بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل (بن یونس) سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براءؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب آیت لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ نازل ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں کو بلاؤ۔ وہ آپؐ کے پاس آیا۔ اس کے ساتھ دوات اور تختی یا شانے کی ہڈی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ لکھو: لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ…یعنی مومنوں میں سے بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں (ہو سکتے)۔ اور اس وقت نبی ﷺ کے پیچھے حضرت ابن ام مکتومؓ بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں معذور ہوں تو اس کی جگہ یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی مومنوں میں سے ایسے بیٹھ رہنے والے جو ضرر رسیدہ نہیں ہیں اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں (ہو سکتے)۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے آیت اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ پڑھ کر کہا: میری ماں بھی ان لوگوں میں سے تھی جن کو اللہ نے معذور قراردیا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: اعمش نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کسی کو نہ چاہیے کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متٰی سے افضل ہوں۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ان کو بتایا کہ ابن جریج نے ان کو خبر دی۔اور اسحاق (بن منصور) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں خبردی۔ (انہوں نے کہا) عبدالکریم (جزری) نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن حارث کے غلام مقسم نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے ان کو بتایا: مومنوں میں سے بیٹھ رہنے والے برابر نہیں (ہو سکتے) سے وہ لوگ مراد ہیں جو غزوہ بدر سے رہ گئے تھے اور وہ جو بدر کے لئے نکلے تھے۔
(تشریح)عبداللہ بن یزید مقرئ نے ہم سے بیان کیاکہ حیوہ (بن شریح) اور ان کے علاوہ ایک اور شخص نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے کہا: محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود (اسدی)نے ہم سے بیان کیا، کہا: مدینہ والوں کے متعلق بھی (اہل شام کے مقابل) ایک فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فوج میں میرا نام بھی لکھا گیا۔ میں حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام عکرمہ سے ملا اور میں نے ان کو بتایا۔ انہوں نے مجھے سختی سے روکا کہ اس میں شامل نہ ہوں۔ پھر انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس نے مجھے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکوں کے ساتھ ہوجاتے تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف مشرکوں کی تعداد بڑھاتے تھے۔ لڑائی میں تیر جو مارا جاتا وہ آتا اور ان میں سے کسی کو لگتا اور اس کو مارڈالتا یا تلوار ماری جاتی اور وہ اس سے قتل ہوجاتا۔ اس لئے اللہ نے یہ آیت نازل کی: ملائکہ نے جن کو ایسی حالت میں وفات دی کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے…۔ لیث نے یہ بات ابوالاسود سے روایت کی۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے کہ آپؐ نے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا۔ پھر سجدہ کرنے سے پہلے یوں دعا کی: اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! مومنوں میں سے جو کمزور سمجھے جاتے ہیں ان کو نجات دے۔ اے اللہ ! مضر کو سختی سے لتاڑ۔ اے اللہ! ان کے سالوں کو ویسے ہی کردے جیسے یوسف کے سال۔
(تشریح)ابوالحسن محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ حجاج (بن محمد اعور) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ مجھے یعلیٰ نے بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍاَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى سے متعلق روایت کی۔ انہوں نے کہا: یہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ تھے، جو زخمی تھے۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ ابواسامہ (حماد بن اسامہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ یہ جو آیت ہے: اور لوگ تجھ سے (ایک سے زیادہ) عورتوں(سے نکاح) کے متعلق (احکام) دریافت کرتے ہیں۔ تُو(ان سے) کہہ کہ اللہ تمہیں ان کے متعلق اجازت دے چکا ہے اور جو(حکماس) کتاب میں (دوسری جگہ) تمہیں پڑھ کر سنایا گیا ہے وہ اُن یتیم عورتوں کے متعلق ہے جنہیں تم ان کے مقرر کردہ حق ادا نہیں کرتے مگر ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس یتیم لڑکی ہو، وہ اس کا سرپرست بھی ہو اور اس کا وارث بھی ہو۔ یعنی وہ اس کی جائیداد میں اس کی شریک ہو۔ یہاں تک کہ کھجور کے ایک درخت میں بھی (وہ اس کی شریک ہو) اس وجہ سے وہ اس سے نکاح کرنے کی خواہش رکھتا ہو اور ناپسندکرتا ہو کہ وہ اس کو کسی دوسرے شخص سے بیاہ دے۔ مبادا وہ شخص اس کی جائیداد میں شریک ہوجائے۔ کیونکہ وہ اس کی شریک تھی اور اس خیال سے وہ اس کو نکاح کرنے سے روک رکھے تو یہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ…یعنی اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سے نفرت یا رُوگردانی کا خوف کرے۔ فرماتی تھیں: کسی شخص کے پاس کوئی عورت ہو جس سے وہ بہت میل جول نہ رکھتا ہو، چاہتا ہو کہ اس کو چھوڑ دے اور وہ عورت کہے کہ میں تم کو اپنے حق سے آزاد کرتی ہوں تو یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی۔
(تشریح)عمر بن حفص نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ (حفص بن غیاث) نے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم(نخعی) نے مجھے بتایا کہ اسود (بن یزید) سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کی مجلس میں تھے کہ اتنے میں حضرت حذیفہؓ (بن یمان) ہمارے پاس آکر کھڑے ہوئے اور ہمیں السلام علیکم کہا۔ پھر کہنے لگے: نفاق کا وبال تو ایسے لوگوں پر بھی پڑا جو تم سے بہتر تھے ۔ اسود نے کہا: سبحان اللہ۔ اللہ تو فرماتا ہے کہ منافق آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) مسکرائے، اور حضرت حذیفہؓمسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ حضرت عبداللہؓ کھڑے ہوگئے اور ان کے ساتھی اِدھر اُدھر چلے گئے۔ حضرت حذیفہؓ نے میری طرف کنکری پھینک کر مجھے بلایا۔ میں ان کے پاس آیا۔ حضرت حذیفہؓ کہنے لگے: مجھے ان کی ہنسی سے تعجب ہوا حالانکہ وہ خوب سمجھ گئے (انہیں) جو میں نے کہا ہے کہ نفاق کا وبال تو ایسے لوگوں پر بھی پڑا جو تم سے بہتر تھے۔ پھر انہوں نے توبہ کی اور اللہ نے بھی رحم کیا۔
(تشریح)