بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
عبدالاعلیٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زریع نے ہمیں بتایا۔ سعید نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالعالیہ سے، ابوالعالیہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات سے گھبراہٹ کے وقت دعا کیا کرتے تھے: اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت بڑا اور بہت ہی بردبار ہے۔ اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت ہی بڑی بادشاہی کا ربّ ہے، اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں کا ربّ اور عزت والی بادشاہی کا ربّ ہے۔
یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عاصم بن یوسف یربوعی نے ہمیں بتایا۔ ابوشہاب نے ہم سے بیان کیا۔ ابوشہاب نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے، قیس نے حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت کی ۔ ا نہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور اپنے ربّ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابن ابی نعم یا ابونعم سے روایت کی۔ قبیصہ نے یہ شک کیا۔ انہوں نے حضرت ابوسعیدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سونے کا ٹکڑا بھیجا گیا تو آپؐ نے چار شخصوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا۔ اور اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں خبر دی۔ سفیان نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابن ابی نعم سے، ابن ابی نعم نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت علیؓ نے جبکہ وہ یمن میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سونے کا ٹکڑا بمع اس کی مٹی کے بھیجا تو آپؐ نے اقرع بن حابس حنظلی جو بنو مجاشع میں سے ایک آدمی تھا اور عیینہ بن بدر فزاری اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنو کلاب میں سے ایک شخص تھا اور زید خیل طائی جو بنی نبہان میں سے ایک شخص تھا، کے درمیان اس ٹکڑے کو بانٹ دیا جس سے قریش اور انصار ناراض ہوگئے اور کہنے لگے: اہل نجد کے رئیسوں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تو ان کی تالیف قلب چاہتا ہوں۔ اتنے میں ایک شخص جس کی آنکھیں اندر گھسی ہوئیں، پیشانی اُبھری ہوئی، داڑھی بہت گھنی، رخسار باہر نکلے ہوئے اور سر منڈا ہوا تھا، آیا اور کہنے لگا: محمد! اللہ سے ڈرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے اس کی نافرمانی کی تو پھر اور کون اس کی فرمانبرداری کرے گا۔ وہ تو زمین والوں کے معاملات کے متعلق مجھ پر اعتبار کرتا ہے اور تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کو مار ڈالنےکی اجازت مانگی۔ میں سمجھتا ہوں خالد بن ولیدؓ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں (ایسا کرنے سے)منع فرمایا جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نسل سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اُترے گا ۔ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔ اہل اسلام سے لڑیں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو میں ضرور انہیں عاد کی طرح نیست و نابود کردوں۔
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوذرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا کے متعلق پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا جائے قرار عرش کے نیچے ہے۔
(تشریح)عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ خالد اور ہشیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے، قیس نے حضرت جریرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپؐ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھا آپؐ نے فرمایا: تم بھی ضرور اپنے ربّ کو اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی کشمکش نہیں کرنی پڑتی۔ پس اگر تم سے ہوسکے کہ سورج نکلنے سے پہلے کی نماز اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز میں تم سستی نہ کرو تو تم سستی نہ کرو۔
