بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد (بن عبدالوارث) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) حرب (بن شداد) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن ابی کثیر) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوسلمہ سے پوچھا: قرآن میں سے کونسی سورة پہلے نازل کی گئی۔ انہوں نے کہا: يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔ میں نے کہا: مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ وہ سورة اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ہے۔ تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے پوچھا تھا کہ قرآن میں کونسی سورۃ پہلے نازل کی گئی تو انہوں نے کہا: يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔ (ان سے بھی) میں نے کہا کہ مجھے یہ کہا گیا ہے کہ وہ سورة اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ہے۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں وہی بات بتاتا ہوں جو رسول اللہﷺ نے بتائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حراء میں گوشۂ نشین تھا۔ جب میں اعتکاف پورا کرچکا، میں نیچے اُترا اَور وادی کے نشیب میں پہنچا تو مجھے بلایا گیا۔ میں نے اپنے آگے اور اپنے پیچھے اور اپنے دائیں اور بائیں نگاہ کی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ (فرشتہ) آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں خدیجہؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا: مجھے کپڑا اُوڑھا دو اور ٹھنڈا پانی مجھ پر ڈالو۔ اور مجھ پر یہ وحی نازل کی گئی: اے کپڑا اوڑھنے والے، اُٹھ اور خطرے سے آگاہ کر۔ اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن عابس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ کو اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ کے متعلق کہتے ہوئے سنا۔ کہا: ہم جلانے کے لئے تین تین ہاتھ یا اس سے کچھ کم لکڑیاں اٹھا کر جاڑے کے لئے رکھ چھوڑا کرتے تھے۔ اور ان کو قَصَر کہتے تھے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ نیز عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ اور آپؐ وحی کے موقوف ہونے کے متعلق بیان فرما رہے تھے۔ آپؐ نے اپنے بیان میں یہ فرمایا: ایک بار میں چلا جا رہا تھا کہ اتنے میں مَیں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو میں نے سر اٹھایا ۔ کیا دیکھتا ہوں وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس حراء میں آیا تھا۔ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس کے رُعب سے سہم گیا اور واپس لوٹ گیا۔ میں نے کہا: مجھے کمبل اُوڑھادو، مجھے کمبل اُوڑھادو۔ انہوں نے مجھے کپڑا اُوڑھادیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ…۔ (اور یہ) نماز فرض کئے جانے سے پہلے (کا واقعہ ہے۔) اور اس (رُجْز) سے مراد بُت ہیں۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے روایت کی۔ ابن شہاب نےکہا: میں نے ابو سلمہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہؓ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ وحی کے موقوف ہونے کے متعلق بیان فرما رہے تھے کہ ایک بار میں چلا جا رہا تھا تو میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔ میں نے اپنی نگاہ جو آسمان کی طرف کی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس حرا میں آیا۔ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس سے اتنا سہم گیا کہ زمین پر گر پڑا۔ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اُوڑھا دو، مجھے کمبل اُوڑھا دو۔ انہوں نے مجھے کمبل اُوڑھا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ…۔ ابوسلمہ نے کہا: رجْز سے مراد بُت ہیں۔ پھر اس کے بعد وحی خوب گرم ہوگئی اور پے در پے آنے لگی۔
(تشریح)حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن ابی عائشہ نے ہم سے بیان کیا۔ اور یہ معتبر شخص تھے۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آپؐ پر وحی نازل ہوتی تو اپنی زبان کو ہلاتے۔ آپؐ چاہتے تھے کہ اس طرح یاد کریں۔اور سفیان نے (زبان ہلا کر) بتایا (کہ اس طرح ہلاتے تھے) تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: لَا تُحَرِّكْ بِهٖ… یعنی تُو اِس کے ساتھ اپنی زبان کو مت ہلا تا کہ اسے جلدی سے یاد کرلے۔
