بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابراہیم نے مجھے بتایا۔ ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھے کہ اسی اثنا میں آپؐ پر سورۂ مرسلات نازل ہوئی۔ آپؐ اس کو پڑھ ہی رہے تھے اور میں آپؐ کے منہ سے اس کو سیکھ رہا تھا۔ اور ابھی آپؐ کا منہ اس (آیت) سے شیریں بیاں تھا کہ اتنے میں ایک سانپ ہم پر کُود پڑا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو مار ڈالو۔ ہم جلدی سے اس پر لپکے مگر وہ نکل گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے بچایا گیا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچائے گئے۔ عمر (بن حفص) کہتے تھے: میں نے یہ (حدیث) اپنے باپ سے اُس غار میں یاد کی تھی جو منٰی میں ہے۔
احمد بن مقدام نے ہم سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا کہ ابو حازم نے ہم سے بیان کیا (اُنہوں نے کہا:) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپؐ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا یعنی درمیانی انگلی سے اور اس سے جو انگوٹھے سے ملی ہے کہ میری بعثت اور وہ گھڑی ان دو کی طرح ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: أَغْطَشَ کے معنی ہیں اس نے تاریک بنایا۔ الطَّآمَّةُ سے مراد وہ ہے جو ہر چیز پر پھیل جائے گی۔
محمد (بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان کیاکہ ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (صور کی) دو پھونکوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا: چالیس دن؟ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا : میں نہیں کہہ سکتا۔ اُنہوں نے پوچھا: چالیس مہینے؟ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا : میں نہیں کہہ سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: چالیس سال؟ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا : میں نہیں کہہ سکتا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا : پھر اس کے بعد اللہ آسمان سے مینہ برسائے گا اور لوگ اس طرح نشوونما پائیں گے جیسے سبزیاں نشوونما پاتی ہیں۔ آدمی سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی جو بوسیدہ نہ ہو جائے سوائے ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کا آخری سرا ہے۔ اور اسی سے قیامت کے دن ڈھانچا ترکیب دیا جائے گا۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا،(کہا:) قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے زرارہ بن اوفیٰ کو بیان کرتے ہوئے سناکہ سعد بن ہشام سے روایت ہے۔سعد نے حضرت عائشہؓ سے،حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ ہے اس کی اعلیٰ درجہ کے نیکو کار، معزز، لکھنے والوں کی سی حالت ہوگی اور جو شخص قرآن پڑھتا اور اس کو بار بار یاد کرتا ہے مگر اس کے لئے مشکل ہوتا ہے تو اس کو دو ثواب ملیں گے۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ معن (بن عیسیٰ) نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا، انہوں نے نافع سے ، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ سے مراد یہ ہے کہ لوگ قیامت کے دن رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ ان میں سے ایک اپنے آدھے کانوں تک پسینہ میں ڈوبا ہوگا۔
(تشریح)عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا، انہوں نے عثمان بن اسود سے روایت کی، انہوں نے کہا میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، فرماتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔نیز سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا، انہوں نے ایوب (سختیانی)سے، ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ نیز مسدد نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے یحيٰ (بن سعید قطان) سے، یحيٰ نے ابو یونس حاتم بن ابی صغیرہ سے، ابویونس نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے قاسم (بن محمد) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، وہ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ جس سے حساب لیا جائے مگر وہ ہلاک نہ ہو (حضرت عائشہؓ) کہتی تھیں:میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپؐ پر فدا کرے، کیا اللہ عز و جل نہیں فرماتا: یعنی وہ شخص جو اپنی کتاب اپنے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ تو حساب کا پیش کرنا ہے جو اُن کے سامنے پیش کیا جائے گا اور جس کے حساب میں چھان بین کی جائے گی وہ تباہ ہو گا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا، اُنہوں نے کہا: مجھے میرے والد (عثمان بن جبلہ) نے بتایا اُنہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے پہلے جو ہمارے پاس آئے وہ حضرت مصعب بن عمیرؓ اور حضرت ابن ام مکتومؓ تھے۔ وہ ہمیں قرآن پڑھانے لگے۔ پھر حضرت عمارؓ اور حضرت بلالؓ اور حضرت سعدؓ آئے۔ پھر ان کے بعد حضرت عمر بن خطابؓ مع بیس آدمیوں کے آئے۔ پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے مدینہ والوں کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی بات سے ایسے خوش ہوئے ہوں جیسا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر خوش ہوئے یہاں تک کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو دیکھا وہ بھی کہہ رہے تھے یہ دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور آپؐ کے آجانے تک میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى اور اس جیسی کئی ایک سورتیں پڑھ چکا تھا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب نے ہمیں بتایا، ہشام (بن عروہ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی، کہ اُن کو حضرت عبداللہ بن زمعہؓ نے بتایا کہ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ تقریر فرما رہے تھے اور آپؐ نے (حضرت صالحؑ کی) اونٹنی کا اور اس شخص کا جس نے اس کو زخمی کیا تھا ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا کے یہ معنی ہیں کہ ایک زبردست موذی شخص جو اپنی قوم میں ایسے طاقت ور تھا جیسے ابوزمعہ، اس کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ اور آپؐ نے عورتوں کا بھی ذکر کیا اور فرمایا: تم میں سے ایک لپکتا ہے اور اپنی عورت کو اس طرح مارنا شروع کردیتا ہے، جیسے غلام کو مارا جاتا ہے پھر وہ اسی دن شام کو اس کے ساتھ ہم بستر بھی ہوتا ہے۔ پھر آپؐ نے ان کو یہ نصیحت کی کہ کسی کے گوز مارنے پر ہنسا نہ کرو اور آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس فعل سے ہنستا کیوں ہے جو خود بھی کرتا ہے۔ اور ابومعاویہ نے (اپنی سند میں یوں) کہا کہ ہمیں ہشام نے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن زمعہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر بن عوامؓ کے چچا ابوزمعہ جیسا (شخص)۔
(تشریح)قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری( نے ہمیں بتایا، انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم )نخعی( سے، ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کے کئی ساتھیوں کے ساتھ شام میں داخل ہوا۔حضرت ابودرداءؓ نے ہمارے متعلق سنا اور وہ ہمارے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: کیا تم میں کوئی ہے جو قرآن پڑھنا جانتا ہو۔ ہم نے کہا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: تم میں سے کون زیادہ قاری ہے؟ انہوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ حضرت ابودرداءؓ نے کہا: پڑھو۔ میں نے پڑھا: وَالَّيْلِ اِذَايَـغْـشَـی۰۰ وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى۰۰ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى یعنی رات کی قسم ہے جب وہ چھا جاتی ہے اور دن کی قسم ہے جب وہ روشن ہوجائے اور نرو مادہ کی قسم ہے۔ حضرت ابودرداء ؓ نے کہا: کیا تم نے اس سورة کو اپنے استاذ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) کے منہ سے سنا؟ میں نے کہا: ہاں۔ حضرت ابودرداءؓ نے کہا: اور میں نے بھی اس سورة کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنا تھا اور یہ لوگ ہماری نہیں مانتے۔