عبدہ بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حسین جعفی نے ہمیں بتایا۔ حسین نے زائدہ سے بیان کیا کہ بیان بن بشر نے ہمیں بتایا۔ بیان نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی کہ جریر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں رات ہمارے پاس باہر آئے اور آپؐ نے فرمایا: تم بھی اپنے ربّ کو قیامت کے دن ضرور اسی طرح دیکھو گے جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ تمہیں اس کے دیکھنے میں کشمکش نہیں کرنی پڑتی۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عطاء بن یزید لیثی سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اپنے ربّ کو ہم قیامت کے دن دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ۔ آپؐ نے فرمایا: کیا سورج کے دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے جس کے سامنے بادل نہ ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ۔ آپؐ نے فرمایا: پھر تم اسی طرح اس کو دیکھو گے۔ قیامت کے روز اللہ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا: جو جس چیز کو پوجتا تھا وہ اُس کے پیچھے ہولے۔ اس پر جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہوجائے گا اور جو چاند کی پوجا کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہوجائے گا اور جو طاغوتوں کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوتوں کے پیچھے ہوجائے گا اور یہ امت رہ جائے گی۔ اس میں اس کے سفارشی بھی ہوں گے یا فرمایا: اس میں اس کے منافق بھی ہوں گے۔ ابراہیم نے یہ شک کیا تو اللہ ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں تو وہ کہیں گے: ہم یہیں ٹھہرتے ہیں اس وقت تک کہ ہمارا ربّ آجائے۔ جب ہمارا ربّ آئے گا تو ہم اس کو پہچان لیں گے۔ تو پھر اللہ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہیں۔ وہ کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں۔ وہ کہیں گے:تو ہمارا ربّ ہے اور اس کے پیچھے ہوں لیں گے اور جہنم کے درمیان پل رکھا جائے گا تو میں اور میری اُمت پہلے ہوں گے جو اس سے پار ہوں گے اور اس دن کوئی بات تک نہیں کرے گا مگر رسول ہی اور رسولوں کی پکار بھی اس دن یہی ہوگی: یا اللہ بچانا، بچانا اور جہنم میں اونٹ کٹارے کے کانٹوں کی طرح لوہے کے کانٹے ہوں گے۔ کیا تم نے اونٹ کٹارے کو دیکھا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! تو آپؐ نے فرمایا: تو وہ کانٹے بھی اونٹ کٹارے کے کانٹوں کی طرح ہی ہوں گے۔ سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کتنے بڑے ہوں گے مگر اللہ ہی۔ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اُچکتے جائیں گے۔ پھر ان میں سے کوئی اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو گا اور ان میں سے کوئی ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا یا وہ ہوگا جس کو پار کر دیا جائے گا یا کچھ ایسا ہی لفظ فرمایا۔ پھر وہ مصیبت کا وقت دور ہو جائے گا یہاں تک کہ جب اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہوجائے گا اور اپنی رحمت سے جن کو دوزخیوں میں سے نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم کرے گا کہ دوزخ سے ان کو نکالیں جو اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔ یعنی جو لوگ لاالٰہ الا اللہ کا اقرار کرتے ہیں۔ ان میں سے یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرنا چاہے گا تو وہ فرشتے ان کو دوزخ میں سجدے کے نشان سے پہچان لیں گے۔ آگ ابن آدم کو کھالے گی سوائے سجدے کے نشان کے کہ اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔ تو وہ آگ سے ایسی حالت میں نکلیں گےکہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا تو وہ اس پانی سے اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے دیوان میں دانہ اگتا ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہوگا اور ایک شخص رہے گا جو آگ کی طرف اپنا منہ کئے ہوگا۔ وہ دوزخیوں میں سے آخری شخص ہوگا جو جنت میں جائے گا وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میرے منہ کو آگ سے پھیر دے کیونکہ اس کی بدبو نے مجھے تنگ کر دیا ہے اور اس کی گرمی کی تیزی نے مجھے جلا دیا ہے اور وہ اللہ سے وہ کچھ منت سماجت کرے گا جو وہ چاہے گا کہ اس سے مانگا جائے۔ پھر اللہ کہے گا: ممکن ہے کہ اگر تمہاری یہ درخواست قبول کرلی جائے تو تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگو۔ تو وہ کہے گا: ہرگز نہیں تیری عزت کی ہی قسم میں تجھ سے اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا اور وہ اپنے ربّ سے وہ وہ عہدو پیمان کرے گا جو وہ چاہے گا۔ تب اللہ اس کے منہ کو آگ سے پھیر دے گا۔ جب وہ جنت کی طرف منہ کرے گا اور اس کو دیکھے گا تو جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے وہ خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے جنت کے دروازے کے پاس ذرا آگے کر دے۔ تو اللہ کہے گا: کیا تم نے عہد و پیمان نہیں کئے تھے کہ تم مجھ سے اس کے سوا کبھی نہیں مانگو گے جو تمہیں دیا گیا ہے؟ ابن آدم تجھ پر افسوس! کیا ہی دغا باز ہے تو۔ تو وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اور وہ اللہ سے دعائیں کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ فرمائے گا:ممکن ہے کہ اگر تمہاری یہ بات مان لی جائے تو تم اس کے سوا اور کچھ مانگو؟ وہ کہے گا: ہرگز نہیں۔ تیری عزت کی قسم میں اس کے سوا تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جو چاہے گا وہ وہ عہدو پیمان دے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے دروازے کے قریب آگے کردے گا۔ جب وہ جنت کے دروازے کے پاس کھڑا ہوگا تو جنت اس کے سامنے اپنی پوری فراخی کے ساتھ عیاں ہوگی اور وہ اس میں وہ آرام اور خوشی دیکھے گا جو اس میں ہے جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے وہ خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا: اے اللہ! مجھے جنت میں داخل فرما۔ تو اللہ فرمائے گا: کیا تم اپنے عہد و پیمان نہیں دے چکے کہ تم اس کے سوا جو تمہیں دیا گیا ہے اور کچھ نہیں مانگو گے؟ اور وہ فرمائے گا: ابن آدم تم پر افسوس کتنے ہی دغا باز ہو تم۔ تو وہ کہے گا: اے میرے ربّ! تیری مخلوق سے سب سے بد نصیب میں نہیں ہوں گا اور وہ برابر دعائیں کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ اس کی اس حالت سے ہنسے گااور ہنستے ہی اسے فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔ جب وہ اس میں داخل ہو گا تواللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: مانگ جو دل چاہتا ہے تو وہ اپنے ربّ سے مانگے گا اور اپنی دلی خواہش کا اظہار کرے گا یہاں تک کہ اللہ اس کو یاد دلاتا جائے گا۔ فرمائے گا: یہ بھی مانگ یہ بھی مانگ۔ یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہوجائیں گی۔ اللہ فرمائے گا: تمہیں یہ سب کچھ دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔
عطاء بن یزید کہتے تھے: اور حضرت ابوسعید خدریؓ حضرت ابوہریرہؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی اس بات میں ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب حضرت ابوہریرہؓ نے یہ بیان کیا کہ اللہ تبارک تعالیٰ فرمائے گا: یہ سب کچھ تجھے دیا گیا اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی تو حضرت ابوسعید خدریؓ نے کہا: ابوہریرہؓ ! (یہ بھی فرمایا تھا:) اس کے ساتھ دس گنا اور بھی تو حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے تو آپؐ کی یہی بات یاد رکھی ہے: یہ سب کچھ تجھے دیا گیا اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ۔ حضرت ابوسعید خدریؓ نے کہا: میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپؐ کا یہ قول یاد رکھا ہے: یہ سب کچھ تجھے دیا گیا اور اس سے دس گنا اور بھی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: غرض یہ وہ شخص ہوگا جو جنتیوں میں سے سب سے آخر جنت میں داخل ہوگا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن یزید سے، خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے زید سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے روز اپنے ربّ کو دیکھیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: بھلا سورج اور چاند کے دیکھنے میں تمہیں تکلیف اٹھانی پڑتی ہے جبکہ مطلع صاف ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر تمہیں اپنے ربّ کے دیکھنے میں بھی اس دن صرف اتنی ہی تکلیف اُٹھانی پڑے گی جتنی کہ سورج چاند کے دیکھنے میں تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: پھر ایک منادی پکارے گا: ہر قوم اس کی طرف چلی جائے جس کی وہ پوجا کرتی تھی۔ یہ سن کر صلیب کی پوجا کرنے والے اپنی صلیب کے ساتھ اور بت پرست اپنے بتوں کے ساتھ اور ہر ایک معبود والے اپنے اپنے معبودوں کے ساتھ ہو جائیں گے یہاں تک کہ وہ لوگ رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے خواہ نیک ہوں یا بد کار اور اہل کتاب میں سے کچھ بچے ہوئے۔ پھر جہنم کو سامنے لایا جائے گا۔ ایسے معلوم ہوگا جیسے سراب ہو۔ یہود سے پوچھا جائے گا: تم کس کو پوجا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم اللہ کے بیٹے عزیر کو پوجا کرتے تھے۔ تو ان سے کہا جائے گا: تم جھوٹے ہو۔ اللہ کی نہ جورو ہے اور نہ کوئی اولاد۔ اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے:ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں پانی پلائے۔ تو کہا جائے گا: پیو اور وہ جہنم میں جا گریں گے۔ پھر عیسائیوں سے پوچھا جائے گا: تم کس کو پوجتے تھے؟ تو وہ کہیں گے: ہم اللہ کے بیٹے مسیح کو پوجا کرتے تھے۔ تو کہا جائے گا: تم جھوٹے ہو۔ اللہ کی نہ کوئی جورو ہے نہ کوئی اولاد۔ تم اب کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم چاہتے ہیں کہ تُو ہمیں پانی پلائے، تو کہا جائے گا:پیو اور وہ بھی گرنے لگیں گے۔ آخر وہ لوگ رہ جائیں گے جو اللہ کو پوجتے تھے خواہ نیک ہوں یا بدکار۔ ان سے کہا جائے گا: تمہیں کس بات نے روکے رکھا ہے حالانکہ سب لوگ چلے گئے ہیں؟ وہ کہیں گے: ہم ان سے اس وقت الگ رہے جبکہ ہم آج سے زیادہ ان کے محتاج تھے اور ہم نے ایک منادی کو سنا ہے جو پکار رہا تھا: ہر قوم اسی سے جاملے جس کو وہ پوجا کرتے تھے اور ہم تو اپنے ربّ کا ہی انتظار کررہے ہیں۔ فرمایا: تو جبار ان کے پاس ایسی شکل میں آئے گا کہ وہ شکل نہ ہوگی کہ جس میں انہوں نے اس کو پہلی بار دیکھا تھا اور وہ کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں۔ وہ کہیں گے: تو ہمارا ربّ ہے؟ اس سے کوئی بات تک نہیں کرے گا مگر نبی ہی۔ پھر فرمائے گا: کیا تمہارے اور تمہارے ربّ کے درمیان کوئی نشانی ہے جس سے تم اس کو پہچانتے ہو؟ تو وہ کہیں گے: پنڈلی سے ہم پہچان لیں گے۔ تو وہ کپڑا اٹھاکر اپنی پنڈلی کو کھول دے گا۔ جس کو دیکھ کر ہر مؤمن اس کو سجدہ کرے گا اور وہ لوگ رہ جائیں گے جو اللہ کو دکھلاوے اور شہرت کے لئے سجدہ کیا کرتے تھے۔ وہ سجدہ کرنے لگیں گے مگر ان کی پیٹھ ایک تختہ ہوجائے گی۔ پھر پُل لایا جائے گا اور وہ جہنم کے درمیان رکھ دیا جائے گا۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! وہ پُل کیا ہوگا۔ فرمایا: ایک پھسلنے اور گِرنے کا مقام ہے۔ اس پر آنکڑے اور چوڑے چوڑے کانٹے ہوں گے، خمدار کانٹے ہوں گے جیسے نجد میں ہوتے ہیں۔ جن کو سعدان کہتے ہیں۔ مؤمن اس پل پر سے آنکھ جھپکنے کی طرح اور بجلی کی چمک کی طرح اور تیز ہوا کی طرح اور تیز گھوڑے اور سانڈنیوں کی طرح گزریں گے۔ کوئی تو صحیح سلامت بچ کر نکل جائے گا اور کوئی چھل چھلا کر بچ نکلے گا اور کسی کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص جو گزرے گا تو اس کو کھینچ کھینچ کر پار کروائیں گے۔ مؤمن جو اس دن جبار کو قسمیں دے کر اپنے حق کا مطالبہ کرے گا۔ آج تم اپنے حق کے لئے مجھے اتنی قسمیں نہیں دیتے جو حق تمہارے لئے ثابت ہوچکا ہو اور جب وہ دیکھیں گے کہ وہ نجات پا چکے ہیں تو وہ اپنے بھائیوں کے متعلق اپنے ربّ سے کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے عمل بجا لاتے تھے۔ تو اللہ کہے گا: جاؤ جس کے دل میں بھی تم دینار کے برابر ایمان پاؤ اس کو نکالو اور اللہ آگ پر ان کے مونہوں کو حرام کردے گا۔ تو وہ ان کے پاس آئیں گے اور حالت یہی ہوگی کہ ان میں سے کوئی آگ میں اپنے پاؤں تک ڈوبا ہوا ہوگااور کوئی اپنی آدھی پنڈلیوں تک ۔ تو جن کو وہ پہچانیں گے ان کو وہ نکال لیں گے۔ پھر وہ لوٹیں گے تو اللہ فرمائے گا: جاؤ جس کے دل میں بھی آدھے دینار کے برابر ایمان تم پاؤ اس کو بھی نکال لو۔ تو جن کو وہ پہچانیں گے ان کو نکال لیں گے۔ پھر وہ لوٹیں گے اور اللہ فرمائے گا: جاؤ جس کے دل میں ذرہ ایمان تم پاؤ اس کو بھی نکال لو۔ جن کو وہ پہچانیں گے ان کو وہ نکال لیں گے۔ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: اگر تم مجھے سچا نہ سمجھو تو یہ آیت پڑھ لو: اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْهَا۔ غرض نبی اور فرشتے اور مؤمن سفارش کریں گے اور جبار کہے گا: میری سفارش باقی رہ گئی ہے تو آگ سے ایک مٹھی بھرے گا اور بہت سے لوگوں کو نکال دے گا جو جل کر کوئلے کی طرح ہوگئے ہوں گے۔ وہ ایک ندی میں ڈال دئیے جائیں گے جو جنت کے دہانے پر ہوگی اسے آب حیات کہیں گے۔ وہ اس ندی کے دونوں طرف اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے دیوان میں دانہ اگتا ہے۔ تم نے اس دانے کو دیکھا ہوگا کہ پتھر کے پہلو میں بھی اگتا ہے، کبھی درخت کے پہلو میں اگتا ہے۔ جو تو اُن میں سے سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے اور جو سائے کی طرف ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے۔ غرض وہ اس نہر میں سے نکلیں گے ایسے ہوں گے جیسے کہ موتی اور ان کی گردنوں پر مہریں کردی جائیں گی اور وہ جنت میں داخل ہوں گے تو جنتی کہیں گے: یہ رحمان کے آزاد کردہ لوگ ہیں اس نے ان کو جنت میں بغیر کسی عمل کے کہ جو اُنہوں نے کیا ہو یا بھلائی کے جو انہوں نے پیش کی ہو ان کو جنت میں داخل کردیا ہے۔ پھر ان سے کہا جائے گا: تمہارے لئے یہ سب کچھ ہے جو تم نے دیکھ لیا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور۔
اور حجاج بن منہال نے کہا کہ ہمام بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز مؤمنوں کو روک دیا جائے گایہاں تک کہ وہ اس سے متفکر ہوں گے اور کہیں گے: کاش اگر ہم اپنے ربّ کے پاس کوئی سفارش کرائیں تا کہ وہ ہمیں ہماری جگہ سے چھٹکارا دے تو وہ حضرت آدمؓ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپؑ آدم ہیں جو تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے اپنے ہاتھ سے آپؑ کو پیدا کیا اور آپؑ کو جنت میں بسایا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور ہر چیز کے آپؑ کو نام سکھائے۔ اس لئے آپؑ اپنے ربّ کے پاس ہماری سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے چھٹکارا دے۔ فرمایا: آدمؑ کہیں گے:میں اس مقام پر نہیں ۔ فرمایا: اور وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے کی یعنی درخت سے کھالیا تھا حالانکہ ان کو اس سے منع کیا گیا تھا۔ (وہ کہیں گے:) البتہ تم حضرت نوحؑ کے پاس آؤ جو کہ پہلے نبی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا۔ اس پر وہ حضرت نوحؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں اور وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے کی یعنی بغیر علم کے اپنے ربّ سے جو انہوں نے سوال کیا تھا البتہ حضرت ابراہیمؑ کے پاس آؤ جو رحمان کے خلیل تھے۔ فرمایا: اس پر وہ لوگ حضرت ابراہیمؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں اور وہ تین باتوں کو یاد کریں گے جو انہوں نے خلافِ واقعہ کہی تھیں۔ البتہ حضرت موسیٰؑ کے پاس آؤ جو ایسے بندے تھے کہ جن کو اللہ نے تورات دی تھی اور ان سے باتیں کی تھیں اور ان کو اپنے قریب کرکے ان سے راز و نیاز کی باتیں کی تھیں۔ فرمایا: وہ حضرت موسیٰؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں ہوں اور وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے کی یعنی جو انہوں نے ایک جان کو مار ڈالا تھا۔ البتہ حضرت عیسیٰؑ کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ فرمایا: تب وہ حضرت عیسیٰؑ کے پاس آئیں گے اور وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں ہوں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ جو ایسے بندے ہیں جن کو اللہ نے ان کے جو قصور پہلے ہوچکے ہیں اور جو ابھی نہیں ہوئے سب معاف کردئیے ہیں۔ یہ سن کر وہ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے ربّ سے اس کی درگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا تو وہ مجھے اس کی اجازت دے گا۔ جب میں اس کو دیکھوں گا سجدے میں گر پڑوں گا اور اللہ جتنی دیر چاہے گا کہ وہ مجھے رہنے دے سجدے میں رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا: محمد! سر اُٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی، اور سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ اور مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: میں اپنا سر اُٹھاؤں گا اور میں اپنے ربّ کی وہ وہ حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر وہ میرے لئے ایک حد مقرر کردے گا۔ میں وہاں سے نکل کر ان لوگوں کو جنت میں پہنچاؤں گا۔ قتادہ نے کہا: میں نے حضرت انسؓ کو یہ بھی کہتے سنا: میں وہاں سے نکل کر ان کو آگ سے نکالوں گا اور ان کو جنت میں لے جاؤں گا۔ پھر میں واپس آؤں گا اور اپنے ربّ سے اس کی درگاہ میں داخل ہونے کی اجازت مانگوں گا اور وہ مجھے اس کی اجازت دے گا۔ جب میں اس کو دیکھوں گا سجدے میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا کہ میں رہوں میں سجدے میں پڑا رہوں گا۔ پھر کہے گا:محمد! سر اٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی اور مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: میں سر اُٹھاؤں گا اور اپنے ربّ کی وہ کچھ حمد و ثنا کروں گا جو مجھے سکھائے گا۔ فرمایا: پھر میں سفارش کروں گا اورمیرے لئے ایک حد مقرر کر دے گا۔ (فرمایا:) میں ان کو لے کر جنت میں جاؤں گا۔ قتادہ نے کہا: اور میں نے حضرت انسؓ کو یہ کہتے سنا کہ آپؐ نے فرمایا: میں وہاں سے نکل کر ان کو آگ سے نکالوں گا اور ان کو جنت میں لے جاؤں گا۔ پھر تیسری بار لوٹوں گا اور اپنے ربّ کے سامنے اس کی درگاہ میں داخل ہونے کی اجازت مانگوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔ جب میں اس کو دیکھوں گا تو سجدے میں گرپڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا کہ میں سجدے میں رہوں میں سجدے میں رہوں گا۔ پھر اللہ کہے گا: محمد! سراٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی اور مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: تب میں اپنا سراُٹھاؤں گا اور اپنے ربّ کی وہ کچھ حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ فرمایا: پھر میں سفارش کروں گا اور وہ میرے لئے ایک حد مقرر کرے گا۔ میں وہاں سے لے کر ان کو جنت میں لے جاؤں گا۔ قتادہ کہتے تھے: میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میں ان کو لے کر آگ سے نکالوں گا اور جنت میں لے جاؤں گا یہاں تک کہ آگ میں صرف وہی باقی رہ جائیں گے جن کو قرآن نے روک رکھا ہوگا یعنی جن پر ہمیشہ رہنا لازمی ہوگا۔ (حضرت انسؓ کہتے تھے:) پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: یعنی بالکل متوقع ہے کہ تیرا ربّ تجھے حمد والے مقام پر کھڑا کر دے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیا تھا۔