کہ محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سیار سے، سیار نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رات کو پہنچو تو اُس وقت تک اپنے گھر والوں کے پاس نہ جانا جب تک کہ جس کا خاوند غیر حاضر رہا ہے وہ اُسترا اِستعمال نہ کر لے اور جس کے بال بکھرے ہیں وہ کنگھی نہ کرلے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: دیکھنا اچھی اولاد کو مد نظر رکھنا، اچھی اولاد کو مد نظر رکھنا ۔ (شعبی کی طرح) اِس حدیث کو عبیداللہ نے وہب (بن کیسان) سےبھی نقل کیا ہے، وہب نے حضرت جابرؓ سے، حضرت جابرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی اولاد کے حاصل کرنے کے متعلق روایت کیا۔
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم نے مجھے بتایا کہ ہشیم نے ہم سے بیان کیا کہ سیار نے ہمیں خبر دی۔ سیار نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: ہم ایک غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم لوٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے میں نے اپنے ایک سست اونٹ پر سوار ہو کر جلدی جانے کی کوشش کی۔ اِتنے میں ایک سوار میرے پیچھے سے مجھے آملا اور اُس نے ایک چھڑی سے جو اُس کے پاس تھی میرے اونٹ کو کچوکا دیا اور میرا اونٹ نہایت عمدہ چلنے لگا ایسا کہ جیسے تم اونٹوں کو چلتے دیکھتے ہو۔ میں نے مڑ کر جو دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے پوچھا: باکرہ کہ ثیبہ ؟ کہتے تھے، میں نے کہا: ثیبہ۔آپؐ نے فرمایا: باکرہ کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ حضرت جابرؓ کہتے تھے: جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم شہر کے اندر جانے لگے،آپؐ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ رات کو داخل ہونا یعنی عشاء کے وقت تاکہ جس کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غیر حاضر رہا ہو وہ استرا لے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوحازم (سلمہ بن دینار) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: لوگوں نے آپس میں اختلاف کیا ہے کہ جنگ اُحد میں کس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا علاج کیا گیا تو اُنہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے پوچھا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن آخری صحابہ میں سے تھے جو مدینہ میں باقی تھے۔ اُنہوں نے کہا: لوگوں میں سے اب کوئی باقی نہیں رہا جو اِس کے متعلق مجھ سے بڑھ کر جانتا ہو۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام آپؐ کے چہرے سے خون دھوتی تھیں اور حضرت علی اپنی ڈھال میں پانی لاتے جاتے تھے ۔ ایک بوریا لی گئی اور اُس کو جلا کر آپؐ کے زخم کو اُس سے بھردیا گیا۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا، سفیان نے عبدالرحمٰن بن عابس سے روایت کی۔ (اُنہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، اُن سے ایک شخص نے پوچھا: کیا آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ میں شریک ہوئے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں اور اگر میرا آپؐ سے تعلق نہ ہوتا تو میں اِس میں شریک نہ ہوتا یعنی کم سنی کی وجہ سے (شریک نہ ہوتا۔) حضرت ابن عباس ؓنے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپؐ نے نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں سے مخاطب ہوکر تقریر فرمائی اور حضرت ابن عباسؓ نے نہ اذان کا ذکر کیا نہ اقامت کا۔ پھر اِس کے بعد آپؐ عورتوں کے پاس آئے اور اُنہیں وعظ و نصیحت کی اور اُن کو صدقہ دینے کا حکم دیا۔ میں نے اُن عورتوں کو دیکھا کہ وہ جھک جھک کر اپنے کانوں اور گلوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھیں، حضرت بلالؓ کو دیتی جاتی تھیں۔ پھر آپؐ اور حضرت بلالؓ گھر کو چلے گئے۔