بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ سلیمان سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے ابووائل سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے مسروق سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمروؓ (بن عاص) کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو درشت زبان تھے اور نہ تکلف سے درشتی کا اظہار کرنے والے تھے۔ اور آپؐ نے فرمایا:تم میں سے وہ مجھے زیادہ پیارے ہیں جو اخلاق میں نہایت اچھے ہیں۔
اور آپؐ نے فرمایا: چارشخصوں سے قرآن سیکھو- عبداللہ بن مسعودؓ اور سالم مولیٰ ابوحذیفہؓ سے اور اُبیّ بن کعبؓ اور معاذ بن جبلؓ سے۔
حسن بن بشر نے ہم سے بیان کیا کہ معافٰی (بن عمران ازدی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان بن اسود سے، عثمان نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:حضرت معاویہؓ نے عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی اور ان کے پاس حضرت ابن عباسؓ کے غلام تھے۔ وہ حضرت ابن عباسؓ کے پاس آئے تو حضرت ابن عباسؓ نے کہا: انہیں رہنے دو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں۔
: (سعید) بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ نافع بن عمر نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی ملیکہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباسؓ سے کہا گیا: کیا امیرالمؤمنین حضرت معاویہؓ کے متعلق آپ کو کچھ اعتراض ہے کیونکہ وہ ایک رکعت وتر پڑھتے رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ تو خود فقیہہ ہیں۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمروبن دینار سے، عمرونے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہؓ میری لخت جگر ہے، جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوعوانہ سے،ابوعوانہ نے مغیرہ سے، مغیرہ نے ابراہیم(نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی کہ میں شام گیا اور میں نے دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ ! میرے لئے کوئی اچھا ہم نشین میسر کر۔ پھر میں نے ایک بزرگ کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا ۔ جب وہ قریب آئے تو میں نے دل میں کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ نے میری دعا قبول فرمائی ہے۔ انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے ۔ انہوں نے کہا: کیا تم میں وہ شخص نہیں تھا جو جوتی اور تکیہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کا برتن اپنے پاس رکھتا تھا؟ کیا وہ شخص تم میں نہ تھا جسے اللہ نے شیطان سے پناہ دی؟ کیا تم میں وہ رازدار نہیں جس راز کو اس کے سواکوئی نہیں جانتا؟ امّ عبد کے بیٹے (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) سورۃ وَالَّیْلِ کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے پڑھا: وَ الَّيْلِ اِذَايَغْشَى۰۰وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى۰۰ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی منہ در منہ یہی پڑھایا تھا۔ یہ لوگ میرے پیچھے پڑے رہے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مجھے اس قراءت سے ہٹا دیتے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نے حضرت حذیفہؓ سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو خصلت اور روش میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب قریب ہو تاکہ ہم اس سے دین کا علم حاصل کریں تو انہوں نے کہا: خصلت اور اطوار اور وضع و قطع میں امّ عبد کے بیٹے سے زیادہ میں کسی کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں پاتا۔
محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحاق نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسحاق سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: اسود بن یزید نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں اور میرا بھائی یمن سے واپس آئے اور ہم ایک مدت تک اسی خیال میں رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ ہم ان کو اور ان کی والدہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے دیکھا کرتے تھے۔
(تشریح)عمروبن عباس نے ہم سے بیان کیاکہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابوتیاح سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حمران بن ابان سے سنا۔ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: تم لوگ یہ نماز پڑھتے ہو۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ چکے ہیں۔ ہم نے آپؐ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا بلکہ آپؐ نے ان کے پڑھنے سے منع فرمایا یعنی عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ ابوسلمہ نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: عائشہ! یہ جبریل ہیں۔ تمہیں سلام کہتے ہیں۔ میں نے کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپؐ جو کچھ دیکھتے ہیں میں نہیں دیکھتی۔ اس سے ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے تھی۔