(تشریح)عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے روایت کی۔ (وہ کہتے ہیں) کہ انہوں نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا: اور حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب آپؐ پر وحی نازل کی جاتی اپنے ہونٹوں کو ہلایا کرتے تھے۔ اس لئے آپؐ سے کہا گیا: تُو اس کے ساتھ اپنی زبان کو مت ہلا۔ آپؐ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی لفظ آپؐ سے چھوٹ نہ جائے۔ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ یعنی ہم تمہارے دل میں اس کو محفوظ کر دیں گے۔ وَقُرْاٰنَهٗ اور تو اس کو پڑھ لے گا۔ فَاِذَا قَرَاْنٰهُ سے مراد ہے کہ وہ کہتا ہےجب یہ نازل کیا جائے فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗتو جیسا پڑھا گیا ویسے ہی تو بھی پڑھ۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ پھر ہم تیری زبان سے اس کو بیان کروائیں گے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے، موسیٰ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ کے متعلق روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب جبریلؑ وحی لے کر نازل ہوتے آپؐ کو سخت تکلیف ہوتی اور آپؐ اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو بھی ہلایا کرتے تھے اور آپؐ کی یہ حالت لوگوں کو معلوم ہو جاتی۔ اس لئے اللہ نے یہ آیت نازل کی جو سورۂ لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ میں ہے: لَا تُحَرِّكْ … یعنی تو اِس کے ساتھ اپنی زبان کو مت ہلا تا کہ اسے جلدی سے یاد کرلے۔ ہمارے ذمہ ہی اس کا اکٹھا کرنا اور اِس کی ترتیب دیناہے۔ (حضرت ابن عباسؓ نے) کہا: اس سے یہ مراد ہے کہ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو تمہارے سینہ میں محفوظ کر دیں اور اس کو پڑھادیں۔ فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ یعنی جب ہم اس کو نازل کریں تم خاموشی سے سنتے رہو۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ پھر ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو تیری زبان سے کھول کر بیان کریں۔ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے تھے: پھر جب جبرائیلؑ آپؐ کے پاس آتے تو آپؐ سر نیچے جھکا دیتے اور غور سے سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو آپؐ اس کو پڑھتے۔ جیسا کہ اللہ نے آپؐ سے وعدہ کیا۔ (اور آیت) اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى کے معنی ہیں تم پر ہلاکت ہو اور پھر ہلاکت ہو۔ یہ دھمکی ہے۔
(تشریح)محمو د (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ (بن موسیٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپؐ پر سورۂ مرسلات نازل کی گئی۔ اور ہم اس کو آپؐ کے منہ سے سن کر سیکھ رہے تھے۔ اتنے میں ایک سانپ نکلا، ہم اس پر جلدی سے لپکے لیکن وہ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے سوراخ میں گھس گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے شر سے وہ بچ گیا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچائے گئے۔
عبدہ بن عبداللہ (خزاعی) نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں یحيٰ بن آدم نے خبر دی۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے منصور سے روایت کرتے ہوئے یہی حدیث بتائی۔ اور (ایسا ہی) اسرائیل نے (اس حدیث کو) اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہؓ سے اسی طرح اس کو روایت کیا۔ اور(یحيٰ بن آدم کی طرح) اسود بن عامر نے بھی اسرائیل سے اس حدیث کو روایت کیا۔ اور حفص (بن غیاث) اور ابومعاویہ اور سلیمان بن قَرم نے بھی اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود سے اس کو روایت کیا۔ اور یحيٰ بن حماد نے کہا کہ ہمیں ابوعوانہ نے خبر دی۔ انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے (یہی) روایت کی۔ اور ابن اسحاق نے عبدالرحمٰن بن اسود سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے بھی یہی نقل کیا۔قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کہتے تھے: ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے۔ اسی اثنا میں آپؐ پر سورۂ مرسلات نازل ہوئی اور ہم نے آپؐ کے منہ سے سن کر اس کو سیکھا۔ اور ابھی آپؐ کا منہ اس سورة سے شیریں تھا کہ اتنے میں ایک سانپ نکلا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچنا، اس کو مارو۔ کہتے تھے: ہم اس پر جلدی سے لپکے مگر وہ ہم سے نکل گیا۔ کہتے تھے: آپؐ نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے بچایا گیا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچائے گئے۔
عمر وبن علی نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں خبر دی۔ (انہوں نے کہا:) عبدالرحمٰن بن عابس نے مجھ سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ کے متعلق یہ سنا کہ ہم تین تین ہاتھ کی یا اس سے بڑی لکڑیاں لیتے اور اسے اٹھا کر جاڑے کے لئے رکھ چھوڑتے اور انہی کو قَصَر کہتے۔ كَاَنَّهُ جِمَالَاتٌ صُفْرٌ کے معنی ہیں جہازوں کی رسیاں جو اکٹھی کرکے بٹی جاتیں، یہاں تک کہ وہ آدمیوں کی کمر کے برابر موٹی ہوتیں۔
(تشریح)