بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں خبردی۔ حُمَید بن ابی حُمَید طویل نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: تین شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے گھروں پر آئے اور پوچھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح عبادت کیا کرتے ہیں۔ جب انہیں بتایا گیا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے اسے کم خیال کیا۔ وہ کہنے لگے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں کیا نسبت۔ اللہ نے انہیں جو بھی اُن سے پہلے قصور ہوچکے یا بعد میں ہونے والے تھے سب معاف کر دئیے۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں جو ہوں تو میں رات بھر نماز پڑھوں گا اور دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا اور تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہ کروں گا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟ سنو! اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ کے حضور عاجزی کرتا ہوں اور تم سے زیادہ اس کی ناراضگی سے ڈرتا ہوں مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں او ر عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ سو جس نے میرے طریقے کو ناپسند کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
علی بن الحکم انصاری نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے رقبہ (بن مصقلہ) سے، رقبہ نے طلحہ یامی سے، طلحہ نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت ابن عباسؓ نے پوچھا: کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: شادی کرلو کیونکہ اس امت میں سے جو بہتر تھے اُنہی کی زیادہ بیویاں تھیں۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہم سے بیان کیا، کہا: قیس (بن ابی حازم( نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن مسعود رضیاللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کے لئے نکلا کرتے تھے۔ ہمارے پاس عورتیں نہ ہوتیں۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم خصی نہ ہوجائیں؟ تو آپؐ نے ہمیں اِس سے روکا۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حسان بن ابراہیم سے سنا۔ حسان نے یونس بن یزید (ایلی) سے، یونس نے زُہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے عروہ (بن زبیر) نے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا…۔ کے متعلق پوچھا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میرے بھانجے! (یہ) وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سرپرست کی پرورش میں ہو اَور وہ اس کی جائیداد اور اس کی خوبصورتی پر للچاتے ہوئے چاہتا ہے کہ رواج کے مطابق جو اُس کا حق مہر ہے اس سے کم دے کر اس سے شادی کرلے۔ اس لئے انہیں ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا سوائے اس کے کہ وہ ان کے حق میں انصاف کریں اور اُن کو پورا پورا حق مہر دیں۔ اور ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا انہیں حکم دیا گیا۔
(تشریح)عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم (نخعی) نے مجھے بتایا۔ ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کے ساتھ تھا۔ حضرت عثمانؓ منیٰ میں اُن سے ملے اور کہنے لگے: ابوعبدالرحمٰنؓ! مجھے تم سے کچھ کام ہے اور وہ دونوں الگ ہوگئے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: ابوعبدالرحمٰنؓ! کیا تمہیں خواہش ہے کہ ہم تمہاری ایسی کنواری سے شادی کر دیں جو تمہیں جوانی کا زمانہ یاد دلا دے۔ جب حضرت عبداللہؓ نے دیکھا کہ انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں تو انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور کہنے لگے: علقمہ! میں ان کے پاس گیا۔ اور وہ (حضرت عثمانؓ سے یہ) کہہ رہے تھے: دیکھیں اگر آپؓ یہ کہتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہم سے یہ فرما چکے ہیں: اے جوانو! جو تم میں سے بیاہ کی طاقت رکھتا ہے تو وہ شادی کرلے اور جو طاقت نہیں رکھتا تو اسے روزے رکھنے چاہیں کیونکہ یہ اس کی شہوت کو کمزور کرنے کا موجب ہوں گے۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: عُمارہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں علقمہ اور اسوَد کے ساتھ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کے پاس گیا تو حضرت عبداللہؓ نے کہا: ہم جوان جوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ کسی قسم کی استطاعت نہ رکھتے (کہ شادی کریں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جوانوں کی جماعت! جوبیاہ کرسکے وہ شادی کرلے۔ کیونکہ یہ نگاہ کو نیچا رکھنے اور شرمگاہ کو بچانے کا زیادہ موجب ہے۔ اور جو طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنے چاہیں کیونکہ یہ بھی شہوت کو کم کرنے کا موجب ہوگا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ 5067: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: عطاء نے مجھے بتایا۔ کہا: ہم سرف میں حضرت ابن عباسؓ کے ساتھ حضرت میمونہؓ کے جنازے میں شریک ہوئے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ جب تم اِن کا جنازہ اُٹھاؤ تو اِسے ہلاؤ نہیں اور نہ اسے لڑکھڑاؤ اور آہستہ چلو۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نَو (ازواج) تھیں۔ آٹھ کے پاس تو باری باری جاتے تھے اور ایک کے لئے باری مقرر نہ کی ہوئی تھی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں اپنی تمام ازواج کے پاس چکر لگایا کرتے تھے۔ اور اس وقت آپؐ کی نَو اَزواج تھیں۔ اور خلیفہ (بن خیاط) نے مجھے کہا کہ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت انسؓ نے اُن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی روایت بیان کی۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے محمد بن ابراہیم بن حارث (تیمی) سے، انہوں نے علقمہ بن وقاص (بن محصن) سے، علقمہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر عمل نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جو اُس نے نیت کی ہوتی ہے۔ سو جس کی ہجرت اللہ اور اُس کے رسول کے لئے ہوئی تو اُس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہوئی تو اُس کی ہجرت اُس کے لئے ہے جس کی خاطر اُس نے ہجرت کی۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے حمید طویل سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف (مدینہ میں) آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اور حضرت سعد بن ربیع انصاریؓ کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ انصاری (بھائی) کے پاس دو عورتیں تھیں تو اُنہوں نے حضرت عبدالرحمٰنؓ کے سامنے یہ پیش کیا کہ وہ اپنی بیویاں اور اپنی جائیداد سے آدھوں آدھ بانٹ دیتے ہیں۔ (حضرت عبدالرحمٰنؓ نے سن کر) کہا: اللہ تمہیں تمہاری بیویوں اور تمہاری جائیداد میں برکت دے۔ تم مجھے منڈی کا پتہ دو۔ وہ منڈی میں آئے اور کچھ پنیر اور کچھ گھی نفع میں لائے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰنؓ کو کئی دنوں کے بعد دیکھا۔ اُن پر زرد رنگ کے دھبے تھے۔ آپؐ نے پوچھا: عبدالرحمٰن یہ کیسے؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مہرکیا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: گٹھلی کے برابر سونا۔ آپؐ نے فرمایا: ولیمہ کرو گو ایک ہی بکری سے۔