بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 40 hadith
عبداللہ بن محمد(مسندی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ پہلے پہل جو نماز فرض کی گئی دورکعتیں تھیں۔ سفر کی نماز تو برقرار رکھی گئی اور حضرکی نماز (بڑھاکر) مکمل کر دی گئی۔ زہری کہتے تھے: میں نے عروہ سے پوچھا کہ حضرت عائشہؓ کیوں سفر میں پوری نماز پڑھتی تھیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: انہوں نے بھی وہی تاویل کی جوحضرت عثمان ؓ نے کی تھی۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبداللہ بن عامر سے، انہوں نے اپنے باپ (حضرت عامر بن ربیعہؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ اپنی اونٹنی پر ادھر ہی منہ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے جدھر وہ آپؐ کولئے جارہی تھی۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان (نحوی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے محمد بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ( انصاری) نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نفل پڑھتے تھے، جبکہ آپؐ سوار ہوتے ، قبلہ رُخ نہ ہوتے۔
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا: وہیب (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی اونٹنی پر نفل پڑھا کرتے اور اسی پر وتر پڑھتے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
(تشریح)موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا، کہا: حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سفر میں اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے خواہ وہکسی طرف انہیں لے جارہی ہوتی۔ رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرتے اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام(دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰسے، یحيٰ نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ(انصاری) نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر مشرق کی طرف (بھی ) نماز پڑھا کرتے تھے اور جب نماز فریضہ پڑھنا چاہتے تو آپؐ اترتے اور قبلہ کی طرف منہ کرتے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمیں شعیب نے بتایا۔ شعیب نے زہری سے روایت کی۔ زہری نے کہا کہ مجھے سالم نے بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب سفر میں آپؐ کو جلدی چلنا ہوتا تو آپؐ مغرب کی نماز میں تاخیر کرتے اور مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھتے۔ سالم نے کہا کہ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے، جب انہیں جلدی سفر کرنا ہوتا ۔
اور لیث (بن سعد) نے مزید یہ بڑھایا، کہا: یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ سالم نے کہا: حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کیا کرتے تھے۔ سالم نے کہا: حضر ت ابن عمرؓ نے مغرب کی نماز میں تاخیر کی اور وہ اپنی اہلیہ صفیہ بنت ابی عبید کے علیل ہونے کی وجہ سے بلائے گئے تھے۔ تو میں نے ان سے کہا: نماز؟ انہوں نے کہا: چلے چلو۔ پھر میں نے کہا: نماز۔ انہوں نے کہا:چلے چلویہاں تک کہ دویا تین میل تک نکل گئے پھر وہ اترے اور نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا، جب آپؐ کو چلنے کی جلدی ہوتی۔ اور حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپؐ کو جلدی سفر کرنا ہوتا تو نماز مغرب میں تاخیر کرتے اور تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر عشاء کی نما زکے لئے اقامت کہلواتے اوراس کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے اورعشاء کے بعد نفل نہ پڑھتے ۔پھر آدھی رات کو اٹھتے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ حضرت عامر بن ربیعہؓ نے انہیں خبر دی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ اپنی اونٹنی پرنفل پڑھ رہے تھے۔(رکوع اور سجدہ) اپنے سر کے اشارے سے کرتے۔ آپؐ کا منہ اسی طرف ہوتا جدھر اس کا منہ ہوتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز میں ایسا نہ کرتے۔
اور لیث نے کہا: یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا، کہا: سالم کہتے تھے: حضرت عبداللہ( بن عمرؓ) اپنی سواری پر رات کو نماز پڑھتے اور آپؓ مسافر ہوتے، پرواہ نہ کرتے جدھر بھی اس کا منہ ہوتا۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اونٹنی پر نفل پڑھتے۔ آپؐ ادھرہی منہ کئے ہوتے جدھر اونٹنی کا منہ ہوتا اور اسی پروتر پڑھتے مگر آپؐ اس پر فرض نماز نہ پڑھتے۔