بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے جو اُمتیں تھیں ان میں ایسے لوگ تھے جو محدث (جن کو کثرت سے الہام و کشوف ہوں) ہوا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمرؓ ہیں۔ زکریا بن ابی زائدہ نے سعد سے، سعد نے {ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے}حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے جو بنی اسرائیل ہوئے ہیں ان میں ایسے آدمی ہوچکے ہیں جن سے اللہ کلام کیا کرتا تھا بغیراس کے کہ وہ نبی ہوتے۔ اگر میری امت میں بھی ان میں سے کوئی ایسا ہے تو وہ عمرؓ ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (سورۃ الحج آیت۵۳ کو) یوں پڑھا ہے:اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول ، نہ کوئی نبی اور نہ کوئی محدث بھیجا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا کہ عقیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کی۔ ان دونوں نے کہا: ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا۔ اتنے میں بھیڑئیے نے حملہ کیا اور ان میں سے ایک بکری لے گیا۔ وہ اس کے پیچھے لگا اور اس بکری کو چھڑا لیا۔ وہ بھیڑیا اس کی طرف مڑا اور اس سے کہنے لگا: درندوں کے زمانے میں اس کا کون تھا جبکہ ہمارے سوا اس کا کوئی چرواہا نہ تھا۔ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ بھی۔ اور اس وقت حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓ وہاں نہ تھے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میں سویا ہوا تھا ۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ میرے سامنے پیش کئے گئے ہیں ا ور انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی ہیں تو اُن میں سے بعض کی قمیصیں چھاتیوں تک ہی پہنچتی ہیں۔ اور ان میں سے بعض اس کے نیچے تک۔ اور عمرؓ بھی میرے سامنے پیش کئے گئے انہوں نے قمیص پہنی ہوئی تھی جس کو وہ گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: آپؐ نے اس سے کیا مراد لی ہے؟ فرمایا: دین۔
صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے مجھے بتایا کہ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت مسوَر بن مخرمہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب حضرت عمرؓ کو زخمی کیا گیا، درد سے بیقرار ہونے لگے۔ حضرت ابن عباسؓ نے ان سے کہا جیسے کہ وہ ان کی بے قراری کو دور کرنے لگے ہیں۔ امیر المؤمنین! اگر آپ کو یہ تکلیف ہے تو آپ رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہ چکے ہیں اور آپ نے نہایت عمدگی سے آپؐ کا ساتھ دیا۔ پھر آپ ان سے ایسی حالت میں جدا ہوئے کہ آنحضرتﷺ آپؓ سے خوش تھے۔ پھر آپؓ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ رہے اور نہایت عمدگی سے ان کا ساتھ دیا۔ پھر آپ ان سے ایسی حالت میں جدا ہوئے کہ وہ آپ سے خوش تھے۔ پھر آپ ان کے صحابہ کے ساتھ رہے اور آپ نے نہایت عمدگی سے ان کا ساتھ دیااور اگر آپ ان سے جدا ہوگئے تو یقینا آپ ایسی حالت میں ان سے جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے خوش ہوں ۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ جو تم نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور آپؐ کی خوشنودی کا ذکر کیا ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۔اور جو تم نے حضرت ابوبکرؓ کی صحبت اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا ہے تو یہ بھی محض اللہ جل ذکرہٗ کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا اور یہ جو تم میری گھبراہٹ دیکھ رہے ہو تو یہ تمہاری خاطر اور تمہارے ساتھیوں کی خاطر ہے۔ اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا بھی ہو تو میں ضرور اللہ عزو جل کے عذاب سے فدیہ دے کر چھڑا لوں پیشتر اس کے کہ میں وہ عذاب دیکھوں۔ حماد بن زید نے کہا: ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس گیا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔
یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عثمان بن غیاث نے مجھے بتایا کہ ابوعثمان نہدی نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کیلئے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: اس کیلئے دروازہ کھولو اور اس کو جنت کی بشارت دو۔ میں نے اس کے لئے دروازہ کھولا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ابوبکرؓ ہیں۔ میں نے ان کو اس بات کی بشارت دی جو نبی ﷺ نے فرمائی تھی۔ انہوں نے الحمد للہ کہا۔ پھر ایک شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کیلئے کہا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:اس کے لئے دروازہ کھولو اور اس کو جنت کی بشارت دو۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھتا ہوں کہ حضرت عمرؓ ہیں۔ میں نے ان کو وہ بات بتائی جو نبی ﷺ نے فرمائی ۔ انہوں نے الحمد للہ کہا۔ پھر ایک شخص نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے لئے دروازہ کھولو اور اس کو بھی جنت کی بشارت دو، باوجود ایک مصیبت کے جو اُسے پہنچے گی۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت عثمانؓ ہیں۔ میں نے ان کو وہ بات بتائی جو نبی ﷺ نے فرمائی۔ انہوں نے بھی الحمدللہ کہا۔ پھر کہا: مصیبت سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ ہی سے مدد طلب کی جا سکتی ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیاکہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں اس باغ کے دروازے پر پہرہ دوں۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اندر آنے کی اجازت مانگنے لگا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو اجازت دو اور اس کو جنت کی بشارت دو۔ تو کیا دیکھا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ ہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا۔ اجازت مانگنے لگا تو آپؐ نے فرمایا: اسے اجازت دو اور اس کو جنت کی بشارت دو۔ تو کیا دیکھا کہ حضرت عمرؓ ہیں۔ پھر ایک اور آیا، اجازت مانگنے لگا۔ آپؐ تھوڑی دیر خاموش رہے۔ پھر فرمایا: اسے اجازت دو اور اس کو جنت کی بشارت دو، باوجود ایک بڑی مصیبت کے جو عنقریب اس کو پہنچے گی۔ تو کیا دیکھا کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ ہیں۔ حماد نے کہا: اور عاصم احول اور علی بن حکم دونوں نے ہم سے بیان کیا۔ دونوں نے ابوعثمان سے سنا۔ وہ بھی حضرت ابوموسیٰ ؓسے اس طرح روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے۔ وَزَادَ فِيْهِ عَاصِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَاعِدًا فِي مَكَانٍ فِيْهِ مَاءٌ قَدْ كَشَفَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ أَوْ رُكْبَتِهِ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهَا. اور عاصم نے اس میں اتنا بڑھایا کہ نبی ﷺ ایسی جگہ بیٹھے تھے جہاں پانی تھا۔ اپنے گھٹنے، یا کہا: اپنا گھٹنا کھولے ہوئے تھے ۔ جب حضرت عثمانؓ اندر آئے تو آپؐ نے اس (گھٹنے) کو ڈھانپ دیا۔
احمد بن شبیب بن سعید نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے۔ عروہ نے مجھ کو خبردی۔ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے ان کو بتایا کہ حضرت مسور بن مخرمہؓ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث دونوں نے مجھے کہا کہ تمہیں کیا بات روک ہے کہ حضرت عثمان ؓ سے ان کے بھائی ولید سے متعلق گفتگو کرو کیونکہ لوگوں نے اس کے متعلق بہت کچھ چہ مگوئیاں کی ہیں۔ تو میں حضرت عثمانؓ کے پاس گیا۔ وہ نماز کے لئے باہر آئے۔ میں نے کہا: آپ سے مجھے ایک کام ہے اور وہ آپ کی خیر خواہی ہی ہے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: بھلے آدمی۔ تم سے… معمر نے کہا: میں سمجھتا ہوں، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے چل دیا اور ان لوگوں کے پاس واپس آیا۔ اتنے میں حضرت عثمانؓ کا پیغامبر آیا اور میں ان کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا: تمہاری کیا خیر خواہی ہے؟ میں نے کہا: اللہ سبحانہ نے محمد ﷺ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپؐ پر کتاب نازل کی اور آپؓ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دعوت قبول کی اور آپؓ نے دو ہجرتیں بھی کیں اور رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا اور آپؓ نے حضورؐ کی روش دیکھی اور ولید کے متعلق لوگ بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا؟ میں نے کہا: نہیں۔ لیکن آپؐ کے علم سے وہ باتیں مجھے پہنچی ہیں جو ایک کنواری عورت کو بھی اس کے پردے میں پہنچتی ہیں۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: اما بعد ۔ اللہ نے یقینا محمد ﷺ کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت قبول کی اور میں ان تمام باتوں پر ایمان لایا جن کے ساتھ آپؐ مبعوث کئے گئے اور میں نے دو ہجرتیں بھی کیں جیسا کہ تم نے کہا۔ اور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ر ہا اور آپؐ کی بیعت کی اور اللہ کی قسم! میں نے آپؐ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ آپؐ سے کوئی دغا کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپؐ کو وفات دی ۔ پھر حضرت ابوبکرؓ بھی میرے لئے ویسے ہی مطاع رہے اور حضرت عمرؓ بھی ویسے مطاع رہے۔ پھر مجھے خلیفہ بنایا گیا تو کیا میرا بھی وہی حق نہیں جو ان کا ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر یہ کیا باتیں ہیں جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچتی رہتی ہیں؟اور یہ جو ولید کے معاملہ سے متعلق تم نے ذکر کیا ہے تو ہم انشاء اللہ اس کو واجبی سزا دیں گے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے حضرت علیؓ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ اس کو کوڑے لگائیں اور انہوں نے اس کو اَسّی کوڑے لگائے۔
محمد بن حاتم بن بزیع نے مجھ سے بیان کیا کہ شاذان نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے۔ کسی کو بھی حضرت ابوبکرؓ کے برابر نہیں سمجھا کرتے تھے۔ پھر حضرت عمرؓ کے برابر پھر حضرت عثمان ؓ کے برابر ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے تھے۔ ان میں سے کسی کو ایک دوسرے سے افضل نہیں سمجھتے تھے۔ شاذان کی طرح عبد اللہ بن صالح نے بھی اس حدیث کو عبد العزیز سے روایت کیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا کہ عثمان نے ہم سے بیان کیا، وہی عثمان جو موہب کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے کہا: مصر والوں میں سے ایک شخص آیا اور اس نے بیت اللہ کا حج کیا اور کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ قریش ہیں۔ اس نے ان سے پوچھا: ان میں یہ بوڑھا شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہیں۔ اس نے کہا: ابن عمرؓ میں آپ سے ایک بات کے متعلق پوچھتا ہوں۔ آپ مجھے بتلائیں: کیا آپ کو علم ہے کہ حضرت عثمانؓ اُحد کے دن بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ جنگ بدر سے غیر حاضر رہے اور اس میں شریک نہ ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا:کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت رضوان سے بھی غیر حاضر تھے اور اس میں شریک نہیں ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو اس شخص نے اللہ اکبر کہا۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: ادھر آؤ، میں تم سے حقیقت بیان کرتا ہوں۔ جنگ اُحد کے دن جو اُن کا بھاگ جانا ہے تو میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ اللہ نے ان کو معاف کر دیا ہے اور ان پر پردہ پوشی فرمائی۔ اور بدر سے جو اُن کا غائب رہنا ہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ان کے نکاح میں تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تمہیں بھی ان آدمیوں میں سے ایک شخص کا ثواب اورحصہ ملے گا جو بدر میں شریک ہوں۔ اور بیعت رضوان سے جو اُن کا غیرحاضر رہنا ہے تو اگر کوئی وادئ مکہ میں حضرت عثمانؓ سے بڑھ کر معزز ہوتا تو آپ ان کی جگہ اُس کو وہاں بھیجتے۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ ہی کو بھیجا اور بیعت رضوان اس وقت ہوئی جب حضرت عثمانؓ مکہ کو چلے گئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کے بارہ میں فرمایا: یہ عثمانؓ کا ہاتھ ہے۔ اور اس کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: یہ عثمانؓ کا ہاتھ ہے۔ پھر حضرت ابن عمرؓ نے اس سے کہا: اب یہ تین باتیں اپنے ساتھ لے جاؤ۔