بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
زیاد بن یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ حاتم بن وردان نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیاتی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے، عبداللہ نے حضرت مِسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئیں تو میرے باپ مخرمہؓ نے مجھ سے کہا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس میرے ساتھ چلو، اُمید ہے کہ آپؐ ان میں سے ہمیں بھی دیں گے۔ میرے باپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور باتیں کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچانی اور باہر نکلے۔ آپؐ کے پاس ایک قبا تھی۔ آپؐ ان کو اس قبا کی خوبیاں دکھانے لگے اور آپؐ یہ بھی فرماتے تھے کہ یہ میں نے تمہارے لئے چھپا رکھی تھی۔یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمر بن سعید سے، عمر نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے عقبہ بن حارث سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی۔ پھر ایک عورت آئی او ر کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپؐ نے فرمایا: اب کیسے ہو جبکہ یہ کہا گیا ہے، اسے چھوڑدو یا آپؐ نے کچھ ایسا ہی فرمایا۔
محمد بن صباح نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل بن زکریا نے ہم سے بیان کیا کہ بریدبن عبداللہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کسی شخص کی تعریف کرتے سنا اور وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کررہا تھا تو آپؐ نے فرمایا: تم نے اس شخص کو ہلاک کر دیا یا فرمایا: تم نے اس شخص کی پیٹھ توڑ ڈالی۔ طرفہُ: ۶۰۶۰۔
علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ہم سے سفیان (بن عیینہ) نے بیان کیا کہ صفوان بن سلیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ یہ اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جمعہ کے دن نہانا ہر ایک بالغ پر واجب ہے۔
ابوعاصم ( ضحاک بن مخلد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے عقبہ بن حارث سے روایت کی۔ اور علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ یحيٰبن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا۔ کہتے تھے: حضرت عقبہ بن حارثؓ نے مجھ سے بیان کیایا (کہا:) میں نے ان سے سنا کہ انہوں نے امّ یحيٰ بنت ابی اہاب (تمیمہ) سے شادی کی، کہتے تھے: پھر ایک کالی لونڈی آئی اور اس نے کہا: میں تم دونوں کو دودھ پلا چکی ہوں۔ میں نے اس کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو آپؐ نے مجھ سے منہ پھرلیا۔ کہتے تھے: میں دوسری طرف سے آپؐ کے سامنے آیا۔ میں نے آپؐ سے یہ ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اب کیسے اکٹھے رہ سکتے ہو، جب وہ کہتی ہے کہ وہ تم دونوں کو دودھ پلا چکی ہے۔ تو آپؐ نے ان کو اس عورت سے روک دیا۔
ابوربیع سلیمان بن دائود نے ہم سے بیان کیا اور احمد (بن یونس) نے بھی اس حدیث کا ایک حصہ مجھے سمجھایا۔ (انہوں نے کہا:) ہمیں فلیح بن سلیمان نے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب زہری سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر اور سعیدبن مسیب اور علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ جب تہمت لگانے والوں نے ان کی نسبت کہا جو کہا اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس تہمت سے بری کیا۔ زہری کہتے تھے کہ ان میں سے ہر ایک نے حضرت عائشہؓ کے واقعہ کا ایک ایک ٹکڑہ مجھ سے بیان کیا اور ان میں سے بعض دوسروں سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے اور بیان کرنے میں زیادہ ثقہ۔ اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی بات یاد رکھی ہے جو اس نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتائی اور ان کے بیان کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت عائشہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ فرماتے تو آپؐ اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ پھر جس کا قرعہ نکلتا آپؐ اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ چنانچہ آپؐ نے ایک حملے کے وقت جو آپؐ نے کیا، ہمارے درمیان قرعہ ڈالا، میرا قرعہ نکلا۔ میں آپؐ کے ساتھ گئی ۔ اس وقت حجاب کا حکم اتر چکا تھا۔ میں ہودج میں بٹھائی جاتی اور ہودج سمیت اُتاری جاتی رہی۔ ہم اسی طرح سفر میں رہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس حملے سے فارغ ہوئے اور واپس آئے اور ہم مدینہ کے قریب ہی تھے کہ ایک رات آپؐ نے کوچ کا حکم دیا۔ جب لوگوں نے کوچ کا اعلان کیا تو میں بھی چل پڑی اور فوج سے آگے نکل گئی۔ جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنے ہودج کی طرف آئی اور میں نے اپنے سینہ کو ہاتھ لگایا تو کیا دیکھتی ہوں کہ ظفار کے کالے نگینوں کا ہارٹوٹ کرگرگیا ہے۔ میں لَوٹی اور اپنا ہار ڈھونڈنے لگی۔ اس کی تلاش نے مجھے روکے رکھا۔ اتنے میں وہ لوگ جو میرے اونٹ کو تیار کرتے تھے، آئے اور انہوں نے میرا ہودج اٹھا لیا اور وہ ہودج میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوارہوا کرتی تھی اور وہ سمجھے کہ میں اسی میں ہوں اور عورتیں ان دنوں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں، بھاری بھرکم نہ تھیں۔ ان کے بدن پر زیادہ گوشت نہ ہوتا۔ وہ تھوڑا ہی سا تو کھانا کھایا کرتی تھیں۔ لوگوں نے جب ہودج کو اٹھایا تو اس کے بوجھ کو غیر معمولی نہ سمجھے۔ انہوں نے اس کو اٹھا لیا اور میں کم عمر لڑکی تھی۔ انہوں نے اونٹ کو اٹھا کر چلا دیا اور خود بھی چل پڑے۔ جب سارا لشکر گذرچکا ۔ اس کے بعد میں نے اپنا ہار پالیا۔ میں ان کے ڈیرے پر آئی اور اس میں کوئی نہ تھا۔ پھر میں اپنے اس ڈیرے کی طرف گئی جس میں مَیں تھی اور میں نے خیال کیا کہ وہ مجھے نہ پائیں گے اور میرے پاس لَوٹ آئیں گے۔ میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اسی اثناء میں میری آنکھ لگ گئی اور میں سوگئی۔ صفوان بن معطلؓ سلمی ذکوانی فوج کے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ صبح میرے ڈیرے پر آئے اور انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کاوجوددیکھا اور میرے پاس آئے اور حجاب کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھا کرتے تھے۔ ان کے اِنا للہ پڑھنے پر میں جاگ اٹھی۔ جب انہوں نے اپنی اُونٹنی بٹھائی میں نے اپنا پائوں ان کے ایک ہاتھ پر رکھا اور میں اس پر سوار ہوگئی اور وہ اُونٹنی کی نکیل پکڑ کر چل پڑے۔ یہاں تک کہ ہم فوج میں اس وقت پہنچے جبکہ لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لئے ڈیروں میں تھے۔ پھر جس کو ہلاک ہونا تھا ہلاک ہوگیا اور اس تہمت کا بانی عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ ہم مدینہ پہنچے ۔ میں وہاں ایک ماہ تک بیمار رہی۔تہمت لگانے والوں کی باتوں کا لوگ چرچا کرتے رہے اور میری اس بیماری کے اثناء میں جو بات مجھے شک میں ڈالتی تھی وہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مہربانی نہ دیکھتی تھی جو میں آپؐ سے اپنی بیماری میں دیکھاکرتی تھی۔ آپؐ صرف اندر آتے اور السلام علیکم کہتے پھر پوچھتے اب وہ کیسی ہے۔ مجھے اس تہمت کا کچھ بھی علم نہ تھا۔ یہاں تک کہ جب میں نے بیماری سے شفاپائی، حالت نقاہت میں تھی کہ میں اور امّ مسطح مناصع کی طرف گئیں جو قضائے حاجت کی جگہ تھی۔ ہم رات ہی کو نکلا کرتے تھے اور یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے جب ہم نے اپنے گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنائے اور اس سے قبل ہماری حالت پہلے عربوں کی سی تھی جو جنگل میں یا باہر الگ جاکر قضائے حاجت کیا کرتے تھے۔ میں اور امّ مسطح بنت ابی رہم دونوں جارہی تھیں کہ اتنے میں وہ اپنی اَوڑھنی سے اٹکی اور ٹھوکر کھائی۔ تب بولی مسطح بدنصیب۔ میں نے اس سے کہا: کیا ہی بری بات ہے جو تم نے کہی ہے۔ کیا تو ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہے جو جنگ بدر میں موجود تھا تو اس نے کہا: اری بھولی بھالی! کیا تم نے نہیں سنا جو لوگوں نے افتراء کیا ہے؟ تب اس نے مجھے تہمت لگانے والوں کی بات سنائی ۔ اس پرمیری بیماری بڑھ گئی۔ جب اپنے گھرکو لَوٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور آپؐ نے السلام علیکم کہا اور آپؐ نے پوچھا: اب تم کیسی ہو؟ میں نے کہا: مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیں۔ کہتی تھیں: میں اس وقت یہ چاہتی تھی کہ میں ان کے پاس جاکر اس کی نسبت معلوم کر لوں۔ آپؐ نے مجھے اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا: لوگ کیا باتیں کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا: بیٹی ، اس بات سے اپنی جان کو جنجال میں نہ ڈال۔ اطمینان سے رہو۔ اللہ کی قسم ! کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کبھی کسی شخص کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہو، جس سے وہ محبت رکھے اور اس کی سوکنیں ہوں اور پھر اس کے برخلاف باتیں نہ کریں۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! لوگ ایسی بات کا چرچا کررہے ہیں۔ کہتی تھیں: میں نے وہ رات اس طرح کاٹی کہ صبح تک نہ میرے آنسو تھمے اور نہ مجھے نیند آئی۔ جب میں صبح اُٹھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالبؓ اور اُسامہ بن زیدؓ کو بلایا؛ اس وقت جب وحی کے آنے میں دیر ہوئی تا ان دونوں سے اپنی بیوی کو چھوڑنے کے بارے میں مشورہ کریں۔ اُسامہؓ نے تو آپؐ کو اس محبت کی بناء پر مشورہ دیا، جو ان کو آپؐ کی بیویوں سے تھی۔ اُسامہؓ نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ کی بیوی ہیں اور ہم اللہ کی قسم! سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں جانتے۔ لیکن علی بن ابی طالبؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپؐ پر کچھ تنگی نہیں رکھی اور اس کے سوا اور عورتیں بہت ہیں، اور اس خادمہ سے پوچھئے ۔ وہ آپؐ سے سچ سچ کہہ دے گی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہؓ کو بلا یا اور آپؐ نے کہا: بریرہؓ ! کیا تم نے اس میں کوئی ایسی بات دیکھی جو تمہیں شبہ میں ڈالے۔ بریرہؓ نے کہا: ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں نے حضرت عائشہؓ میں اس سے زیادہ کوئی اور بات نہیں دیکھی جس کو میں ان کے لئے معیوب سمجھوں کہ وہ کم عمر لڑکی ہے۔ آٹا چھوڑ کر سوجاتی ہے۔ گھر کی بکری آتی ہے اور وہ اسے کھاجاتی ہے۔ یہ سن کر اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو مخاطب فرمایا اور عبداللہ بن ابی بن سلول کی شکایت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے شخص کو کون سنبھلے، جس نے میری بیوی کے بارے میں مجھے دُکھ دیا ہے۔ میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں کہ اپنی بیوی میں سوائے بھلائی کے اور کوئی بات مجھے معلوم نہیں اوران لوگوں نے ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جس کی بابت بھی مجھے بھلائی کے سوا کوئی علم نہیں اور میرے گھر والوں کے پاس جب بھی وہ آیا کرتے میرے ساتھ ہی آتے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: یارسول اللہ! بخدا میں اس سے آپؐ کا بدلہ لوں گا۔ اگر وہ اَوس کا ہوا تو میں اس کی گردن اُڑا دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج سے ہوا تو جو بھی آپؐ ہمیں حکم دیں گے ہم آپؐ کا حکم بجا لائیں گے۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے اور وہ خزرج کے سردار تھے اور اس سے پہلے وہ اچھے آدمی تھے لیکن قومی عزت نے انہیں بھڑکا دیا اور انہوں نے کہا: تم نے غلط کہا۔ اللہ کی قسم ! تم اسے نہیں ماروگے اور نہ ایساکرسکو گے۔ اس پر اسید بن حضیرؓ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا: تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ کی قسم! اللہ کی قسم ! ہم اسے ضرور مارڈالیں گے۔ تو تو منافق ہے جو منافقوں کی طرف سے جھگڑتا ہے۔ اس پر دونوں قبیلے اَوس اور خزرج بھڑک اٹھے۔ یہاں تک کہ وہ لڑنے پر آمادہ ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے تھے۔ آپؐ اُترے اور ان کو ٹھنڈا کیا یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے اور آپؐ بھی خاموش ہو رہے۔ اور میں سارادن روتی رہی نہ میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی۔ میرے ماں باپ میرے پاس آگئے۔ میں دو راتیں اور ایک دن اتنا روئی کہ میں سمجھی کہ یہ رونا میرے جگر کو شق کردے گا۔ کہتی تھیں کہ اس اثناء میں وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اورمیں رورہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت چاہی اور میں نے اسے اجازت دی۔ وہ بھی بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے اور بیٹھ گئے اور اس سے پہلے جس دن سے مجھ پر تہمت لگائی گئی آپؐ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور آپؐ ایک مہینہ منتظر رہے مگر میرے متعلق آپؐ کو کوئی وحی نہ ہوئی۔ کہتی تھیں: آپؐ نے تشہد پڑھا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ! مجھے تمہارے متعلق یہ بات پہنچی ہے سو اگر تم بَری ہو تو ضرور اللہ تعالیٰ تمہیں بَری فرمائے گا اور اگر تم سے کوئی کمزوری ہوگئی ہو تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور اس کے بعد توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی اس پر رحم کرتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات ختم کرچکے میرے آنسو خشک ہوگئے، یہاں تک کہ آنسوئوں کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہوا، اور میں نے اپنے باپ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے جواب دیجئے۔ تو انہوں نے کہا: بخدا میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں۔ پھر میں نے اپنی ماں سے کہا: آپ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو آپؐ نے فرمایا ہے اس کا میری طرف سے جواب دیں۔ انہوں نے کہا: بخدا میں نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں کم عمر لڑکی تھی۔ قرآن مجید زیادہ نہیں جانتی تھی، تو میں نے کہا: بخدا مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ آپ لوگوں نے وہ بات سنی ہے جس کا لوگ آپس میں تذکرہ کرتے ہیں اور آپ کے دِلوں میں وہ بات بیٹھ گئی ہے اور آپ نے اسے درست سمجھ لیا ہے اور اگر میں آپؐ سے کہوں کہ میں بَری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں فی الواقع بَری ہوں آپؐ مجھے اس میںسچا نہیں سمجھیں گے اور اگر میں آپؐ کے پاس کسی بات کا اقرار کرلوں حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ میں بَری ہوں مگر آپؐ اس اقرار میں مجھے سچا سمجھ لیں گے۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اور آپؐ کی کوئی مثال نہیں پاتی سوائے یوسف کے باپ کی۔ انہوں نے کہا تھا: صبر کرنا ہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے اس بات میں جو تم لوگ بیان کررہے ہو۔ اس کے بعد میں ایک طرف ہٹ کر اپنے بستر پر آگئی اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ مجھے بَری کرے گا۔ لیکن بخدا ! مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میرے متعلق بھی کوئی وحی نازل ہوگی، بلکہ میں اپنے خیال میںاس سے بہت ادنیٰ تھی کہ میری نسبت قرآن میں بیان کیا جائے۔ لیکن مجھے یہ ضرور امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں کوئی ایسی خواب دیکھ لیں کہ اللہ مجھے بَری قرار دیتا ہے۔٭ اللہ کی قسم ! آپؐ ابھی بیٹھنے کی جگہ سے الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ اہل بیت میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ اتنے میںآپؐ پر وحی نازل ہوئی اور سخت تکلیف آپؐ کو ہوا کرتی تھی وہ آپؐ کو ہونے لگی (اور آپؐ کو اِتنا پسینہ آتا) کہ سردی کے دن میں بھی آپؐ سے پسینہ موتیوں کی طرح ٹپکتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حالت جاتی رہی تو آپؐ مسکرا رہے تھے اورپہلی بات جو آپؐ نے فرمائی، یہ تھی: عائشہؓ اللہ کا شکر بجالائو کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت کردی ہے۔ میری ماں نے مجھ سے کہا: اُٹھو رسول اللہ ﷺ کے پاس جائو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔ میں ان کے پاس اُٹھ کر نہیں جائوں گی اور اللہ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی تھی:وہ لوگ جنہوں نے بہتان باندھا ہے وہ تمہیں میں سے ایک جتھا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے میری بریت میں یہ وحی نازل کی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مسطح بن اثاثہ کو بوجہ اس کے قریبی ہونے کے خرچ دیا کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! جو مسطح نے عائشہؓ پر افتراء کیا ہے، میں اس کے بعد اس کو اَب کبھی خرچ نہیں دوں گا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: }اور تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔ پس چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے{ حضرت ابوبکرؓ کہنے لگے: کیوں نہیں۔ اللہ کی قسم! میں ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے مجھے بخش دے۔ مسطح کو جو خوراک وہ دیا کرتے تھے پھر ملنے لگی۔ اور رسول اللہ ﷺ حضرت زینبؓ بنت جحش سے بھی میرے معاملہ کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: زینبؓ! تم کیا سمجھتی ہو جو تم نے دیکھا ہے؟ تو وہ کہتیں: یا رسول اللہ! میں اپنی شنوائی اور بینائی محفوظ رکھوں گی۔ میں تو عائشہؓ کو پاک دامن ہی سمجھتی ہوں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں اور یہی زینبؓ وہ تھیں جو (آنحضرت ﷺ کی اَزواج میں سے) میری برابری کیا کرتی تھیں۔ اللہ نے انہیں پرہیزگاری کی وجہ سے بچائے رکھا۔ (ابوربیع سلیمان بن دائود نے) کہا: فلیح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، (انہوں نے عروہ سے٭)عروہ نے حضرت عائشہؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ سے اسی طرح روایت کی۔ (ابوربیع نے) کہا: اور فلیح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن اور یحيٰ بن سعید سے اور ان دونوں نے قاسم بن محمد بن ابی بکر سے اسی طرح روایت کی۔
(تشریح)محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔ خالد حذاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی شخص نے ایک شخص کی تعریف کی، تو آپؐ نے فرمایا: وائے تجھ پر، تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ آپؐ نے کئی بار یہ فرمایا۔ پھر فرمایا: تم میں سے جس نے اپنے بھائی کی ضرور تعریف ہی کرنی ہوتو چاہیے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں کو یوں سمجھتا ہوں اور اللہ ہی اس سے خوب واقف ہے۔ میں اللہ کے سامنے کسی کو بے عیب نہیں کہہ سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا ایسا ہے۔ وہ بیان کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ اسے ویسا ہی جانتا ہو۔
عبیداللہ بن سعید نے ہمیں بتایا کہ ابواُسامہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ (بن عمر) نے مجھے بتایا، کہا: نافع نے مجھے بتایا، کہا: حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ اُحد کے دن ان کا جائزہ لیا۔ وہ اس وقت چودہ برس کے تھے تو آپؐ نے مجھے جنگ میںشریک ہونے کی اجازت نہ دی۔ پھر آپؐ نے غزوئہ خندق کے موقع میرا جائزہ لیا اور اس وقت مَیں پندرہ سال کا تھا تو آپؐ نے مجھے اجازت دی۔ نافع نے کہا: عمربن عبدالعزیز کے پاس میں آیا اور وہ اس وقت خلیفہ تھے۔ میں نے ان سے یہی حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان یہی حد ہے اور اپنے عمال کو لکھا کہ جو پندرہ برس کے ہوچکے ہوں ان کے لئے بھی راشن مقرر کردیں۔ طرفہُ: ۴۰۹۷۔
محمد(بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس لئے قسم کھائی کہ وہ کسی مسلمان آدمی کے مال سے کچھ لے لے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو تو اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناخوش ہوگا۔ (شقیق) کہتے تھے کہ حضرت اشعث بن قیسؓ(یہ سن کر) بولے: یہ تو بخدا میرے ہی متعلق تھا۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک مشترکہ زمین تھی۔ اس نے میرے حصہ کا انکار کردیا۔ میں نے اُسے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی شہادت ہے؟ کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تب آپؐ نے اس یہودی سے کہا: قسم کھائو۔ کہتے تھے: میں نے کہا: یارسول اللہ! یہ تو قسم کھا کر میرا مال اُڑا لے جائے گا۔ (حضرت اشعث) کہتے تھے: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت وحی کی: وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی پونجی خریدتے ہیں…
(تشریح)