بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ آپؐ نے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے یا فرمایا: اس کے کان میں۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کا اوپر کا کنارہ نکلے تو تم نماز نہ پڑھو جب تک کہ وہ سارا نہ نکل آئے اور جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے۔ تب بھی تم نماز نہ پڑھو جب تک سورج غروب نہ ہوجائے۔
اپنی نماز کے لئے سورج نکلنے کا انتظار نہ کیا کرو اور نہ ہی اس کے ڈوبنے کا۔ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے نکلے گا۔ عبدہ نے کہا: میں نہیں جانتا ہشام نے کونسا لفظ کہا شیطان یا الشیطان۔
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوںنے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ مشرق کی طرف اشارہ کررہے تھے اور آپؐ نے فرمایا: دیکھو وہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا۔ وہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے سالم بن ابی جعد سے، سالم نے کریب سے، کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب اپنی بیوی کے پاس آئے اور یہ کہے: اللہ کے نام کے ساتھ۔ اے میرے اللہ! شیطان سے ہمیں بچائے رکھیو اور شیطان کو اس سے دو ر رکھیو جو تم نے ہمیں عطا فرمانے کا ارادہ کیا ہے تو انہیں ایسا بچہ دیا جائے گا جسے شیطان نے ضرر نہ پہنچایا ہوگا۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید بن ہلال سے، حمید نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت٭ ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کے سامنے سے کوئی گزرے تو چاہیے کہ وہ اسے روک دے۔ اگر وہ نہ مانے تو اسے روکے۔ پھر اگر نہ مانے تو اس کا مقابلہ کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
اور عثمان بن ہیثم نے کہا کہ عوف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے، ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی زکوٰۃ (یعنی صدقہ فطر کے غلہ) کی حفاظت کے لئے مجھے مقرر فرمایا۔ ایک آنے والا آیا اور وہ غلہ سے لپ بھربھر کرلینے لگا۔ میں نے اسے پکڑلیا اور میں نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ضرور پیش کروں گا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے ساری حدیث بیان کی۔ اس چور نے کہا: جب تم اپنے بستر پر سونے کے لئے لیٹنے لگو تو آیۃ الکرسی پڑھو۔ اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک نگہبان مقرر رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تم سے سچ کہا، حالانکہ وہ بڑا جھوٹا ہے اور وہ تو شیطان ہے (جو تمہارے پاس آیا۔)
یحيٰبن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے ایک کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا اور وہ کس نے پیدا کیا؟ اور آخر میں کہتا ہے کہ اچھا، خدا کو کس نے پیدا کیا؟ جب وہ اس حد تک پہنچ جائے تو چاہیے کہ وہ (بندہ) اللہ کی پناہ لے اور وہیں رُک جائے۔
یحيٰبن بکیر نے ہمیں بتایا کہ لیث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: تیمیوں کے غلام (نافع) ابن ابی انس نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے باپ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن دینار) نے ہمیں بتایا، کہا: سعید بن جبیر نے مجھے خبردی۔ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا: وہ کہتے تھے: ہم سے اُبی بن کعب نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: موسیٰ ؑنے اپنے ساتھی نوجوان سے کہا: ہمارا ناشتہ ہمیں دو ۔۔۔۔ اس نے کہا: دیکھئے جب ہم نے چٹان کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے اس کی یاد بھلا دی اور حضرت موسیٰ ؑنے اس وقت تکان محسوس کی جب وہ اس جگہ سے آگے نکل گئے جس کی بابت اللہ نے حکم دیا تھا۔