بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز نے ہمیں بتایا، وہی جو ابوسلمہ کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے،انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا:ہر ایک نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر بن عوامؓ ہے۔
محمد بن ابی بکر مقدمی نے مجھ سے بیان کیاکہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوعثمان (نہدی) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ان جنگوں میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑیں، بعض میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی باقی نہ رہا تھا مگر حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعدؓ (بن ابی وقاص)۔ انہوں نے یہ بات ان دونوں سے سن کر نقل کی۔
محمد بن ابی بکر مقدمی نے مجھ سے بیان کیاکہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوعثمان (نہدی) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ان جنگوں میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑیں، بعض میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی باقی نہ رہا تھا مگر حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعدؓ (بن ابی وقاص)۔ انہوں نے یہ بات ان دونوں سے سن کر نقل کی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (بن عبداللہ واسطی) نے ہمیں بتایا۔ (اسماعیل) بن ابی خالد نے ہم سے بیان کیا کہ قیس بن ابی حازم سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت طلحہؓ کا وہ ہاتھ دیکھا جس سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا تھا۔ وہ بالکل شل ہوچکا تھا۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا۔ عبدالوھاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے یحيٰ سے سنا۔ یحيٰ نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا۔ سعید نے کہا: میں نے حضرت سعدؓ (بن ابی وقاص) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جنگ اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے ماں باپ دونوں کا نام لے کر فرمایا: وہ تجھ پر قربان۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن ہاشم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو ایسے زمانے میں بھی دیکھا جبکہ میں تین مرد مسلمانوں میں سے تیسرا تھا۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: جنگ احزاب کے دن مجھے اور عمر بن ابی سلمہؓ کو عورتوں میں مقرر کیا گیا ۔ میں نے جو نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت زبیرؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہیں ۔ بنی قریظہ کی طرف دو دفعہ یا تین دفعہ جاتے ہوئے دیکھا۔ جب میں لوٹ کر آیا ۔ میں نے کہا: ابا میں نے آپ کو اِدھر اُدھر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا: بیٹا! کیا تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: بنوقریظہ کے پاس کون جائے گا اور ان کی خبر لے کر میرے پاس آئے گا؟ یہ سن کر میں چلا گیا ۔ جب میں لوٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے ماں باپ دونوں کا اکٹھا نام لیا۔ یعنی فرمایا: میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔
علی بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ ابن مبارک نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبردی کہ یرموک کی جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے حضرت زبیرؓ سے کہا: کیا آپ دھاوا نہیں بولیں گے تا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ دھاوا بولیں؟ یہ سن کر حضرت زبیرؓ نےدشمن پر حملہ کر دیا۔ کافروں نے ان کے مونڈھے پر دو ضربیں لگائیں۔ ان دونوں کے درمیان ایک اور ضرب تھی جو انہیں بدر کی لڑائی میں لگی تھی۔ عروہ کہتے تھے: میں اپنی انگلیاں ان زخموں میں ڈال کر کھیلا کرتا تھا اور میں اس وقت چھوٹا تھا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی زائدہ نے ہمیں بتایا۔ ہاشم بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعدؓ بن ابی وقاص سے سنا۔ وہ کہتے تھے: کسی نے بھی اسلام قبول نہیں کیا مگر اس دن جس دن کہ میں نے اسلام قبول کیا اور میں سات دن تک ٹھہرا رہا اور حالت یہ تھی کہ میں مسلمانوں کا ایک تہائی تھا۔ ابن ابی زائدہ کی طرح ابو اُسامہ نے بھی یہ بات روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) ہاشم نے ہم سے بیان کیا۔
عمروبن عون نے ہمیں بتایا کہ خالد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: عربوں میں سے میں پہلا ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کے لئے نکلتے اورحالت یہ تھی کہ ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی مگر درختوں کے پتے ہی۔ ہمارا یہ حال تھا کہ ہم میں سے ایک اس طرح مینگنیاں کرتا جیسے اونٹ لید کرتا ہے یا بکریاں مینگنیاں کرتیں یعنی خشک، ان میں نرمی بالکل نہ ہوتی۔ پھر اب یہ حال ہے کہ بنواسد (ابن خزیمہ) مجھ کو آداب اسلام سکھاتے ہیں۔ تب تو میں بالکل نامراد رہا اور میرا عمل ضائع گیا۔ اور (بنواسد کے) لوگوں نے حضرت عمرؓ کے پاس چغلی کھائی تھی، کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتا۔