بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
خالد بن یزید کاہلی نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر (بن عیاش)نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحصین (عثمان بن عاصم) سے، ابوحصین نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آیت وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا میں شعوب سے مراد بڑے بڑے قبائل ہیں اور قبائل سے مراد ہیں گھرانے اور بڑے قبائل کی شاخیں۔
قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالواحد (بن زیاد)نے ہمیں بتایا کہ کُلیب بن وائل نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیبہ حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ نے مجھے بتایا، کہا: میں نے ان سے پوچھا: کیا آپؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سمجھتی ہیں کہ آپ مضر میں سے تھے؟ انہوں نے کہا: تو پھر اور کس سے تھے؟ آپؐ اس مضر قبیلے ہی سے تھے جو نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہے۔
اور لوگوں میں بدترین تم اس دو رُخے شخص کو پاؤ گے جو کبھی لوگوں کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہے اور کبھی ان کے پاس ایک اور منہ لے کر۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ مغیرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اس امر (یعنی حکومت) میں قریش کے ہی تابع ہیں۔ ان میں سے جو مسلمان ہے وہ ان میں سے مسلمان کے تابع ہے اور ان میں سے جو کافر ہے، وہ ان میں سے کافر کے تابع ہے۔
اورلوگ کانیں ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے، وہ ان میں سے اسلام میں بھی اچھے ہیں بشرطیکہ دین کو اچھی طرح سمجھیں۔ لوگوں میں سے سب سے بہتر اس امر کے لئے تم اس کو پاؤ گے جو لوگوں میں سے (حکومت اور سرداری کو) سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس میں آپڑے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے روایت کی۔ عبیداللہ نے کہا کہ سعید بن ابی سعید نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ان میں جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ لوگوں نے کہا: اس کے متعلق ہم آپؐ سے سوال نہیں کررہے۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر یوسفؑ جو اللہ کے نبی ہیں۔
موسیٰ (بن اسماعیل)نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ کُلَیب نے ہم سے بیان کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیبہ نے مجھے بتایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ زینبؓ ہی ہیں۔ وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے تونبے اور سبزلاکھی برتن اور کھدے ہوئے برتن اور رال کے روغن شدہ برتن سے منع فرمایا۔ (کُلَیب کہتے تھے:) میں نے ان سے کہا: آپؓ مجھے بتائیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس قبیلہ سے تھے؟ کیا آپؐ مضر میں سے تھے؟ انہوں نے کہا: تو پھر اور کس سے۔ مضر ہی سے تھے جو نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے روایت کی کہ عبدالملک (بن میسرہ)نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی (کی تفسیر) بیان کی تو سعید بن جبیر نے پوچھا: اس سے مراد محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے رشتہ دار ہی ہیں؟ انہوں نے کہا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے تھے کہ قریش میں سے کوئی بھی گھرانہ ایسا نہ تھا جس سے آپؐ کی کوئی رشتہ داری نہ ہو۔ اس وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی جس سے یہ مراد ہے کہ تم اس تعلق کا بھی خیال رکھو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