بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: علی بن حسین نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسور بن مخرمہؓ نے کہا: حضرت علیؓ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا۔ حضرت فاطمہؓ نے یہ سن لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: آپؐ کی قوم یہ کہتی ہے کہ آپؐ اپنی بیٹیوں کے لئے ناراض نہیں ہوتے اور یہ دیکھیں علیؓ ہیں ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے لگے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے۔ (حضرت مسورؓ کہتے تھے:) اور اس وقت جبکہ آپؐ نے کلمہ شہادت پڑھا، میں نے آپؐ کو یہ فرماتے سنا: اما بعد، میں نے ابوالعاصؓ بن ربیع کو ایک بیٹی نکاح میں دی تو اس نے مجھ سے بات کی اور سچی کی اور فاطمہؓ میرا لخت جگر ہے اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کو کوئی تکلیف ہو۔ بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس اکٹھی نہیں رہیں گی۔ یہ سنتے ہی حضرت علیؓ نے اس منگنی کو چھوڑ دیا۔اور محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے علی بن حسین (زین العابدین) سے، علی نے حضرت مسورؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا: میں نے نبی ﷺ سے سنا اور آپؐ نے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا جو بنی عبدشمس سے تھا۔ آپؐ نے اس کی تعریف کی کہ جو دامادی کا تعلق اس نے آپؐ سے رکھا ہے وہ اچھا نبھایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس نے مجھ سے بات کی تو سچی کی اور جو وعدہ مجھ سے کیا تو وہ پورا کیا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ مخزومی عورت کے معاملے نے قریش کو فکر میں ڈالا ۔ وہ کہنے لگے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کون جرأت کرے گا سوائے اسامہ بن زیدؓ کے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارا ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہم سے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہ ابوعثمان نے ہمیں بتایا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بتایا کہ آپؐ انہیں اور حضرت حسنؓ کو لیتے اور فرماتے: اے اللہ! ان دونوں سے محبت کر کیونکہ میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں۔
خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن دینار نے مجھ سے بیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر حضرت اسامہ بن زیدؓ کو امیر مقرر کیا تو بعض لوگوں نے ان کی امارت پر طعنہ زنی کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر طعنہ زنی کرتے ہوتو تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی طعنہ زنی کیا کرتے تھے۔ اور اللہ کی قسم وہ امارت کے لائق تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت پیارے ہیں اور یہ بھی اس کے بعد ان لوگوں میں سے ہے جو مجھے بہت پیارے ہیں۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: ایک قیافہ شناس میرے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور اسامہ بن زیدؓ اور زید بن حارثہؓ دونوں لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے کہا کہ یہ قدم تو ایک سے ہیں۔ عروہ کہتے تھے: اس بات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور آپؐ کو اس کی یہ بات پسند آئی اور آپؐ نے حضرت عائشہؓ کو یہ بتایا۔
(تشریح)نیز علی(بن مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ)نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا:مخزومی عورت کے واقعہ کے متعلق زہری سے میں پوچھنے گیا تو انہوں نے مجھے ڈانٹا۔ (علی بن مدینی کہتے تھے:) میں نے سفیان سے پوچھا: کیا پھر آپ نے یہ حدیث کسی سے نہیں سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک کتاب میں اسے پایا جو ایوب بن موسیٰ نے لکھی تھی کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو لوگوں نے کہا: اس کے متعلق نبی ﷺ سے کون سفارش کرے گا؟ تو آپؐ سے بات کرنے کی کسی نے بھی جرأت نہ کی۔ آخر حضرت اُسامہ بن زیدؓ نے آپؐ سے بات کی تو آپؐ نے فرمایا: بنی اسرائیل بھی ایسے تھے کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب غریب چوری کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ اگر فاطمہؓ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کاٹوں گا۔
حسن بن محمد(زعفرانی) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعباد یحيٰ بن عباد (ضبعی بصری) نے ہمیں بتایا کہ ماجشون(عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن دینار نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا: حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ نے ایک دن جبکہ وہ مسجد میں تھے، ایک شخص کو دیکھا کہ وہ مسجد میں ایک طرف اپنےکپڑے گھسیٹتے ہوئے جارہا ہے۔ (عبداللہ بن دینار کہتے تھے:) حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے (مجھ سے) کہا: دیکھو تو یہ کون ہے؟ کاش یہ میرے پاس ہوتا تو ایک آدمی نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! آپ اس کو نہیں پہچانتے؟ یہ محمد بن اُسامہ ہیں۔ عبداللہ بن دینار کہتے تھے: یہ سن کر حضرت ابن عمرؓ نے اپنا سر جھکا لیا اور زمین پر اپنے ہاتھ سے ٹھکرانے لگے۔ پھر کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھتے تو اس سے محبت کرتے۔
اور نعیم نے ابن مبارک سے نقل کیا کہ معمر نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ کے آزاد کردہ غلام نے مجھے بتایا کہ حجاج بن ایمن بن امّ ایمن کو حضرت ابن عمرؓ نے دیکھا کہ اس نے اپنا رکوع پورا نہیں کیا اور نہ ہی اپنا سجدہ۔ یہ ایمن بن امّ ایمن حضرت اسامہ بن زیدؓ کا ماں کی طرف سے بھائی تھا اور یہ انصار میں سے ایک شخص تھا تو حضرت ابن عمرؓ نے اس سے کہا: دوبارہ پڑھو۔
ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا: اور سلیمان بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) عبدالرحمٰن بن نمر نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے کہ حرملہ نے جو حضرت اُسامہ بن زیدؓ کے آزاد کردہ غلام تھے، مجھ سے بیان کیا کہ اسی دوران کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ تھے، حجاج بن ایمن (مسجد میں) آئے ۔ انہوں نے اپنا رکوع اور سجدہ پورا نہ کیا تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: دوبارہ پڑھو۔ جب حجاج پیٹھ موڑ کر چلا تو حضرت ابن عمرؓ نے مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: حجاج بن ایمن بن امّ ایمن۔ تو حضرت ابن عمرؓ نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھتے تو اس سے محبت کرتے۔ پھر انہوں نے حضرت امّ ایمنؓ کی اولاد سے آپؐ کی محبت کا ذکر کیا۔ (ابوعبداللہ امام بخاری نے) کہا: اور میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان (بن عبدالرحمٰن) سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے یہی بیان کیا اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: اور امّ ایمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلائی بھی تھیں۔
(تشریح)محمد نے ہمیں بتایا کہ اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کی زندگی میں کوئی شخص جب خواب دیکھتا تو نبی ﷺ کے سامنے بیان کرتا تو میں نے بھی خواہش کی کہ کوئی خواب دیکھوں جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں اور میں اس وقت کنوارا لڑکا ہی تھا۔ اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد ہی میں سویا کرتا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا جیسے دو فرشتے ہیں۔ انہوں نے مجھے پکڑا اور مجھے آگ کی طرف لے گئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کی اندر سے ایسی بندش ہے جیسے کنوئیں کی بندش ہوتی ہے اور اس کی بھی دو منڈیریں ہیں جیسے کنوئیں کی۔ اور کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں کچھ لوگ ہیں۔ میں نے ان کو پہچان لیا۔ میں کہنے لگا: میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ تو ایک اور فرشتہ ان دونوں سے ملا اور مجھ سے کہنے لگا: بالکل ڈرو نہیں۔میں نے یہ خواب حضرت حفصہؓ سے بیان کیا۔