بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
اور لیث (بن سعد) نے کہا: مجھے یزید بن ہاد نے بتایا۔ انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے حضرت اُسَید بن حضیرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار رات کو وہ سورة البقرۃ پڑھ رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں (ان کے) گھوڑے نے چکر لگانا شروع کیا۔ وہ (یہ دیکھ کر) خاموش ہو گئے اور وہ گھوڑا بھی ٹھہر گیا۔ پھر انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا بھی چکر لگانے لگا۔ وہ چپ ہو گئے اور گھوڑا بھی ٹھہر گیا۔ پھر انہوں نےپڑھنا شروع کیا اور گھوڑا بھی چکر لگانے لگا۔ (وہ چپ ہوگئے اور گھوڑا بھی ٹھہر گیا۔) وہ نماز سے فارغ ہوگئے اور ان کا بیٹا یحيٰ گھوڑے کے قریب تھا۔ وہ ڈرے کہ کہیں وہ اس کو صدمہ نہ پہنچائے۔ جب انہوں نے اس کو اپنے پاس گھسیٹ لیا تو انہوں نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا۔ یہ حالت تھی کہ وہ (آسمان کو) بالکل نہ دیکھتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: ابن حضیر ؓ! اسی طرح پڑھتے رہو۔ ابن حضیر اسی طرح پڑھتے رہو۔ (حضرت اُسیدؓ نے) کہا: یا رسول اللہ! میں ڈر گیا تھا کہ کہیں وہ یحيٰ کو نہ کچل ڈالے اور وہ اس کے قریب ہی تھا۔ میں نے اپنا سر اُٹھایااور یحيٰ کی طرف مڑ کر گیا۔ پھر میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جیسے سائبان ہے جس میں دیے سے ہیں۔ پھر میں باہر گیا تو (حالت یہ تھی کہ) ان کو نہیں دیکھتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اور تم جانتے ہو کہ یہ کیا تھا؟ اُنہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ ملائکہ تھے جو تمہاری آواز سن کر نزدیک آگئے تھے اور تم پڑھتے رہتے تو صبح کو لوگ بھی ان کو دیکھتے، ان سے چھپتے نہیں۔ ابن ہاد نے کہا: اور مجھے یہ حدیث عبداللہ بن خباب نے بھیحضرت ابوسعید خدریؓ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے حضرت اُسید بن حضیرؓ سے روایت کرتے ہوئے بتائی۔
(تشریح)محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن مِغْول نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) طلحہ (بن مصرف) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت بھی کی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا کہ لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی۔ انہیں تو اس کا حکم دیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت نہیں کی۔ (عبداللہ نے) کہا: آپؐ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن رُفَیع سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اور شداد بن معقل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے کچھ ترکہ بھی چھوڑا ؟ انہوں نے جواب دیا: کچھ نہیں چھوڑا سوا اس کے جو مصحف کی اس جِلد کے درمیان ہے۔ عبدالعزیز کہتے تھے اور ہم محمد بن حنیفہ کے پاس گئے اور ان سےبھی یہی پوچھا۔ انہوں نے بھی کہا: آپؐ نے کچھ نہیں چھوڑا سوائے اس کے جو مصحف کی اس جِلد کے درمیان ہے۔
(تشریح)ہدبہ بن خالد ابوخالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے، حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ترنج(نارنگی) کی سی ہے۔ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور خوشبو بھی اچھی۔ اور جو (مومن) قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے، مزہ تو اس کا اچھا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں۔ اور اس بدکار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے نیاز بو کی سی ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اور مزہ کڑوا ہے۔ اور اس بدکار کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا حنظل کی سی ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہے اور خوشبو بھی نہیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید قطان) سے، یحيٰ نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تمہاری عمر اُن امتوں کی عمر کے مقابل میں جو گزرچکیں اتنی ہی ہے جو عصر کی نماز اور سورج کے ڈوبنے کے درمیان ہے، اور تمہاری مثال اور یہود و نصارٰی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے چندمزدوروں کو کام پر لگایا اور کہا: میرے لئے ایک ایک قیراط پر دوپہر تک کون کام کرتا ہے تو یہود نے کیا۔ پھر اس نے پوچھا: میرے لئے دوپہر سے عصر تک کون کام کرے گا تو نصاریٰ نے کیا۔ پھر اب تم ہو جو عصر سے مغرب تک دو دو قیراط پر کام کرو گے۔ یہود و نصارٰی نے کہا: ہم کام تو زیادہ کریں اور دئیے جائیں تھوڑا۔ تو اس نے کہا: کیا میں نے تمہیں تمہارے حق سے کم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو اس نے کہا: پھر یہ میرا انعام ہے جس کو چاہوں دوں۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لیث نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے کسی چیز کو بھی اتنی توجہ سے نہیں سنا، جتنا کہ نبی(ﷺ) کو توجہ سے سنا جبکہ وہ قرآن خوش الحانی سے پڑھ رہے ہوں۔ اور ابوسلمہ کے ایک دوست نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ بلند آواز سے پڑھتے ہوں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیاکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: کسی پر رشک نہیں کرنا چاہیے مگر دو شخصوں پر۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے کتاب(قرآن) دی ہو اور وہ رات کی گھڑیوں میں اُٹھ کر اس کو پڑھتا ہے اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ رات دن اس کو صدقات میں خرچ کرتا ہے۔
ہمیں علی بن ابراہیم نے بتایا کہ ہم سے روح (بن عبادہ) نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے سلیمان (بن مہران اعمش) سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے ذکوان سے سنا۔ وہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک نہیں کرنا چاہیے مگر دو ہی آدمیوں پر۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا ہو اور وہ اس کو رات دن پڑھتا ہے اور اس کے پڑوسی نے اس کو سنا اور کہا: اے کاش مجھے بھی ویسے ہی دیا جائے جو فلاں کو دیا گیا اور پھر میں بھی ویسے ہی کروں جیسے یہ کرتا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے حق میں خرچ کرتا ہے۔ پھر ایک شخص کہے کاش مجھے بھی ویسے ہی دیا جائے جو فلاں کو دیا گیا، پھر میں بھی وہی کروں جو وہ کرتا ہے۔
(تشریح)حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: علقمہ بن مرثد (حضرمی) نے مجھے بتایا۔(انہوں نے کہا:) سعد بن عبیدہ سےمیں نے سنا۔ انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، ابوعبدالرحمٰن نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے، حضرت عثمانؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اس کو سکھائے۔ (سعد بن عبیدہ) کہتے تھے: اور ابوعبدالرحمٰن حضرت عثمانؓ کی امارت میں قرآن پڑھایا کرتے تھے یہاں تک کہ حجاج (بن یوسف) حاکم ہوا۔ اور (ابوعبدالرحمٰن) کہا کرتے تھے: اور اسی حدیث نے مجھے اس جگہ بٹھایا ہے جہاں بیٹھا ہوں۔