بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 85 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: تم میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم اپنی نمازوں کو اُن کی نمازوں کے مقابل، تم اپنے روزوں کو اُن کے روزوں کے مقابل اور تم اپنے عمل کو اُن کے عمل کے مقابل حقیر جانو گے۔ اور وہ قرآن پڑھیں گے جو اُن کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ پھل کو دیکھے اس میں کچھ نہ پائے۔ لکڑی کو دیکھے تو اس میں کچھ نہ پائے۔ پَر کو دیکھے تو کچھ نہ پائےاور سرے (کو دیکھے تو اس) میں شک کرے۔
ابونعمان (محمد بن فضل سدوسی) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو عمران (عبدالملک بن حبیب) جونی سے، ابوعمران نے حضرت جندب بن عبداللہؓ سے، حضرت جندبؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل لگے رہیں۔ جب تم اُچاٹ ہونے لگو تو پھر اٹھ کھڑے ہو۔
مسد دنے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) سے،حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا:وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے وہ ترنج (نارنگی) کی طرح ہے جس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے۔ اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہے کھجور کی طرح ہے جس کا مزہ اچھا ہے اس کی مطلق بو نہیں۔ اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے نیاز بو کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اور اس کا مزہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا حنظل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی کڑوا، یا (فرمایا) بُرا اور بو بھی کڑوی۔
(تشریح)عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ سلام بن ابی مطیع نے ہم سے بیان کیا۔ سلام نے ابوعمران جونی سے، ابوعمران نے حضرت جندب (بن عبداللہؓ) سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن پڑھتے رہو جب تک کہ تمہارے دل لگے رہیں۔ جب تم اُچاٹ ہونے لگو تو پھر اٹھ کھڑے ہو۔ (سلام کی طرح) حارث بن عبید اور سعید بن زیدنے بھی ابوعمران (جونی) سے اس حدیث کو روایت کیا۔ اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوعاً بیان نہیں کیا۔ اور غندر (محمد بن جعفر) نے بھی اسے بیان کیا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابوعمران سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت جندبؓ سے ان کا یہی قول سنا۔ اور (عبداللہ) بن عون نے ابوعمران سے، ابوعمران نے عبداللہ بن صامت سے، عبداللہ نے حضرت عمرؓ سے ان کا یہی قول بیان کیا۔ اور حضرت جندبؓ کی روایت زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بن میسرہ سے، عبدالملک نے نزال بن سبرہ سے، نزال نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے ایک شخص کو ایک آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا کہ جس کے خلاف انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ (انہوں نے کہا:)میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ آپؐ نے فرمایا: تم دونوں اچھی طرح پڑھتے ہو۔ (شعبہ نے کہا:) میرا غالب علم یہ ہے کہ آپؐ نے فرمایا: کیونکہ تم سے پہلے جو تھے انہوں نے آپس میں اختلاف کیااور اس نے ان کو ہلاک کردیا۔
(تشریح)