بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن مہران) سے، سلیمان نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن (بن یزید نخعی) سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابومسعودؓ (انصاری) سے،حضرت ابومسعودؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے یہ دو آیتیں پڑھیں۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ (بن زبیر) سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔ جب آپؐ کی بیماری بڑھ گئی تو میں آپؐ پر یہ سورتیں پڑھتی اور آپؐ کا ہاتھ آپؐ کے بدن پر پھیرتی اس امید سے کہ ان کی برکت سے شفا ہوگی۔
اور عثمان بن ہیثم نے کہا: ہمیں عوف (بن ابی جمیلہ) نے بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطر کی نگہبانی پر مجھے مقرر فرمایا تو میرے پاس ایک آنے والا آیا اور غلہ کے لپ بھر بھر کر لینے لگا۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ضرور پیش کروں گا۔ پھر انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا: جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو، اللہ کی طرف سے ایک محافظ تمہارے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور صبح ہونے تک شیطان تمہارے قریب نہ آئے گا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تم سے سچ کہا حالانکہ وہ بڑا ہی جھوٹا ہے۔ وہ شیطان تھا۔
(تشریح)اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور لوگوں کے آگے ہوگیا اورمیں ڈرگیا کہ کہیں میرے متعلق قرآن نہ نازل ہو۔ مجھے کچھ دیر نہ گزری تھی کہ میں نے پکارنے والے کو سنا جو (مجھے) پکار رہا تھا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: میں نے کہا: مجھے یقیناً خدشہ ہے کہ میرے متعلق ضرور قرآن نازل ہوا ہوگا۔ کہتے تھے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ کو السلام علیکم کہا۔ آپؐ نے فرمایا: آج رات مجھ پر ایک ایسی سورة نازل کی گئی ہے جو یقیناً مجھے ان تمام چیزوں سے پیاری ہے جن پر سورج چڑھتا ہے۔ پھر آپؐ نے (سورةالفتح)پڑھی:اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۰۰ یعنی ہم نے تم کو ایک کھلی کھلی فتح بخشی ہے۔ اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے کسی سفر میں جارہے تھے اور حضرت عمر بن خطابؓ بھی آپؐ کے ساتھ چلے جا رہے تھے ۔ حضرت عمرؓ نے آپؐ سے کسی بات کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے آپؐ سے پوچھا مگر آپؐ نے جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے آپؐ سے پوچھا تو بھی آپؐ نے ان کو جواب نہیں دیا۔ حضرت عمرؓ نے (اپنے تئیں) کہا: تیری ماں تجھے کھوئے تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار پیچھے پڑ کر پوچھا۔ ایک دفعہ بھی آپؐ نے تجھے جواب نہیں دیا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: میں نے
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نے کسی شخص کو قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھتے سنا۔ وہ اس کو بار بار پڑھ رہا تھا۔ جب صبح ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ سے یہ ذکر کیا، جیسے وہ شخص اس کو بدعت سمجھتا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سن کر) فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ سورة تو ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
اور ابومعمر (عبداللہ بن عمرو منقری) نے اپنی سند میں اتنا زائد کیا کہ ہمیں اسماعیل بن جعفر نے بتایا۔ انہوں نے مالک بن انس سے، مالک نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ (حضرت ابوسعیدؓ نے کہا:) مجھے میرے بھائی حضرت قتادہ بن نعمانؓ نے بتایا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سحری کو اٹھ کر قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھنے لگا۔ اس کے علاوہ اور کوئی سورة نہ پڑھتا۔ جب ہم صبح کو اٹھے تو ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پھر ویسے ہی روایت بیان کی۔
عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (نخعی) اور ضحاک مشرقی نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اتنا عاجز ہے کہ رات میں ایک تہائی قرآن پڑھے۔ یہ بات ان پر شاق گذری اور انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ (والی سورۃ پڑھنا) ایک تہائی قرآن ہے۔
(تشریح)سے روایت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر ہر رات لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو ملاکر ان میں پھونکتے اور یہ سورتیں پڑھتے قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ پھر اپنے سارے بدن پر جہاں تک ہو سکتا ان ہاتھوں کو پھیرتے، اپنے سر اور منہ سے شروع کرتے اور پھر اپنے بدن کے سامنے کے حصے پر پھیرتے ۔ تین دفعہ ایسا ہی کرتے۔قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ مفضل بن فضالہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل (بن خالد) سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ
(تشریح)