بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 53 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: خارجہ بن زید انصاری نے مجھ سے بیان کیاکہ حضرت امّ علاء ؓجو انصاری عورتوں میں سے ایک خاتون تھیں؛نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرچکی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب انصار نے مہاجرین کے رہنے کے لئے قرعے ڈالے، حضرت عثمانؓ بن مظعون کا قرعہ سکونت کا ہمارے نام نکلا۔ حضرت امّ علائؓ کہتی تھیں کہ حضرت عثمانؓ بن مظعون ہمارے پاس رہے۔ وہ بیمار ہوئے تو ہم نے ان کی خدمت کی اور جب وہ فوت ہوگئے اور ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں ہی کفنایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔ میں نے کہا: اللہ کی رحمت ہو تم پر ابوسائب ۔ میری شہادت تو تمہارے متعلق یہی ہے کہ اللہ نے تجھے ضرورعزت بخشی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا ۔ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ضرور عزت بخشی ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، مجھے معلوم نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمانؓ جو ہیں وہ تو اب فوت ہوگئے اور میں ان کے لئے بہتری کی ہی اُمید رکھتا ہوں۔ لیکن اللہ کی قسم! میں بھی نہیں جانتا کہ عثمانؓ کے ساتھ کیا ہوگا۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر حضرت امّ علائؓ نے کہا: بخدا اس کے بعد میں کسی کو بھی معصوم نہیں ٹھہرائوں گی اور مجھے اس بات نے غمگین کر دیا۔ کہتی تھیں: میں سو گئی اور مجھے خواب میں حضرت عثمانؓ کا ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہہ رہا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اورمیں نے آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ اُس کے عمل ہیں۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی ۔ یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا ۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے ۔ پھر ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا، اسے آپؐ اپنے ہمراہ لے جاتے اور آپؐ نے اپنی بیویوں میں سے ہر ایک بیوی کے لئے اس کا دن اور رات باری سے مقرر کردیا تھا۔ مگر حضرت سودہؓ بنت زمعہ نے اپنی باری کا دن اور رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہؓ کو دے دیا تھا۔ اس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتی تھیں۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوبکر (بن عبدالرحمن) کے غلام سُمَی سے، سُمَی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جانتے کہ اَذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے تو پھر سوائے قرعہ ڈالنے کے انہیں کوئی جگہ بھی نہ ملتی، سواس کے لئے قرعہ ڈالتے۔ اور اگر وہ جانتے کہ نماز میں اوّل وقت جانے کے لئے کیا ثواب ہے تو وہ اس کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے لپکتے۔ اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور صبح کی باجماعت نماز میں کیا ثواب ہے تو ان دونوں میں آتے اگر چہ انہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا۔