بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُحد پر چڑھے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ تھے تو وہ ہلنے لگا۔ آپؐ نے فرمایا: اُحد ٹھہر جا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپؐ نے اس پر اپنا پاؤں بھی مارا۔ کیونکہ تم پر اور کوئی نہیں، صرف ایک نبی اور ایک صدیق اور دوشہید ہیں۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے، حصین نے عمروبن میمون سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو اُن کے زخمی کئے جانے سے کچھ دن پہلے مدینہ میں دیکھا۔ وہ حضرت حذیفہ بن یمانؓ اور حضرت عثمانؓ بن حُنَیف کے پاس ٹھہرے۔ پوچھنے لگے: تم دونوں نے کیا کیا؟ کیا تم اس سے تو نہیں ڈرتے کہ کہیں اس زمین پرایسا لگان مقرر کیا گیا ہو جس کی وہ طاقت نہ رکھتی ہو۔ ان دونوں نے کہا: ہم نے ایسا ہی لگان مقرر کیا ہے جس کی طاقت زمین رکھتی ہے۔ اس میں چنداں زیادتی نہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: پھر غور کرلو کہ کہیں اس زمین پر ایسا لگان مقررکیا گیا ہو جس کی وہ طاقت نہ رکھتی ہو۔ {عمرو بن میمون کہتے تھے:} ان دونوں نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر اللہ نے مجھے سلامت رکھا تو میں ضرور اہل عراق کی بیواؤں کو بلاؤں گا تا کہ یہ میرے بعد کبھی کسی شخص کی محتاج نہ ہوں۔ عمرو بن میمون کہتے تھے: پھر حضرت عمر ؓ پر ابھی چوتھی رات نہیں آئی تھی کہ وہ زخمی کئے گئے۔ کہتے تھے کہ جس دن وہ زخمی کئے گئے اس دن میں ایسے مقام پر کھڑا تھا کہ میرے اور ان کے درمیان صرف حضرت عبداللہ بن عباسؓ ہی تھے اور ان کی عادت تھی کہ جب دوصفوں میں سے گذرتے تو فرماتے سیدھے ہوجاؤ۔ جب ان صفوں میں کوئی خلل نہ دیکھتے تو اس وقت آگے بڑھتے اور اللہ اکبر کہتے اور بسا اوقات سورۂ یوسف یا سورۂ نحل یا ایسی ہی سورتیں پہلی رکعت میں پڑھتے تا لوگ جمع ہو جائیں ۔ ابھی اللہ اکبرکہا ہی تھا کہ میں نے ان کو کہتے سنا: کتے نے مجھے مار ڈالا ہے یا کہا: کاٹ کھایا ہے۔ جب اس نے آپؓ کو زخمی کیا تو وہ پارسی دو دھاری چھری لئے ہوئے تھا جس کسی کے پاس دائیں بائیں گذرتا تو اُس کو زخمی کرتا یہا ں تک کہ اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کیا۔ ان میں سے سات وفات پاگئے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے جب یہ دیکھا تو اس نے بارانی کوٹ اس پر پھینکا۔ جب اس پارسی نے سمجھ لیا کہ وہ پکڑا گیا ہے تو اُس نے اپنا گلا کاٹ لیا۔ اور حضرت عمرؓ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا ہاتھ پکڑ کر اُن کو آگے کیا اور جو لوگ حضرت عمرؓ کے قریب تھے انہوں نے وہ ماجرا دیکھا جو میں نے دیکھا اور مسجد کے اطراف میں جو تھے تو وہ نہیں جانتے تھے سوا اس کے کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کی آواز نہ سنی اور وہ سبحان اللہ {سبحان اللہ} کہنےلگے تو حضرت عبدالرحمٰنؓ (بن عوف) نے ان کو ہلکی سی نماز پڑھائی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے کہا: ابن عباسؓ دیکھو مجھ کو کس نے مارا؟ حضرت ابن عباسؓ کچھ دیر تک ادھر گھومتے رہے پھر آئے اور انہوں نے بتایا کہ مغیرہ کے غلام نے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: وہی جو کاریگر ہے؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ اسے ہلاک کرے۔ میں نے اس کے متعلق نیک سلوک کرنے کا حکم دیا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے میری موت ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں کی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو۔ ابن عباسؓ! تم اور تمہارا باپ پسند کرتے تھے کہ یہ پارسی غلام مدینہ میں بہت آباد ہوں اورعباسؓ ہی سب سے زیادہ ان غلاموں کو رکھنے والے تھے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں ان کا کام تمام کردوں یعنی اگر آپ چاہیں تو میں ان کو مروا ڈالوں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم تو پھر غلطی کرو گے جبکہ وہ تمہاری زبان میں باتیں کرنے لگ گئے ہیں اور تمہارے قبلے کی طرف نمازیں پڑھتے ہیں اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں۔ پھر حضرت عمرؓ کو اٹھا کر ان کے گھر لے گئے۔ ہم بھی ان کے ساتھ چلے گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا مسلمانوں پر اس سے پہلے کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی۔ کوئی کہنے والا یوں کہتا: کچھ ڈر نہیں۔ اور کوئی کہنے والا کہتا: میں تو ان کے بارے میں ڈرتا ہوں (کہ وہ جانبرنہ ہو سکیں گے) آخر ان کے پاس نبیذ (یعنی انگوروں کا شربت) لایا گیا اور انہوں نے وہ پیا جو اُن کے پیٹ سے نکل گیا۔ پھر ان کے پاس دودھ لایا گیا۔ انہوں نے پیا، وہ بھی زخم سے نکل گیا تو وہ سمجھ گئے کہ وہ جانبر نہیں ہوں گے۔ (عمرو بن میمون کہتے تھے:) ہم انکے پاس گئے اور لوگ بھی آئے، ان کی تعریف کرنے لگے اور ایک نوجوان شخص آیا۔ اس نے کہا: امیرالمومنین! آپؓ کو اللہ کی بشارت ہو۔ آپؓ کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی اور اسلام میں وہ اعلیٰ درجہ ملا ہے جو آپؓ خوب جانتے ہیں۔ پھرآپؓ خلیفہ ہوئے اورآپ نے انصاف کیا۔ پھر یہ شہادت ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میری تو یہ آرزو ہے کہ یہ باتیں برابر ہی برابر رہیں۔ نہ میرا مؤاخذہ ہو اور نہ مجھے ثواب ملے۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا۔ دیکھا کہ اس کا تہبند زمین سے لگ رہا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس لڑکے کو میرے پاس واپس بھیج دو۔ فرمانے لگے: میرے بھائی کے بیٹے! اپنا کپڑا تو اٹھاؤ کیونکہ یہ تمہارے کپڑے کو بچائے رکھے گا اور تمہارے ربّ کے نزدیک تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ پھر عبداللہ بن عمرؓ کو کہنے لگے: دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے؟ انہوں نے حساب کیا تو اس کو چھیاسی ہزار درہم یا کچھ اتنا ہی پایا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر عمرؓ کے خاندان کی جائداد اس کو پورا کر دے تو پھر ان کی جائداد سے اس کو ادا کر دو، ورنہ بنو عدی بن کعب سے مانگنا۔ اگر ان کی جائیدادیں بھی پورا نہ کریں تو قریش سے مانگنا اور ان کے سوا کسی کے پاس نہ جانا۔ یہ قرض میری طرف سے ادا کر دینا۔ حضرت عائشہؓ امّ المومنین کے پاس جاؤ اور کہو: عمرؓ آپؓ کو سلام کہتے ہیں اور امیرالمومنین نہ کہنا کیونکہ آج میں مومنوں کا امیر نہیں ہوں۔ اور کہو: عمربن خطابؓ اس بات کی اجازت مانگتا ہے کہ اسے اسکے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے۔ چنانچہ حضرت عبداللہؓ نے سلام کہا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ پھر ان کے پاس اندر گئے تو انہیں دیکھا کہ بیٹھی ہوئی رو رہی ہیں۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: عمر بن خطابؓ آپ کو سلام کہتے ہیں اور اجازت مانگتے ہیں کہ انکے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ان کو دفن کیا جائے۔ حضرت عائشہؓ کہنے لگیں: میں اس جگہ کو اپنے لئے چاہتی تھی اور آج میں اپنی ذات پر انکو مقدم کروں گی۔ جب حضرت عبداللہؓ لوٹ کر آئے تو (حضرت عمرؓ سے) کہا گیا کہ یہ عبداللہ بن عمرؓ آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا: مجھے اٹھاؤ۔ تو ایک شخص نے آپ کو سہارا دے کر اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے پاس کیا خبر ہے؟ (عبداللہؓ نے) کہا: امیرالمومنینؓ! وہی جو آپ پسند کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے اجازت دے دی ہے۔ کہنے لگے: الحمدللہ، اس سے بڑھ کر اور کسی چیز کا مجھے فکر نہ تھا۔ جب میں مر جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا۔ پھر سلام کہنا اور یہ کہنا کہ عمر بن خطابؓ اجازت مانگتا ہے۔ اگر انہوں نے میرے لئے اجازت دی تو مجھے اندر (حجرے میں تدفین کیلئے) لے جانا۔ اور اگر انہوں نے میری بات نہ مانی تو پھر مجھے مسلمانوں کے مقبرے میں واپس لے جانا۔ اور امّ المومنین حضرت حفصہؓ آئیں اور دوسری عورتیں بھی ان کے ساتھ آئیں۔ جب ہم نے انکو دیکھا۔ ہم کھڑے ہوگئے تو وہ ان کے پاس اندر گئیں اور کچھ دیر اُن کے پاس روتی رہیں۔ کچھ مردوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو وہ مردوں کے آتے ہی اندر چلی گئیں اور ہم اندر سے ان کے رونے کی آواز سنتے رہے۔ لوگوں نے کہا: امیرالمومنینؓ! وصیت کر دیں۔ کسی کو خلیفہ مقرر کرجائیں۔ انہوں نے فرمایا: میں اس خلافت کا حقدار اُن چند لوگوں سے بڑھ کر اور کسی کو نہیں پاتا کہ رسول اللہ ؐ ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ آپؐ ان سے راضی تھے اور انہوں نے حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت سعدؓاور حضرت عبدالرحمٰن (بن عوفؓ) کا نام لیا اور کہا: عبداللہ بن عمرؓ تمہارے ساتھ شریک رہے گا اور اس خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ گویا یہ بات عبداللہ کو تسلی دینے کے لئے کہی ہے۔ اگر خلافت سعدؓ کو مل گئی۔ پھر وہی خلیفہ ہو ورنہ جو بھی تم میں سے امیر بنایا جائے وہ سعدؓ سے مدد لیتا رہے کیونکہ میں نے ان کو اس لئے معزول نہیں کیا کہ وہ کسی کام کے کرنے سے عاجز تھے اور نہ اس لئے کہ کوئی خیانت کی تھی۔ نیز فرمایا: میں اس خلیفہ کو جو میرے بعد ہوگا پہلے مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق ان کے لئے پہچانیں اور ان کی عزت کا خیال رکھیں اور میں انصار کے متعلق بھی عمدہ سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ انہوں نے مہاجرین سے پہلے اپنے گھروں میں ایمان کو جگہ دی۔ جو ان میں سے نیک کام کرنے والا ہو، اسے قبول کیا جائے اور جو ان میں سے قصور وار ہو اس سے درگذر کیا جائے۔ اور میں سارے شہروں کے باشندوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرنے کی اس کو وصیت کرتا ہوں۔ کیونکہ وہ اسلام کے پشت پناہ ہیں اور مال کے محصل ہیں اور دشمن کے کڑھنے کا موجب ہیں اور یہ کہ ان کی رضامندی سے ان سے وہی لیا جائے جو اُن کی ضرورتوں سے بچ جائے اور میں اس کو بدوی عربوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ عربوں کی جڑھ ہیں اور اسلام کا مادہ ہیں۔ یہ کہ ان کے ایسے مالوں سے لیا جائے جو ان کے کام کے نہ ہوں اور پھر انہی کے محتاجوں کو دے دیا جائے۔ اور میں اس کو اللہ کے ذمہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ جن لوگوں سے عہد کیا گیا ہو اُن کا عہد اُن کیلئے پورا کیا جائے اور ان کی حفاظت کیلئے ان سے مدافعت کی جائے اور ان سے بھی اتنا ہی لیا جائے جتنا ان کی طاقت ہو۔ جب آپؓ فوت ہوگئے ہم ان کو لے کر نکلے اور پیدل چلنے لگے تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے (حضرت عائشہؓ کو) السلام علیکم کہا اور کہا: عمربن خطابؓ اجازت مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ان کو اندر لے آؤ۔ چنانچہ ان کو اندر لے گئے اور وہاں ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھ دیئے گئے۔ جب ان کی تدفین سے فراغت ہوئی تو وہ آدمی جمع ہوئے (جن کا نام حضرت عمرؓ نے لیا تھا) حضرت عبدالرحمٰن (بن عوفؓ) نے کہا: اپنا معاملہ اپنے میں سے تین آدمیوں کے سپرد کر دو۔ حضرت زبیرؓ نے کہا: میں نے اپنا اختیار حضرت علیؓ کو دیا اور حضرت طلحہؓ نے کہا: میں نے اپنا اختیار حضرت عثمانؓ کو دیا اورحضرت سعدؓ نے کہا: میں نے اپنا اختیار حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو دیا۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ نے (حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ سے) کہا: آپ دونوں میں سے جو بھی اس امر سے دستبردار ہوگا ہم اسی کے حوالے اس معاملہ کو کر دیں گے اور اللہ اور اسلام اس کا نگران ہوگا۔ ان میں سے اسی کو تجویز کرے گا جو اس کے نزدیک افضل ہے۔ اس بات نے دونوں بزرگوں کو خاموش کر دیا۔ پھر حضرت عبدالرحمٰنؓ نے کہا: کیا آپ اس معاملہ کو میرے سپرد کرتے ہیں؟ اور اللہ میرا نگران ہے کہ جو آپ میں سے افضل ہے اس کو تجویز کرنے کے متعلق کوئی بھی کمی نہیں کروں گا۔ ان دونوں نے کہا: اچھا۔ پھر حضرت عبدالرحمٰنؓ ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ کر الگ لے گئے اور کہنے لگے: آپ کو رسول اللہ ﷺ سے رشتہ کا تعلق ہے اور اسلام میں بھی وہ مقام ہے جو آپ جانتے ہی ہیں۔ اللہ آپ کا نگران ہے۔ بتائیں، اگر میں آپ کو امیر بناؤں تو کیا آپ ضرور انصاف کریں گے؟ اور اگرمیں عثمان ؓ کو امیر بناؤں تو آپ ان کی بات سنیں گے اور ان کا حکم مانیں گے؟ پھر حضرت عبدالرحمٰنؓ دوسرے کوتنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی ویسے ہی کہا۔ جب انہوں نے پختہ عہد لے لیا تو کہنے لگے: عثمانؓ ! آپ اپنا ہاتھ اٹھائیں اور انہوں نے ان سے بیعت کی۔ اور حضرت علیؓ نے بھی ان سے بیعت کی اور گھر والے اندر آگئے اور انہوں نے بھی ان سے بیعت کی۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ فتح دے گا۔ سہل کہتے تھے: وہ لوگ ساری رات چہ میگوئیاں کرتے رہے کہ ان میں سے کس کو وہ جھنڈا دیا جائےگا؟جب لوگ صبح کو اٹھے تو سویرے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ ان میں سے ہر ایک امید رکھتا تھا کہ اس کو وہ جھنڈا دیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: علی بن ابی طالبؓ کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: یارسول اللہ! ان کی آنکھیں دُکھتی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ان کے پاس کسی کو بھجوا دو اورانہیں میرے پاس لے آؤ۔ جب وہ آئے تو آپؐ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب لگایا اور ان کے لئے دعا کی۔ وہ ایسے اچھے ہوگئے جیسے کہ ان کو کوئی بیماری نہ تھی اور آپؐ نے ان کو جھنڈا دیا۔ حضرت علیؓ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں کہ وہ ہماری طرح ہوجائیں؟ آپؐ نے فرمایا: آہستگی سے سنبھل کر ان کے اندر جاؤ۔ جب ان کے آنگن میں ڈیرے ڈال دو تو پھر ان کو اسلام کی طرف بلاؤ اور ان کو وہ باتیں بتاؤ جن میں اللہ کا حق ان پر واجب ہے کیونکہ اگر تیرے ذریعہ سے اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو بخدا تیرے لئے بہتر ہے کہ تجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔
قتیبہ(بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم(بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے، یزید نے سلمہ (بن اکوع) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جنگ خیبر میں حضرت علیؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہ گئے تھے اور ان کو آنکھوں کی تکلیف تھی۔ پھر انہوں نے سوچا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جاؤں، اچھی بات نہیں۔ تو حضرت علیؓ نکل پڑے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ جب اس رات کی شام ہوئی جس کی صبح کو اللہ نے فتح دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا یا فرمایا: وہ شخص جھنڈا لے گا جس سے اللہ اور اس کا رسولؐ محبت رکھتا ہے۔ یا فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتا ہے، اس کے ذریعہ اللہ فتح دے گا۔ تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ آرہے ہیں۔ ان (کے آنے) کی ہمیں امید نہ تھی۔ لوگوں نے کہا: حضرت علیؓ آگئے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو جھنڈا دیا اور اللہ نے ان کے ذریعہ سے فتح دی۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیزبن ابی حازم نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ایک شخص حضرت سہل بن سعدؓ کے پاس آیااور مدینہ کے امیر کا نام لے کر کہا: یہ فلاں شخص حضرت علیؓ کو منبر کے پاس بیٹھ کر بُرا بھلا کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت سہلؓ نے پوچھا: کیا (کہتا ہے؟) اس نے کہا: ان کو ابوتراب کہتا ہے۔ یہ سن کر حضرت سہلؓ ہنس پڑے ۔ کہنے لگے: بخدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ان کا یہ نام رکھا تھا اور حضرت علیؓ کو اس سے بڑھ کر اور کوئی نام پیارا نہ تھا۔ میں نے بات کا مزا اُٹھا کر حضرت سہلؓ سے پوچھا۔ میں نے کہا: ابوعباسؓ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام کیسے رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: حضرت علیؓ حضرت فاطمہؓ کے پاس گئے اور پھر باہر چلے آئے اور مسجد میں لیٹ رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ حضرت فاطمہؓ نے کہا: مسجد میں۔ وہاں سے نکل کر آپؐ ان کے پاس آئے اور دیکھا کہ ان کی چادر ان کی پیٹھ سے گر پڑی ہے اور مٹی ان کی پیٹھ کو لگی ہوئی ہے۔ تو آپؐ ان کی پیٹھ سے مٹی پونچھنے لگے اور یہ فرما رہے تھے: ابوتراب اُٹھ بیٹھو۔ ابوتراب اُٹھ بیٹھو۔
