بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
محمد(بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس لئے قسم کھائی کہ وہ کسی مسلمان آدمی کے مال سے کچھ لے لے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو تو اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناخوش ہوگا۔ (شقیق) کہتے تھے کہ حضرت اشعث بن قیسؓ(یہ سن کر) بولے: یہ تو بخدا میرے ہی متعلق تھا۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک مشترکہ زمین تھی۔ اس نے میرے حصہ کا انکار کردیا۔ میں نے اُسے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی شہادت ہے؟ کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تب آپؐ نے اس یہودی سے کہا: قسم کھائو۔ کہتے تھے: میں نے کہا: یارسول اللہ! یہ تو قسم کھا کر میرا مال اُڑا لے جائے گا۔ (حضرت اشعث) کہتے تھے: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت وحی کی: وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی پونجی خریدتے ہیں…
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ نافع بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: (حضرت عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعیٰ علیہ کو قسم دِلانے کا حکم دیا ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے (حضرت عبداللہ) بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جس نے اس غرض سے قسم کھائی کہ اس کے ذریعے کسی کا مال مارے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔
اسحاق بن نصر نے مجھے بتایا۔ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آدمیوں کو قسم کھانے کے لئے فرمایا تو وہ جلدی کرنے لگے۔ آپؐ نے فرمایا: ان کے درمیان قسم کھانے کے لئے قرعہ ڈالا جائے کہ کون ان میں سے قسم کھائے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہؓ (بن مسعود)کہتے تھے: جس نے اس غرض سے قسم کھائی کہ مال اس کا ہوجائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس بارہ میں یہ آیت نازل کی ہے: }یقینا وہ لوگ جو اللہ کے عہدوں اور قَسموں کو معمولی قیمت میں بیچ دیتے ہیں… اور ان کے لیے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔{ پھر اس کے بعد حضرت اشعث بن قیسؓ (اپنے گھر سے) باہر ہمارے پاس آئے اور انہوں نے پوچھا: ابوعبدالرحمن (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) تمہیں کیا بتا رہے تھے؟ ہم نے انہیں جو انہوں نے کہا تھا، بتایا۔ انہوں نے کہا: سچ کہا ہے۔ میرے ہی متعلق یہ آیت نازل کی گئی تھی ۔ میرے اور ایک شخص کے درمیان کسی چیز کی بابت جھگڑا تھا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ کے لئے گئے۔ آپؐ نے مجھ سے فرمایا: تمہارے دو گواہ چاہئیں ورنہ اس سے قسم لی جائے گی۔ میں نے آپؐ سے کہا: تب تو یہ قسم کھالے گا اور کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اس لئے قسم کھائی کہ وہ اس کے ذریعے کسی مال کو اپنا بنا لے اور اس قسم میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے اور انہوں نے یہ آیت پڑھی۔
(تشریح)عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہؓ (بن مسعود)کہتے تھے: جس نے اس غرض سے قسم کھائی کہ مال اس کا ہوجائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس بارہ میں یہ آیت نازل کی ہے: }یقینا وہ لوگ جو اللہ کے عہدوں اور قَسموں کو معمولی قیمت میں بیچ دیتے ہیں… اور ان کے لیے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔{ پھر اس کے بعد حضرت اشعث بن قیسؓ (اپنے گھر سے) باہر ہمارے پاس آئے اور انہوں نے پوچھا: ابوعبدالرحمن (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) تمہیں کیا بتا رہے تھے؟ ہم نے انہیں جو انہوں نے کہا تھا، بتایا۔ انہوں نے کہا: سچ کہا ہے۔ میرے ہی متعلق یہ آیت نازل کی گئی تھی ۔ میرے اور ایک شخص کے درمیان کسی چیز کی بابت جھگڑا تھا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ کے لئے گئے۔ آپؐ نے مجھ سے فرمایا: تمہارے دو گواہ چاہئیں ورنہ اس سے قسم لی جائے گی۔ میں نے آپؐ سے کہا: تب تو یہ قسم کھالے گا اور کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اس لئے قسم کھائی کہ وہ اس کے ذریعے کسی مال کو اپنا بنا لے اور اس قسم میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے اور انہوں نے یہ آیت پڑھی۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام ( بن حسان) سے، انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ہلال بن امیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سحماء سے زنا کیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہادت لائو ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے جائیں گے تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی پر کسی شخص کو دیکھے تو وہ شہادت ڈھونڈنے کے لئے چل پڑے؟ تو آپؐ یہی فرماتے رہے: شہادت لائو ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے جائیں گے۔ پھر (حضرت ابن عباسؓ نے) لعان کی حدیث بیان کی۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن عبدالحمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ہیں جن سے اللہ بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا: ایک وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ اس سے مسافروں کو محروم کرتا ہے اور وہ شخص جس نے کسی شخص کی بیعت کی اور صرف دنیا ہی کی خاطر بیعت کی۔ اگر اس نے اس کو جو وہ چاہتا ہے دے دیا تو اس کا وفادار رہا ورنہ اس نے وفاداری نہ کی اور وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی شخص سے کسی سامان کا بھائو کیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ اس چیز کا اتنا معاوضہ ملتا تھا اور لینے والا اس چیز کو لے لے۔
اسحاق نے مجھ سے بیان کیا کہ یزید بن ہارون نے ہمیں خبردی کہ عوام (بن حوشب) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ابراہیم ابو اسماعیل سکسکی نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک شخص نے اپنا سامان بیچنے کے لئے رکھا اور اللہ کی قسم کھائی کہ اسے اس مال کے لئے اتنی قیمت دی جاتی رہی ہے، (مگر حقیقت میں اتنی قیمت پیش نہیں کی گئی تھی) اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی پونجی لیتے ہیں۔ ابن ابی اوفیٰ نے کہا: نَاجِش سُود خوراور خیانت کرنے والا ہوتا ہے۔
(تشریح)بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو جھوٹا ہوکر اس غرض سے قسم کھائے کہ کسی شخص کایا فرمایا کہ اپنے بھائی کا مال مارے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا اور اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں اس بارہ میں یہ آیت نازل کی ہے: وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی پونجی لیتے ہیں… ان کے لیے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ پھر مجھ سے حضرت اشعثؓ ملے۔ انہوں نے پوچھا: آج عبداللہؓ نے تمہیں کیا بتایا تھا۔ میں نے کہا: یہ یہ باتیں ۔ تو انہوں نے کہا: میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی۔
(تشریح)