بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
یحيٰبن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبداللہ انصاری نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، حضرت جابرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جب رات چھا جائے یا رات شروع ہوجائے تو تم اپنے بچوں کو (باہر جانے سے) روکو۔ کیونکہ شیطان اس وقت پھیل جاتے ہیں۔ جب عشاء کے وقت سے کچھ عرصہ گزر جائے تو انہیں آزادی دے دو اور تم اپنا دروازہ بندکرلو اور اللہ کا نام لو اور دِیا بجھاتے وقت اللہ کانام لو اور مشکیزے کا منہ باندھو اور اللہ کا نام لو اور اپنا برتن ڈھانپو اور اللہ کا نام لو۔ خواہ کوئی چیز ہی اس پر آڑی رکھ دو۔
محمود (بن غیلان) نے ہمیں بتایا۔ شبابہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے، ابن زیادنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے ایک نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: شیطان میرے سامنے آیا اور مجھ پر حملہ کیا کہ میری نماز توڑ دے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دیا۔ پھرحضرت ابوہریرہؓ نے ساری حدیث بیان کی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کو جب وہ پیدا ہوتا ہے شیطان اس کے دونوں پہلوئوں میں اپنی انگلیوں سے کونچتا ہے، سوائے عیسیٰ بن مریم کے۔ (انہیں) کونچنے گیا تھا مگر اس نے بچہ دان کے پردے ہی کو کونچا۔
عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابوذئب کے بیٹے نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے اپنے باپ (کیسان) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی
محمود بن غیلان نے ہمیں بتایا۔ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے علی بن حسین سے، علی نے حضرت صفیہؓ بنت حيّ سے روایت کی۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے۔ میں ایک رات آپؐ سے ملنے آئی۔ آپؐ سے باتیں کیں۔ پھر اس کے بعد میں اٹھی اور لوٹنے لگی۔ آپؐ بھی میرے ساتھ کھڑے ہوگئے تاکہ آپؐ مجھے واپس پہنچائیں اور ان کی جائے رہائش (ان دنوں) حضرت اسامہ بن زیدؓ کے گھر میں تھی۔ انصار میں سے دو مرد گزرے۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ دونوں تیز چلے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو۔ یہ حيّ کی بیٹی صفیہؓ ہے۔ ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ! یا رسول اللہ۔ آپؐ نے فرمایا: شیطان انسان میں دورانِ خون کی طرح چلتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں بری بات یا فرمایا: کوئی بات نہ ڈال دے۔
عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے عدیّ بن ثابت سے، عدیّ نے سلیمان بن صُرَد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہے تو جو غصہ اس کو ہے وہ جاتا رہے گا۔ اگر وہ یہ کہے : میں شیطان سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں تو جو غصہ اس کو ہے وہ جاتا رہے گا۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم شیطان سے (بچنے کے لیے) اللہ کی پناہ مانگو۔ اس نے کہا: کیا مجھے جنون ہے؟
آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتا یا شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ منصور نے ہمیں بتایا ا نہو ں نے سالم بن ابی ا لجعد سے، سا لم نے کریب سے، کریب نے حضر ت ابن عباسؓ سے رو ا یت کی کہ ا نہو ں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہے: اے اللہ! مجھے شیطان سے الگ رکھیو اور شیطان کو اس سے الگ رکھیو جو تو نے مجھے عطاء کرنے کا ارادہ فرمایا ہے پھر اگر ان دونوں سے بچہ ہوا تو شیطان اسے ضرر نہ دے گا اور نہ وہ اس پر قابو پائے گا شعبہ نے کہا: اور اعمش نے بھی اسی طرح ہمیں بتایا انہوں نے سالم سے، سالم نے کریب سے، کریب نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ اَوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لئے بلایا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے اور گوز مار تا جاتا ہے۔ جب اذان ہوچکتی ہے تو پھر آتا ہے اور جب نماز کیلئے صفیں درست کرنے کے لئے تکبیر اقامت ہوتی ہے تو وہ پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے اور جب تکبیر ہوچکتی ہے تو وہ آجاتا ہے اور آکر انسان اور اس کے دل کے درمیان چکر لگاتا ہے اور کہتا ہے فلاں فلاں بات یاد کرو (اور اس طرح) اسے ایسا مشغول رکھتا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار۔ جب وہ نہ جانے کہ میں نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ سہو کے دو سجدے کرلے۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں شام میں آیا۔ لوگوں نے کہا: حضرت ابوالدردائؓ کہتے تھے: کیا تم میں وہ شخص تھا جس کو اللہ نے شیطان سے بچائے رکھا؟ جس طرح اس کے نبی ﷺ نے اپنی زبان سے فرمایا۔ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ سے روایت کرتے ہوئے یہی بتایا اور انہوں نے یوں کہا: اللہ نے اس کو بچایا جیسا کہ اس کے نبی ﷺ نے اپنی زبان سے فرمایا۔ مغیرہ کی مراد اس سے حضرت عمار(بن یاسرؓ) تھے۔
(امام بخاری نے) کہا: اور لیث (بن سعد) نے کہا: خالد بن یزید نے مجھے بتایا کہ سعید بن ابی ہلال سے مروی ہے کہ ابوالاسود (محمد بن عبدالرحمن) نے انہیں خبردی کہ عروہ سے روایت ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ملائکہ اَبر یعنی بادل میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں، اس واقعہ کے متعلق جو زمین میں ہونے والا ہو۔ شیطان بھی کوئی بات سن لیتے ہیں۔ پھر وہ اسے کاہن کے کان میں اس طرح ڈال دیتے ہیں جیسے شیشے کے برتن میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے تو وہ اس کے ساتھ ایک سو جھوٹ اَور بڑھاتے ہیں۔