محمد بن رافع نے ہم سے بیان کیا کہ حسین (بن علی جعفی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زائدہ سے، زائدہ نے ابوحصین سے، ابوحصین نے سعد بن عبیدہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص حضرت (عبداللہ) ابن عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے حضرت عثمانؓ کے متعلق پوچھا۔تو انہوں نے ان کی خوبیاں بیان کیں۔ پھر کہا: شاید تجھے یہ بُری معلوم ہوتی ہوں۔ اس نے کہا: ہاں۔ تو حضرت عبداللہؓ نے کہا: اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے۔ پھر اس نے ان سے حضرت علیؓ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ان کی خوبیاں بیان کیں۔ کہا: حضرت علیؓ وہ انسان ہیں جن کا گھر نبی ﷺ کے گھروں کے عین وسط میں ہے۔ پھر کہنے لگے: شاید یہ بات بھی تجھے بُری لگتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: ا للہ تیری ناک خاک آلودہ کرے۔ چلے جاؤ۔ میرے برخلاف بھی جتنا تمہارا زور ہے، لگالو۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے حکم سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت علیؓ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام نے ان نشانوں کی تکلیف کا شکوہ کیا جو چکی پیسنے سے ان کے ہاتھوں میں پڑگئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو وہ آپؐ کے پاس چلی گئیں۔ مگر آپؐ کو نہ پایا اور حضرت عائشہؓ سے ملیں تو ان سے بیان کیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ کو بتایا کہ فاطمہؓ آئی تھیں۔ (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ میں اٹھنے لگا تو آپؐ نے فرمایا: تم دونوں اپنی جگہ رہو اور آپؐ ہمارے درمیان بیٹھ گئے اس طور سے کہ میں نے آپؐ کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی اور آپؐ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایسی بات نہ بتلاؤں جو اس بات سے بہتر ہو جو تم نے مانگی ہے؟ جب تم اپنے بستروں پر لیٹو تو چونتیس بار اللہ اکبر اور تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمد اللہ کہو تو یہ بات تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے عَبِیدہ سے، عبیدہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: تم فیصلہ کر لیا کرو جیسا کہ تم پہلے کیا کرتے تھے کیونکہ میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں تا وقتیکہ سب لوگ ایک جماعت بن جائیں یا میں بھی اپنے ساتھیوں کی طرح وفات پا جاؤں۔ ابن سیرین کے خیال میں حضرت علیؓ سے منسوب کی گئی اکثر روایتیں درست نہیں ہیں۔
(تشریح)احمد بن ابی بکر نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابراہیم بن دینار ابوعبداللہ جہنی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت ہی حدیثیں بیان کرتا ہے حالانکہ میں اپنا پیٹ بھرنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹا رہتاتھا۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جبکہ میں خمیری روٹی نہیں کھاتا تھا اور نہ دھاری دار چادر پہنتا تھا اور نہ فلاں مرد اور نہ فلاں عورت میری خدمت کرتے تھے۔ اور بھوک کےمارے میں اپنا پیٹ کنکریلی زمین سے لگائے رکھتا تھا اور کبھی کسی شخص سے سرسری آیت کا مفہوم پوچھ لیتا تھا جو مجھے یاد ہوتی تا وہ مجھے اپنے گھر لے جائے اور کھانا کھلائے۔ اور جعفر بن ابی طالبؓ مسکینوں کے لئے سب لوگوں میں سے زیادہ اچھے تھے۔ ہمیں اپنے ساتھ لے کر گھر کو لوٹتے اور جو بھی ان کے گھر میں ہوتا ہمیں کھلا دیتے یہاں تک کہ وہ کبھی ہمارے پاس وہ کپی جس میں کچھ نہ ہوتا باہر لے آتے۔ ہم اس کو پھاڑ دیتے اور جو اُس میں ہوتا اسے چاٹ لیتے۔