بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 40 hadith
اسحق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد (بن عبدالوارث) نے ہمیں بتایا ۔( کہا:) حرب (بن شداد) نے ہم سے بیان کیا ۔ (انہوں نے کہا:) یحيٰ (بن ابی کثیر) نے ہم سے بیان کیا، کہا: حفص بن عبید اللہ بن انس نے مجھے بتایاکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں یہ دونوں نمازیں جمع کیا کرتے تھے یعنی مغرب اور عشاء۔
(تشریح)حسان واسطی نے ہم سے بیان کیا، کہا: مفضل بن فضالہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل (بن خالد)سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو ظہر کی نماز میں عصر کے وقت تک تاخیر کرتے۔ پھر ان دونوں کو جمع کرتے اور اگر سورج ڈھل گیا ہوتا تو پھر ظہر پڑھتے ۔ پھر سوار ہوتے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مفضل بن فضالہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر میں عصر کے وقت تک تاخیر کرتے۔ پھر اُتر کر دونوں جمع کرتے اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے۔
قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھرمیں نماز پڑھی جبکہ آپؐ بیمار تھے۔ آپؐ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگوں نے آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوکر۔ آپؐ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جائو۔ جب (نماز سے) فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا : امام تو صرف اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے سو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ (سر) اُٹھائے تو تم بھی (سر) اُٹھائو۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: (سفیان) بن عیینہنے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سے گر پڑے تو آپؐ کا داہنا پہلو چھل گیا یا خراش آئی ۔ ہم آپؐ کے پاس آپؐ کی عیادت کے لئے آئے۔ اتنے میں نماز کا وقت آگیا تو آپؐ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی ۔ ہم نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپؐ نے فرمایا: امام تو اس لئے مقرر کیا گیاہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ سو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو۔ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب(سر) اُٹھائے تو تم بھی (سر) اُٹھائو اور جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہے تو تم کہو: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ۔
اسحق بن منصور نے ہم سے بیان کیا، کہا: روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) حسین (معلّم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، عبداللہ نے حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ اور اسحاق (بن منصور) نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: عبد الصمد نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ (عبد الوارث)سے سنا۔ انہوں نے کہا: حسین (معلّم) نے ہمیں بتایاکہ ابنِ بریدہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حُصین نے مجھ سے بیان کیا۔ اور ان کو بواسیر تھی۔ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نسبت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اگر کھڑا ہوکرنماز پڑھے تو بہتر ہے اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو اس کو کھڑے ہوکر پڑھنے والے کی نسبت آدھا اجر ملے گا اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی ۔ اس کو بیٹھنے والے کی نسبت آدھا اَجر ملے گا۔
(تشریح)ابومعمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا:حسین (معلّم) نے ہمیں بتایاکہ عبداللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ حضرت عمران بن حصینؓ نے اور انہیں بواسیر تھی اور ابو معمر راوی نے کبھی یوں کہا:حضرت عمرانؓ (بن حصین) سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کی نماز کے متعلق پوچھا: جبکہ وہ بیٹھا ہواہو تو آپؐ نے فرمایا:جو کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو یہ زیادہ بہتر ہے اور جس نے بیٹھ کر نماز پڑھی اس کو کھڑے ہونے والے کے ثواب سے آدھا ملے گا اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی، اس کو بیٹھنے والے کے ثواب سے آدھا ملے گا۔ ابوعبد اللہ (بخاریؒ) نے کہا: اس جگہ لفظ نَائِمًا میرے نزدیک مُضْطَجِعًا یعنی لیٹے ہوئے کے معانی میں ہے۔
(تشریح)عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ سے، عبداللہ نے ابراہیم بن طہمان سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حسین نے جو (بچوں کو) لکھنا پڑھنا سکھاتے تھے، مجھے بتایا: انہوں نے ابن بریدہ سے، ابن بریدہ نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے بواسیر تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا ۔ آپؐ نے فرمایا: کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور اگر کھڑے نہ ہو سکو تو بیٹھے ہی سہی اور اگر بیٹھ بھی نہ سکو تو کروٹ پر ہی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تینسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا امّ المومنین سے روایت کی۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز بیٹھ کر پڑھتے کبھی نہیںدیکھا ۔ یہاں تک کہ جب آپؐ بوڑھے ہوگئے تو آپؐ بیٹھ کر نماز پڑھتے ۔ جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے۔ تیس چالیس کے قریب آیات پڑھتے، پھر رکوع کرتے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن یزید اور ابوالنضر سے، جو عمر بن عبیداللہ کے آزادکردہ غلام تھے؛ روایت کی۔ یہ دونوں ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (تہجد ) بیٹھ کر پڑھتے۔ آپ بیٹھ کر ہی (قرآن مجید) پڑھتے رہتے۔ جب آپؐ کی قرأت سے تیس چالیس کے قریب آیتیں رہتیں تو آپؐ کھڑے ہوجاتے اور کھڑے ہوکر پڑھتے۔ پھر رکوع کرتے۔ پھر سجدہ کرتے۔ دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے۔ جب نماز پڑھ چکتے تو دیکھتے ۔ اگر میں جاگتی ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے اگر میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے۔
(تشریح)