بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 40 hadith
احمد بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: حبان(بن ہلال) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم سے ہمام(بن یحيٰ) نے بیان کیا۔ کہتے تھے: انس بن سیرین نے ہمیں بتایا ۔ کہا: ہم حضرت انسؓ (بن مالک) کے استقبال کو نکلے، جب وہ شام سے (لوٹ کر) آئے تھے۔ ہم ان سے عین التمر میں ملے۔ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ گدھے پر (سوار) نماز پڑھ رہے تھے۔ ان کا منہ قبلہ سے بائیں طرف تھا۔ میں نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپؓ قبلہ کی طرف نہیں بلکہ اور طرف نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا۔ اس حدیث کو (ابراہیم) بن طہمان نے بھی حجاج سے بروایت انس بن سیرین بیان کیا۔ انس بن سیرین نے حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے اور حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا،کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا کہ عیسیٰ بن حفص بن عاصم سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابن عمرؓ کو یہ کہتے سنا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوںآپؓ سفر میں دو (فرض) رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اورحضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم (کے ساتھ بھی رہا) وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، عمرو نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں کسی نے نہیں بتایا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، سوائے حضرت امّ ہانی ؓ کے جو ذکر کرتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اُن کے گھر غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ میں نے آپؐ کو کبھی نہیں دیکھا کہ اس سے ہلکی نماز پڑھی ہو مگر آپؐ رکوع اور سجود پورا کرتے۔
اور لیث (بن سعد) نے کہا: یونس نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عامر (بن ربیعہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے باپ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ نے سفر میں اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر رات کو نفل پڑھے۔ آپؐ اسی طرف منہ کئے ہوئے تھے جدھر اونٹنی آپؐ کو لئے جارہی تھی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ (بن عمر) نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر نفل پڑھا کرتے تھے، جدھر بھی آپؐ کا منہ ہوتا۔ (رکوع اور سجدہ) سر کے اشارے سے کرتے اور حضرت ابن عمرؓ بھی ایسا ہی کرتے ۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان(بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے زہری سے سنا۔ وہ سالم سے، سالم اپنے باپ سے روایت کرتے تھے ۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپؐ کو سفر کی جلدی ہوتی، تو مغرب اور عشاء جمع کرتے۔
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا: حسین معلم سے روایت ہے۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کررہے ہوتے تو ظہر اور عصر جمع کرتے اور مغرب اور عشاء بھی جمع کرتے۔
ہم سے یحيٰ بن سلیمان (کوفی) نے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمر بن محمد (بن زید) نے مجھ سے بیان کیا کہ حفص بن عاصم نے کہا: حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما نے سفر کیاتو انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا۔ میں نے تو آپؐ کو سفر میں سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہٗ نے فرمایا ہے: یقینا تمہارے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نیک نمونہ ہے۔
اور( ابراہیم بن طہمان نے) حسین (معلّم) سے ، حسین نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے حفص بن عبید اللہ بن انس سے، حفص نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں مغرب اور عشاء کی نماز جمع کرتے۔ (حسین معلم کی) طرح علی بن مبارک اور حرب نے یحيٰ سے، یحيٰ نے حفص سے، حفص نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نمازیں) اکٹھی پڑھیں ۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: سالم نے مجھے بتایاکہ حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپؐ کو سفر میں جلدی چلنا ہوتا تو مغرب کی نماز میں تاخیر کرتے تاکہ مغرب اور عشاء کو جمع کریں۔ سالم کہتے تھے: حضرت عبد اللہ (بن عمرؓ) بھی ایسا ہی کرتے جب انہیں چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب کی تکبیرِ اقامت کہلواتے اور تین رکعت پڑھ کا سلام پھیرتے ۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہر کرعشاء کی تکبیرِ اقامت کہلواتے اور دو رکعتیں (نماز) پڑھ کر سلام پھیرتے اور نہ ان کے درمیان کوئی رکعت نفل پڑھتے اور نہ عشاء کے بعد کوئی سجدہ کرتے۔ پھر آدھی رات کو اٹھتے۔