بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اُنہوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم سے بھی آلودہ نہیں کیا۔ تو نبی ﷺ کے صحابہ پر یہ بات بہت گراں گزری اور وہ کہنے لگے: ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے ایمان کو کسی ظلم سے آلودہ نہیں کیا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس سے یہ مراد نہیں ہے۔ کیا تم نے لقمانؑ کا قول نہیں سنا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ (سعید بن ایاس) جریری نے ہم سے بیان کیا۔ اور قیس بن حفص نے مجھے بتایا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ سعید جریری نے ہمیں خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالرحمٰن نے اپنے باپ (حضرت نفیع بن حارث) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: بڑے سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی شہادت دینا اور جھوٹی شہادت دینا۔ تین بار اس کو دہرایا یا فرمایا: جھوٹی بات (کہنا)۔ آپؐ اس بات کو اتنی بار دہراتے رہے کہ ہم نے کہا: کاش آپؐ خاموش ہوجائیں۔
محمد بن حسین بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ شیبان (نحوی) نے ہمیں خبر دی۔ شیبان نے فراس (بن یحيٰ) سے، فراس نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! سب سے بڑے گناہ کیا ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا۔ اُس نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: پھر والدین کی نافرمانی کرنا۔ اس نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: عمداً جھوٹی قسم کھانا۔ (حضرت عبداللہ بن عمروؓ کہتے تھے) میں نے کہا: یمینِ غموس کیا ہوتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ قسم جس کے ذریعہ سے کسی مسلمان آدمی کا مال ہتھیا لے جبکہ وہ اس قسم میں جھوٹا ہو۔
خلّاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے منصور اور اعمش سے، اُن دونوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم سے اُن اعمال کا بھی مؤاخذہ ہوگا جو ہم نے زمانہ جاہلیت میں کئے؟ آپؐ نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھے کام کئے تو اُس سے اُن کاموں کا مؤاخذہ نہیں ہوگا جو اُس نے جاہلیت میں کئے اور جس نے اسلام میں بھی بُرے کام کئے اُس سے پہلے اور پچھلے اعمال کا بھی مؤاخذہ کیا جائے گا۔
(تشریح)ابو نعمان محمد بن فضل (سدوسی) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس زندیق لائے گئے تو اُنہوں نے اُن کو جلا دیا تو یہ خبر حضرت ابن عباسؓ کو پہنچی۔ اُنہوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو اُن کو کبھی نہ جلواتا کیونکہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ اللہ کی سزا جیسی کسی کو سزا نہ دو اور میں اُن کو مروا ڈالتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے دین کو تبدیل کردے اس کو مار ڈالو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قرہ بن خالد سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: حمید بن ہلال نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوبردہ نے ہمیں بتایا۔ ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میرے ساتھ اشعری قبیلے کے دو شخص تھے۔ ان میں سے ایک میرے دائیں تھا اور دوسرا میرے بائیں۔ اور رسول اللہ ﷺ اُس وقت مسواک کر رہے تھے۔ اُن دونوں نے کسی عہدہ کی درخواست کی۔ تو آپؐ نے فرمایا: ابوموسیٰؓ یا فرمایا: عبداللہ بن قیسؓ! کہتے تھے میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا، مجھے اِن دونوں نے اِس بات سے آگاہ نہیں کیا جو اِن کے دلوں میں تھی اور مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ دونوں کوئی عہدہ چاہتے ہیں۔ (مجھے تو یہ واقعہ ایسا ہی یاد ہے) کہ میں اب بھی آپؐ کی مسواک دیکھ رہا ہوں جو آپؐ کے ہونٹوں کے نیچے اٹھی ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ہرگز نہیں یا فرمایا: ہم اپنے کام پر اُسے نہیں مقرر کرتے جو اس کی خواہش رکھتا ہو۔ لیکن ابوموسیٰؓ یا فرمایا: عبداللہ بن قیسؓ! تم یمن جاؤ۔ پھر حضرت معاذ بن جبلؓ اُن کے پیچھے گئے۔ جب حضرت معاذؓ حضرت ابوموسیٰؓ کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے اُن کے لئے گدا بچھایا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: نیچے اُتریں۔ اور وہ کیا دیکھتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک شخص ہے جس کی مشکیں کسی ہوئی ہیں۔ حضرت معاذؓ نے کہا: یہ کون ہے؟ اُنہوں نے کہا: یہ پہلے یہودی تھا پھر مسلمان ہوا پھر اس کے بعد یہودی ہوگیا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: بیٹھ جائیں۔ حضرت معاذؓ نے کہا: میں نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ اس کو قتل کیا جائے۔ یہی اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے۔ اُنہوں نے تین بار یہی کہا۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰؓ نے اس کے متعلق حکم دیا اور وہ مار ڈالا گیا۔ پھر وہ دونوں رات کی عبادت کا آپس میں ذکر کرنے لگے تو اُن میں سے ایک نے کہا: میں تو رات کو اٹھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں اور اپنے سونے میں اسی ثواب کی امید رکھتا ہوں جو اپنے اٹھنے میں رکھتا ہوں۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ جب نبی ﷺ وفات پا گئے اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے اور عربوں میں سے جنہوں نے کافر ہونا تھا کافر ہوگئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اے ابوبکرؓ! آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کا اُس وقت تک مقابلہ کرتا رہوں جب تک کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کا اقرار نہ کریں اور جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا الله کا اقرار کیا، اُس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو بچا لیا سوائے اِس کے کہ کسی حق کے بدلے میں اُن کو لیا جائے اور اُس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تو اُن لوگوں کا ضرور مقابلہ کروں گا جنہوں نے نماز اور زکوٰة کے درمیان فرق کیا کیونکہ زکوٰة وہ حق ہے جو مال سے لیا جاتا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اُنہوں نے مجھے ایک بکری کا بچہ بھی نہیں دیا جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے تو اُس کے نہ دینے پر بھی میں اُن سے لڑوں گا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! بات صرف یہی تھی کہ میں نے دیکھا کہ اللہ نے لڑائی کے لئے حضرت ابوبکرؓ کے سینے کو کھول دیا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہی بات درست ہے۔
(تشریح)محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہشام بن زید بن انس بن مالک سے روایت کی۔ ہشام نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور اُس نے کہا: السَّامُ عَلَيْكَ۔ (تم پر ہلاکت ہو) رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: وَ عَلَيْكَ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا ہے: السَّامُ عَلَيْكَ۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اِس کو مار نہ ڈالیں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ جب اہلِ کتاب تمہیں سلام کریں تو تم یہی کہو: وَ عَلَيْكُمْ۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن عیینہ سے، ابن عیینہ نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ (وہ آئے) تو کہنے لگے: السَّامُ عَلَيْكَ۔ (آپ پر موت آئے) میں نے کہا: بلکہ تم پر موت اور لعنت ہو۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ! اللہ تو بہت نرمی کرتا ہے اور ہر بات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: کیا آپؐ نے نہیں سنا جو انہوں نے کہا؟ آپؐ نے فرمایا: میں نے بھی ان کو وَعَلَيْكُمْ کہا ہے۔