بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن طہمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حجاب کی آیت حضرت زینب بنت جحشؓ کے متعلق نازل ہوئی تھی اور آپؐ نے اس دن ان کے ولیمہ میں روٹی اور گوشت کھلایا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر فخر کرتی تھیں۔کہتی تھیں کہ اللہ نے آسمان پر میرا نکاح کیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ جب مخلوقات پیدا کرچکا تو اس نے اپنے عرش کے اوپر اپنے پاس یہ لکھا کہ میرا رحم میرے غضب پر سبقت رکھتا ہے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن یحيٰ سے، عمرو نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے، حضرت ابوسعید خدریؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز لوگ بے ہوش ہوجائیں گے۔ اچانک موسیٰؑ کو دیکھوں گا کہ عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔
اور ماجشون نے عبداللہ بن فضل سے، عبداللہ نے ابوسلمہ سے،ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں پہلا ہوں گا جسے اُٹھایا جائے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰؑ عرش کو پکڑے ہوئے ہیں۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن فلیح نے مجھے بتایا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہلال نے مجھے بتایا۔ ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور نماز کو سنوار کر ادا کیا اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر لازم ہوگیا کہ اس کو جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اپنے اس ملک میں بیٹھا رہے جہاں وہ پیدا ہوا۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم لوگوں کو یہ نہ بتائیں؟ آپؐ نے فرمایا: جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے اس کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھے ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا آسمان زمین کے درمیان۔ اس لئے جب تم اللہ سے مانگو تو اس سے فردوس مانگو کیونکہ وہ سب سے بہترین جنت ہے اور بلند ترین جنت ہے اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے۔ اس سے جنت کی نہریں پھوٹ کر بہتی ہیں۔
یحيٰ بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوذرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں مسجد میں گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سورج غروب ہوا تو آپؐ نے فرمایا: ابوذرؓ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں جاتا ہے؟ حضرت ابوذرؓ کہتے تھے: میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا: یہ جا کر سجدہ کرنے کی اجازت مانگتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہ کہا گیا ہے وہیں لوٹ جاؤ جہاں سے تم آئے ہو تو وہ وہاں سے نکلے گا جہاں وہ ڈوبتا ہے۔ پھر آپؐ نے (یہ آیت) پڑھی: ذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا جیسا کہ حضرت عبداللہؓ کی قراءت ہے۔
موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابراہیم سے روایت کی کہ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا۔ ابن شہاب نے عبیداللہ بن سباق سے روایت کی کہ حضرت زید بن ثابتؓ (نے کہا)۔ اور لیث نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن خالد نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابن سباق سےروایت کی کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے ان سے بیان کیا، کہا کہ حضرت ابوبکرؓ نے مجھے بلا بھیجا تو میں نے قرآن کو جا بجا تلاش کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں نے سورة توبہ کی آخری آیت حضرت ابوخزیمہ انصاریؓ کے پاس پائی۔ ان کے سوا کسی اور کے پاس اسے نہیں پایا۔ یعنی یہ آیت لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ۔ سورة برأة کے آخر تک۔یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے روایت کی اور انہوں نے بھی یہی کہا کہ حضرت ابوخزیمہ انصاریؓ کے پاس ۔
معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالعالیہ سے، ابوالعالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے وقت یہ فرمایا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو کامل علم والا، بہت ہی بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت ہی بڑی بادشاہی کا ربّ ہے، اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو ان آسمانوں کا ربّ ہے اور اس زمین کا ربّ ہے اور عزت والی بادشاہی کا ربّ ہے۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے،ا بوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان کچھ فرشتے رات کو اور کچھ فرشتے دن کو یکے بعد دیگرے باری باری آتے رہتے ہیں اور عصر کی نماز اور فجر کی نماز میں اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جو تم میں رات کو رہ چکے ہوتے ہیں وہ اوپر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے اور وہ تمہارے متعلق بہتر جانتا ہوتا ہے فرماتا ہے: تم میرے بندوں کو کس کیفیت میں چھوڑ کر آئے؟ تو وہ کہتے ہیں: ہم نے ان کو ایسی حالت میں چھوڑ ا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ہم ان کے پاس ایسی حالت میں گئے تھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
اور خالد بن مخلد نے کہا: سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن دینار نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا اور پاکیزہ چیز ہی اللہ کی طرف اوپر جاتی ہے۔ تو اللہ اپنے داہنے ہاتھ سے اس کو قبول کرتا ہے۔ پھر اس صدقے کو کرنے والے کے لئے اس طرح پرورش کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے۔یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ اور اس حدیث کو ورقاء نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے سعید بن یسار سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اس میں یوں ہے: پاکیزہ چیز ہی اللہ کے حضور چڑھتی ہے۔