بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 21 hadith
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن ابی رباح اور ان کے سوا اور لوگوں سے بھی روایت کی ہے جو ایک دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتے تھے اور ان سب میں سے ایک شخص نے بھی اس (حدیث کو مکمل)بیان نہیں کیا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مَیں ایک سفر میں تھا۔ میں ایک سُست رفتار اُونٹ پر سوار تھا۔ صرف وہی اونٹ لوگوں کے پیچھے رہتا تھا۔ نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے اور آپؐ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جابر بن عبداللہ (انصاری) آپؐ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: میں ایک سُست رفتار اونٹ پر سوار ہوں۔ آپؐ نے پوچھا: تمہارے پاس چھڑی ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے وہ دو۔ میں نے آپؐ کودی۔ آپؐ نے اس اونٹ کو مارا اور اُسے ڈانٹا تووہ اس جگہ ایسا چلا کہ سب لوگوں کے آگے نکل گیا۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے یہ قیمتاً دے دو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ آپؐ کا ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: میرے ہاتھ بیچ دو۔ (پھر آپؐ نے خود ہی فرمایا:) میں نے اس کو چار اَشرفیوں پر لے لیا اور تم کو اجازت ہے کہ مدینہ تک اس پر سوار رہو۔ جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے، میں ایک اور طرف جانے لگا۔ آپؐ نے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ میں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہوئی ہے جس کا خاوند فوت ہوچکا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کسی کنواری سے کیوں نہ کی؟ جس سے تم کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ میں نے کہا: میرے باپ فوت ہوگئے اور بیٹیاں چھوڑ گئے تو میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے نکاح کروں جو تجربہ کار ہو۔ اس کا خاوند مرگیا ہو۔ آپؐ نے کہا: اچھا یہ بات ہے۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: بلال! (جابر کو) قیمت ادا کردو اور اسے کچھ زیادہ دو۔ حضرت بلالؓ نے چار دینار دئیے اور ایک قیراط سونا زیادہ دیا۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زیادہ دیا ہوا عطیہ مجھ سے جدا نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ قیراط حضرت جابر بن عبداللہؓ کی تھیلی سے الگ نہ ہوتا تھا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالکؒ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی۔ کہتے تھے: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپؐ کے سپرد کردیا۔ ایک شخص نے کہا: اس کا نکاح مجھ سے کردیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کردیا، اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر ص نے جو صدقے کے بارے میں لکھوایا تھا اس میں یوں ہے: (صدقہ کے) متولی پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اس سے خود کھائے اور دوست کو کھلائے۔ مگر جائیداد بنانے والا نہ ہو۔ (حضرت عبداللہ)بن عمرؓ ہی حضرت عمرؓ کے صدقہ کے متولی تھے۔ اہل مکہ میں سے بعض لوگوں کو اس میں سے ہدیہ بھی دے دیتے تھے جن کے ہاں وہ اُترتے تھے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبد اللہ (بن عتبہ) سے، عبیداللہ نے حضرت زید بن خالد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے (اُنَیس بن ضحاک اسلمیؓ سے) فرمایا: اُنَیس اس شخص کی عورت کے پاس جائو۔ اگر وہ زناکا اقرار کرے تو اس کو سنگساری کی سزا دو۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبد اللہ (بن عتبہ) سے، عبیداللہ نے حضرت زید بن خالد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے (اُنَیس بن ضحاک اسلمیؓ سے) فرمایا: اُنَیس اس شخص کی عورت کے پاس جائو۔ اگر وہ زناکا اقرار کرے تو اس کو سنگساری کی سزا دو۔
اور عثمان بن ہیثم ابوعمرو(بصری) نے کہا: عوف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے، ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ ص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃِرمضان کی نگرانی پر مجھے مقرر کیا تو ایک آنے والا میرے پاس آیا اور وہ غلّے سے لپ بھر بھر کر لینے لگا۔ میں نے اس کو پکڑا اور میں نے کہا: خدا کی قسم میں تجھ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جائوں گا۔ اس نے کہا: میں محتاج ہوں۔ مجھ پر بال بچوں کا بوجھ ہے اور میں سخت تنگدستی میں ہوں۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: میں نے اس کو جانے دیا۔ جب میں صبح کو اُٹھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! کل رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے سخت تنگدستی اور بال بچوں کا شکوہ کیا۔ میں نے اس پر رحم کیا اور اُسے جانے دیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس نے تم سے جھوٹ کہا ہے۔ پھر وہ دوبارہ آئے گا اور میں بھی سمجھ گیا کہ وہ ضرور آئے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ دوبارہ آئے گا۔ اس لئے میں اس کی تاک میں بیٹھ گیا۔ اتنے میں وہ آیا٭ اور اناج لپ بھر بھر کر لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا او رکہا: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ضرور پیش کروں گا۔ اس نے کہا: مجھے جانے دو۔ کیونکہ میں محتاج ہوں اور عیال دار ہوں۔ اب دوبارہ نہیں آئوں گا۔ مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے پھر اُسے جانے دیا۔ صبح جو میں اُٹھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابوہریرہ! تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے سخت تنگ دستی اور بال بچوں کا شکوہ کیا۔ مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اسے جانے دیا۔ آپؐ نے فرمایا: خبردار اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔ چنانچہ میں تیسری دفعہ اس کی تاک میں رہا۔ وہ آیا٭ اور لپ بھربھر کر اناج لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور میں نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کروں گا اور یہ تیسری دفعہ ہے کہ تو کہتا ہے کہ اَب نہیں آئوں گا۔ پھر تو آجاتا ہے۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو۔ میں تجھے ایسے کلمات سکھائوں گا کہ جن سے اللہ تجھے فائدہ دے گا۔ میں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ اس نے کہا: جب تم سونے کے لئے اپنے بچھونے پر جائو تو آیت الکرسی پڑھو (یعنی اللہ ! اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم بالذات ہے۔) تو تم پر اللہ کی طرف سے ایک نگہبان رہے گا اور صبح تک شیطان تیرے قریب نہ آئے گا۔ اس پر میں نے اسے جانے دیا۔ صبح جو میں اُٹھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے قیدی نے کل رات کیا کیا؟ میں نے کہا: یارسول اللہ! اس نے کہا کہ وہ مجھے ایسی باتیں سکھائے گا کہ جس سے اللہ مجھے نفع دے گا تو میں نے اسے جانے دیا۔ آپؐ نے پوچھا: وہ کیا باتیں ہیں؟ میں نے کہا: اس نے مجھے بتایا ہے۔ جب تم اپنے بستر پر سونے لگو تو آیۃ الکرسی کو شروع سے آخر تک پڑھو۔ یعنی اَللّٰہُ لَا اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَج اَلْحَيُّ الْقَیُّوْمُج اور اس نے مجھے بتایا کہ ایسا پڑھنے سے تم پر اللہ کی طرف سے ایک نگہبان رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہ آئے گا اور صحابہ بھلی بات پر بہت ہی حریص ہوتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: دیکھو اس نے تم سے سچ کہا ہے، حالانکہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔ ابوہریرہ! تم جانتے ہو کہ تین راتوں سے تم کس سے باتیں کرتے رہے ہو؟ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ شیطان ہے۔
(تشریح)اسحق (بن راہویہ) نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ معاویہ بن سلام نے ہمیں بتایا۔ (کہا:)یحيٰ (بن ابی کثیر) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عقبہ بن عبدالغافر سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: بلالؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برنی کھجوریں لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ کہاں سے لائے ہو؟بلالؓ نے کہا: ہمارے٭ پاس ردّی کھجوریں تھیں تو میں نے اس کے بدلے دو صاع دے کر اس میں سے ایک صاع اس لئے خریدا ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلائیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اوہ اوہ۔ یہ تو عین سود ہے۔ }عین سود ہے۔٭{ ایسا نہ کرو۔ لیکن اگر تم (اچھی کھجوریں) خریدنا چاہو تو (ناقص کھجور) بیچ کر پھر اس (کی قیمت) سے (اچھی کھجوریں) خرید لو۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی بکربن حزم سے، عبداللہ نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ عمرہ نے انہیں خبردی۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی والے اونٹوں کے ہار اپنے ہاتھ سے بٹے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے ان کے گلے میں ڈالے۔ پھر ان کو میرے باپ کے ساتھ بھیج دیا اور(اس قربانی کے بھیجنے کی وجہ سے) جب تک کہ قربانی کے اونٹ ذبح نہ کر دئیے گئے؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی بات حرام نہ ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال کی تھی۔
(تشریح)یحيٰ بن یحيٰ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے مالک کو پڑھ کر سنایا۔ مالکؒ نے اسحق بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ص سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ ابوطلحہؓ مدینہ میں تمام انصار سے زیادہ مالدار تھے اور (ان کو) اپنی تمام جائیداد میں سے زیادہ پیاری وہ جائیداد تھی جو بیر حاء کا باغ تھا۔ وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں جایا کرتے تھے اور وہاں کا صاف پانی پیتے۔ جب یہ آیت اُتری کہ تم نیکی کو ہرگز نہ پاسکو گے، جب تک تم ان چیزوں سے نہ خرچ کرو گے جو تمہیں پیاری ہیں تو ابوطلحہؓ اُٹھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: تم نیکی کو ہرگز نہیں پاسکو گے جب تک تم ان چیزوں کو نہ خرچ کرو جن سے تم محبت رکھتے ہو اور مجھے اپنی جائیدادوں میں سے زیادہ پیارا بیرحاء کا باغ ہے۔ لیجئے وہ اللہ کے لئے صدقہ ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ صدقہ خالص نیکی اور اللہ تعالیٰ کے حضور میرے لئے ثواب کا موجب ہوگا۔ یا رسول اللہ! آپؐ جہاں چاہیں، لگائیں۔ آپؐ نے فرمایا: واہ! یہ مال تو جانے والا ہے۔ یہ مال تو جانے والا ہے۔ میں نے سن لیا ہے جو تم نے اس کے متعلق کہا ہے اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے عزیزوں کے لئے ہی رکھو۔ ابوطلحہؓ نے کہا: یارسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کو اپنے قریبیوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ (یحيٰ بن یحيٰ کی طرح) اسماعیل نے بھی یہ حدیث مالک سے نقل کی اور رَوح نے مالک سے روایت کرتے ہوئے لفظ رَائِحٌ کی بجائے لفظ رَابِحٌ کہا (یعنی فائدہ مند مال)
(تشریح)