بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے خلاد نے بیان کیا، کہا: عبدالواحد بن ایمن نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت جابر سے روایت کی کہ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے لئے ایسی چیز نہ بنوا دوں کہ جس پر آپ بیٹھا کریں کیونکہ میرا ایک لڑکا بڑھئی ہے۔ فرمایا: اگر تم چاہو۔ اس پر اس نے منبر بنوا دیا۔
(تشریح)ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا۔ کہتے تھے کہ میں نے عمر و سے کہا: کیا تم نے حضرت جابر بن عبد اللہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ ایک شخص مسجد میں سے گزر رہا تھا۔ اس کے پاس تیر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ان کے پھلوں کو پکڑو۔
(تشریح)ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوبردہ بن عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔ کہتے تھے کہ میں نے ابو بردہ سے سنا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو ہماری مسجدوں اور ہمارے بازاروں میں کسی جگہ تیر لے کر گزرے تو چاہئے کہ وہ ان کو پھلوں سے پکڑے اپنے ہاتھ سے کسی مسلمان کو زخمی نہ کر دے۔
ابراہیم بن منذر نے (اس حدیث میں اتنا) بڑھایا ہے کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا کہ یونس نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حبشی اپنی سنگینوں سے کھیل رہے تھے۔
ہم سے یحیی بن سلیمان نے بیان کیا، ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ عمرو نے مجھے بتایا کہ بگیر نے ان سے بیان کیا کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے انہیں بتلایا کہ انہوں نے عبید اللہ خولانی سے سنا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان کو سنا جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد بنوائی اور لوگ ان کے متعلق چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ یہ کہتے ہوئے سنا: تم نے بہت باتیں کی ہیں اور حالانکہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جس نے مسجد بنوائی۔ بنگیر نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ کہا اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اس جیسی عمارت بنائے گا۔
(تشریح)ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا: شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ وہ کہتے تھے کہ ابوسلمہ بن عبد الرحمان بن عوف نے مجھ کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری کو حضرت ابو ہریرہ سے شہادت طلب کرتے سنا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا: حسان! رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! روح القدس سے اس کی مدد کیجیو۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: ہاں۔
(تشریح)ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے صالح سے۔ صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اپنے حجرہ کے دروازہ کے پاس دیکھا اور حبشی مسجد میں کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر سے مجھے پردہ کئے ہوئے تھے۔ میں ان کے کھیلوں کو دیکھ رہی تھی۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے بیٹی سے، بیٹی نے عمرہ ہے، عمرہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ اُن کے پاس حضرت بریرہ آئیں۔ وہ اپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے اُن سے روپیہ تی تھیں تو انہوں نے کہا کہ اگر تو چاہے تو میں تیرے مالکوں کو (قیمت) دے دوں اور حقِ وراثت میرا ہوگا۔ تو اُس کے مالکوں نے (حضرت عائشہ سے) کہا کہ اگر آپ چاہیں تو جو باقی ہے اس کو دے دیں۔ اور سفیان نے ایک دفعہ یوں بھی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اُسے آزاد کر دیں مگر حقِ وراثت ہمارا ہوگا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو حضرت عائشہ نے آپ سے یہ ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: اُسے خرید لو اور اُس کو آزاد کر دو۔ کیونکہ حقِ وراثت اُسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا: اُن لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں اور جو شخص ایسی شرط کرتا ہے جو اللہ کی کتاب میں نہیں تو وہ شرط اس کے لیے نہیں ہوتی گو وہ سو بار شرط کرے۔ علی (بن عبداللہ) نے کہا: یحیٰ بن سعید قطان اور عبد الوہاب نے کئی (بن سعید انصاری) سے، انہوں نے عمرہ سے (اسی طرح روایت کی) اور جعفر بن عون نے یحیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا: میں نے عمرہ سے سنا۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے سنا۔ اور مالک نے یحیٰ نے عمرہ سے یوں روایت کی کہ حضرت بریرہ۔۔۔ اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا: "صَعِدَ الْمِنْبَرَ" کہ وہ منبر پر چڑھے۔
(تشریح)ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: عثمان بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبد اللہ بن کعب بن مالک سے، انہوں نے حضرت کعب سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن ابی حدرد سے مسجد میں قرض کا تقاضا کیا جو ان کا ان کے ذمہ تھا۔ ان دونوں کی آواز میں اتنی بلند ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیں۔ حالانکہ آپ اپنے گھر تھے۔ اس پر آپ ان کی طرف نکلے اور اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور پکارا: کعب! عرض کیا: حاضر یا رسول اللہ! فرمایا: اپنے اس قرض سے کچھ کم کر دو اور آپ نے ان کو اشارہ کیا یعنی نصف۔ حضرت کعب نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے کم کر دیا۔ آپ نے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو۔
(تشریح)ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے ابو رافع سے، ابو رافع نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ ایک کالا آدمی مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ یا کہا کالی عورت۔ پس وہ مر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ مر گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر کیا تم نے مجھے اس کی اطلاع نہ دینی تھی۔ مجھے اس مرد کی قبر کا پتہ دو یا فرمایا اس عورت کی قبر کا پتہ دو۔ آپ اس کی قبر پر آئے اور اس کا جنازہ پڑھا۔
(تشریح)