بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے،اشعث نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (میرے پاس) آئے اور اُس وقت میرے پاس ایک شخص تھا، فرمایا: عائشہؓ یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میرا رضاعی بھائی۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ ! تم عورتیں دیکھ لیا کرو، کون تمہارا بھائی ہے؟ کیونکہ رضاعت (دراصل) وہی ہے جس میں دودھ کی مقدار اتنی ہو جس سے بچہ سیر ہوجائے۔ (محمد بن کثیر کی طرح عبدالرحمن) بن مہدی نے بھی سفیان (ثوری) سے نقل کرتے ہوئے یہی روایت بیان کی۔ طرفہُ: ۵۱۰۲۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیدا للہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے، حضرت زیدؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے اس شخص کو سو کوڑے لگائے اور ایک سال جلا وطن کئے جانے کا حکم دیا جس نے زنا کیا تھا اور وہ شادی شدہ نہ تھا۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس سے روایت کی۔ اور لیث نے کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا۔ ایک عورت نے فتح مکہ کے دِنوں میں چوری کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی۔ آپؐ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اس کی توبہ اچھی ہوئی اور اس نے شادی کی اور اس کے بعد جب بھی وہ آتی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کردیتی۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ ابوحیان (یحيٰ بن سعید) تیمی نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہتے تھے: میری ماں نے میرے باپ سے کہا کہ نعمان کیلئے اپنے مال سے کچھ ہبہ کردیں( وہ نہ مانے) پھر انہیں خیال آیا اور انہوں نے میرے لئے ہبہ کردیا۔ میری ماں نے کہا: میں خوش نہ ہوں گی جب تک تم نبی ﷺ کو گواہ نہ ٹھہرائو گے تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ا ور میں اُس وقت بچہ ہی تھا اور نبی ﷺ کے پاس مجھے لے گئے اور کہا: اس کی ماں نے جو رواحہ کی بیٹی ہیں مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے لئے ہبہ کردوں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا اس کے سوا تمہاری اور اولاد بھی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (نعمان) کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں، آپؐ نے فرمایا: مجھے ظلم کی بات پر گواہ نہ ٹھہرائو۔ اور ابوحریز نے شعبی سے یوں نقل کیا: میں ظلم کی بات پر گواہ نہیں بنتا۔
آدم نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابوجمرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے زہدم بن مضرب سے سنا۔ زہدم نے کہا: میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں۔ پھر وہ لوگ جو اُن کے بعد ہیں۔ پھر وہ جواُن کے بعد ہوں گے۔ عمران کہتے تھے: میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو خیانتیں کریں گے اور ان پر اعتبار نہیں کیا جائے گا اور وہ خود بخود گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی اور نذر مانیں گے اور پوری نہ کریں گے اور موٹاپا انہیں خوب ہوگا۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ( بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانہ کے ہیں۔ پھر وہ جو اس کے بعد ہیں۔ پھر وہ جو اُن کے بعد ہوں گے۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے ایک حلفیہ شہادت سے پہلے ہی شہادت دینے لگے گا بحالیکہ دیکھا کچھ بھی نہیں ہوگا اور قسم طلب کئے جانے پر فوراً قسم کھا لے گا۔ ابراہیم (نخعی) نے کہا:ہم تو (بچپن میں) گواہ بننے اور قول وپیمان کرنے کی وجہ سے پیٹے جاتے تھے۔
عبداللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیاکہ انہوں نے وہب بن جریر اور عبدالملک بن ابراہیم سے سنا کہ ان دونوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس سے، عبیداللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سے بڑے گناہوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی اور کسی نفس کا ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا (یہ سب سے بڑے گناہ ہیں۔) (وہب بن جریر کی طرح) غندر( محمد بن جعفر) اور ابوعامر (عقدی) اور بہز(بن اَسد) اور عبدالصمد (بن عبدالوارث) نے بھی شعبہ سے یہی روایت نقل کی ہے۔
مسدد نے ہمیں بتایا۔ بشر بن مفضل نے ہم سے بیان کیا کہ جریری نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے عبدالرحمن بن ابوبکرہ سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: کیا میں تمہیں بڑے گناہ نہ بتائوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں یارسول اللہ! فرمائیں؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی اور آپؐ تکیہ لگائے تھے، اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ہوشیار رہو جھوٹ بولنا بھی۔ کہتے تھے: آپؐ اسے اتنی باردہراتے رہے کہ ہم نے کہا: کاش ! آپؐ خاموش ہوجائیں۔ اور اسماعیل بن ابراہیم نے یوں روایت کی: ہم سے جریری نے بیان کیا کہ عبدالرحمن نے ہمیںبتایا۔
محمد بن عبیدبن میمون نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے ایک شخص کو مسجد میں (قرآن مجید) پڑھتے سنا تو آپؐ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے، اس نے تو مجھے فلاں فلاں آیت یاد دِلا دی ہے جنہیں میں فلاں فلاں سورۃ میں بھول گیا تھا۔ اور عباد بن عبداللہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا اور بڑھایا کہ نبی ﷺ میرے گھر میں تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں آپؐ نے عباد (بن بشیرؓ) کی آواز سنی جو مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ تو آپؐ نے پوچھا۔ عائشہؓ ! کیا یہ عباد کی آواز ہے؟ میں نے کہا: ہاں ۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! عباد پر رحم کر۔
مالک بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو بلالؓ رات کو اذان دیتے ہیں، تم کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ ابن امّ مکتومؓ اذان دے یا فرمایا: یہاں تک کہ تم ابن امّ مکتومؓ کی اذان سنو۔ اور حضرت ابن امّ مکتومؓ نابینا شخص تھے وہ اذان نہیں دیا کرتے تھے جب تک کہ لوگ ان کو نہ کہتے کہ صبح ہوگئی ہے۔