بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان(بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے:حضرت ابوسعید خدریؓ نے ہم سے بیان کیا، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ جوق دَر جوق حملہ کے لئے نکلیں گے اور پوچھیں گے:کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہو؟ وہ ان سے کہیں گے: ہاں۔ تو پھر(اس کی برکت سے) ان کو فتح دی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ جو ق دَر جوق حملے کے لئے نکلیں گے اور پوچھا جائے گا: کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت میں رہا ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ تو ان کو (اس کی برکت سے) فتح دی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ جوق در جوق لوگ حملے کے لئے نکلیں گے اور پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو ایسے شخص کے ساتھ رہا ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت میں رہ چکا ہو تو کہیں گے: ہاں۔ تو ان کو فتح دی جائے گی۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: }اپنی امت میں سے{ اگر مَیں نے کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا تو مَیں ابوبکرؓ کو بناتا۔ مگر وہ میرے بھائی ہیں اور میرے رفیق ہیں۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ نضر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ابوجمرہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے زہدم بن مضرب سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کی صدیوں میں سے بہترین صدی میری ہے۔ پھر اُن لوگوں کی جو معاً اُن کے بعد ہوں گے۔ پھر اُن لوگوں کی جو معاً اُن کے بعد ہوں گے۔ حضرت عمرانؓ کہتے تھے: میں نہیں جانتا آپؐ نے اپنی صدی کے بعد دو صدیوں یا تین صدیوں کا ذکر کیا۔ (پھر فرمایا:) پھر تمہارے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو شہادت دیں گے، بحالیکہ شہادت کیلئے نہ بلائے جائیں گے۔ اور خیانت کریں گے اور انہیں امین نہ سمجھا جائے گا اور منتیں مانیں گے اور پوری نہیں کریں گے۔ اور (حرام مال کھا کھا کر) ان میں موٹاپا خوب ہو گا۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبیدہ (بن قیس سلمانی)سے،عبیدہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین لوگ میری صدی کے ہیں۔ پھر وہ جو معاً ان کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ جو معاً ان کے بعد ہوں گے۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے ایک کی شہادت اُس کی قسم سے پہلے ہوگی اور اُس کی قسم اُس کی شہادت سے پہلے ہوگی۔ ابراہیم نے کہا: ہمیں (ہمارے بزرگ) شہادت دینے اور عہد کرنے پر مارا کرتے تھے اور ہم ان دنوں چھوٹے تھے۔
(تشریح)عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براءؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عازبؓ سے ایک کجاوہ تیرہ درہم پر خریدا تو حضرت ابوبکرؓ نےحضرت عازبؓ سے کہا: (اپنے بیٹے) براءؓ سے کہو کہ وہ میرا کجاوہ میرے ساتھ اٹھا کرلے چلے۔ حضرت عازبؓ نے کہا: میں نہیں کہوں گا جب تک کہ آپؓ ہم سے وہ واقعہ نہ بیان کریں کہ آپ نے اور رسول اللہ ﷺ نے کیا کیا تھا جب آپ دونوں مکہ سے نکلے تھے اور مشرک آپ کی تلاش کررہے تھے۔ انہوں نے کہا: ہم نے مکہ سے کوچ کیا اور رات بھر اور دوسرے دن بھی چلتے رہے ۔ انہوں نے فَأَحْیَیْنَا لَیْلَتَنَا کہا یا سَرَیْنَا لَیْلَتَنَاکے الفاظ کہے ۔ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہوا ۔ میں نے اپنی نگاہ دوڑائی کہ آیا کہیں سایہ بھی نظر آتا ہے تا وہاں جاکر آرام کریں تو ایک چٹان دکھائی دی۔ میں وہاں گیا اور دیکھا کہ اس کا سایہ باقی ہے۔ میں نے وہ جگہ درست کی۔پھر نبی ﷺ کے لئے وہاں بستر بچھایا ۔ پھر میں نے آپؐ سے کہا: نبی اللہ! آپؐ لیٹ جائیں۔ چنانچہ نبی ﷺ لیٹ گئے۔ پھر میں چلا گیا تا آس پاس دیکھوں کیا پیچھا کرنے والوں میں سے کوئی نظر آتا ہے؟ تو میں نے کیا دیکھا کہ بکریوں کا ایک چرواہا ہے جو اپنی بکریاں ہانکے اسی چٹان کی طرف لے جارہا ہے۔ وہ بھی اس چٹان سے وہی چاہتا تھا جو ہم نے چاہا ۔ میں نے اس سے پوچھا: لڑکے تم کس کے ہو؟ اس نے کہا: قریش کے ایک شخص کا ہوں۔ اس نے اس کا نام لیا اور میں نے اس کو پہچان لیا۔ میں نے کہا: کیا تمہاری بکریوں میں کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا تم ہمارے لیے کچھ دودھ دوہو گے؟ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ میں نے اسے دودھ دوہنے کے لئے کہا۔ اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کی ٹانگ اپنی پنڈلی اور ران کے درمیان پکڑی۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ اس کا تھن غبار جھاڑ کر صاف کرلے۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ اپنی ہتھیلیوں کو بھی جھاڑ کر صاف کرلے۔ حضرت براءؓ نے اپنی ایک ہتھیلی دوسری پر مار کر بتایا کہ اس طرح۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو جھاڑا اور میرے لئے ایک پیالہ بھر دودھ دوہا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چھاگل رکھ لی تھی۔ اس کے منہ پر کپڑا بندھا ہواتھا تو میں نے اتنا پانی دودھ میں ڈ الا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا۔ میں اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور میں آپؐ کے پاس ایسے وقت میں پہنچا کہ آپؐ جاگ پڑے تھے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! پئیں۔ اور آپؐ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہوگیا۔ پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! کوچ کا وقت آپہنچا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اور ہم وہاں سے چل پڑے اور لوگ ہماری تلاش کر رہے تھے اور ان میں سے کسی نے بھی ہم کو نہ پایا سوائے سراقہ بن مالک بن جعشم کے جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ ڈھونڈنے والے ہم سے آملے۔ آپؐ نے فرمایا: فکر نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تُرِيْحُوْنَ (النحل:) بِالْعَشِيِّ تَسْرَحُوْنَ (النحل:) بِالْغَدَاةِ جب تم انہیں شام کو چراکر لاتے ہو۔ جب تم انہیں (صبح) چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہو۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعامر نے ہمیں بتایا۔ فُلَیح (بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سالم ابونضر نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے بسر بن سعید سے، بسر نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اللہ نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ دنیا کو پسند کرے یا اس نعمت کو پسند کرے جو اللہ کے پاس ہے تو اس بندے نے وہ نعمت پسند کی جو اللہ کے پاس ہے۔ (ابوسعیدؓ) کہتے تھے: یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ رو پڑے اور ہم نے ان کے رونے پر تعجب کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک ایسے بندے کا ذکر فرما رہے ہیں جس کو اختیار دیا گیا (اور حضرت ابوبکرؓ سن کر رو پڑے۔) درحقیقت اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہی تھے جنہیں اختیار دیا گیا اور حضرت ابوبکرؓ ہم (صحابہ) میں سے سب سے زیادہ (اس بات کا ) علم رکھنے والے تھے۔( اس لئے آپؓ رو پڑے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگوں سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے بلحاظ اپنی صحبت اوربلحاظ مال خرچ کرنے کے ابوبکرؓ ہیں اور اگر میں نے کسی کو اپنے ربّ کے سوا جانی دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکرؓ کو بناتا۔ البتہ اسلام کی اخوت اور اس کی محبت ان سے ہے۔ مسجد میں آنے کے لئے کسی کا دروازہ کھلا نہ رہے، سارے بند کردئیے جائیں مگر ابوبکرؓ کا دروازہ کھلا رہے گا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگوں میں سے ایک کو دوسرے سے بہتر قرار دیا کرتے تھے اور سمجھتے کہ حضرت ابوبکر سب سے بہتر ہیں پھر حضرت عمر بن خطاب، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم۔
مُعلّٰی بن اسد اور موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: وہیب نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں یہی بتایااور اس میں یہ الفاظ ہیں: اگر میں نے جانی دوست بنانا ہوتا تو میں اِس کو جانی دوست بناتالیکن اسلام کی برادری ہی افضل ہے۔ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں ایسا ہی بتایا ۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: کوفہ والوں نے (حضرت عبداللہ) بن زبیرؓ کو دادا (کی میراث) کے متعلق لکھا۔ انہوں نے جواب دیا: وہ شخص جس کے متعلق رسو ل اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اگر میں نے اس امت میں سے کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا تو مَیں اس کو بناتا، اُس شخص نے دادا کو بمنزلہ باپ قرار دیا ہے۔ اس سے مراد اُن کی حضرت ابوبکرؓ تھی۔