بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
8. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations
باب ۸ : مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ
جس شخص کا کوئی مارا جائے تو وہ دو باتوں میں سے ایک بات کے اختیار کرنے کا مجاز ہے
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو (بن دینار) سے، اُنہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی اُنہوں نے کہا: بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور اُن میں دیت نہ تھی۔ اللہ نے اِس اُمت کے لئے فرمایا: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں کے بارہ میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے اگر (قاتل) آزاد (مرد) ہو تو اسی آزاد (قاتل) سے اور اگر (قاتل) غلام ہو تو اسی غلام (قاتل) سے اور اگر (قاتل) عورت ہو تو اسی عورت (قاتل) سے مگر جس (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ (تاوان) معاف کر دیا جائے تو (مقتول کا وارث بقیہ تاوان کو صرف) مناسب طور پر وصول کر سکتا ہے اور (قاتل پر) عمدگی کے ساتھ (بقیہ تاوان) اس کو ادا کر دینا (واجب) ہے۔ یہ تمہارے ربّ کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے پھر جو شخص اس (حکم) کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: یہاں عفو سے یہ مراد ہے کہ قتلِ عمد میں دیت قبول کر لے۔ اُنہوں نے کہا: فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْف سے یہ مراد ہے کہ شریفانہ طریقے سے مطالبہ کرے اور وہ عمدگی سے ادا کرے۔
9. To shed somebody’s blood without any right
باب ۹ : مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ
جو نا جائز طور پر کسی آدمی کے خون کا مطالبہ کرے
10. Excusing somebody who killed by mistake.
باب ۱۰ : الْعَفْوِ فِي الْخَطَإِ بَعْدَ الْمَوْتِ
(قتل) خطا میں ( مقتول کے ) مر جانے کے بعد معاف کرنا
12. If a killer confesses once, he sould be killed
باب ۱۲ : إِذَا أَقَرَّ بِالْقَتْلِ مَرَّةً قُتِلَ بِهِ
اگر کوئی قتل کا ایک بار اقرار کرلے تو اس اقرار کی بنا پر مار ڈالا جائے
13. Killing a man for having killed a woman
باب ۱۳ : قَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ
عورت مقتولہ کے بدلہ میں مرد قاتل کو مار ڈالنا
14. Al-Qisas in cases of injury
باب ۱۴ : الْقِصَاصِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي الْجِرَاحَاتِ
( تفسير كبير ، سورة البقرة، زير آيت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ، جلد ۲ صفحہ ۳۶۱، ۳۶۲)
15. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler
باب ۱۵ : مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ
جس نے حاکم کے بغیر خود ہی اپنا حق لیا یا بدلہ لیا
اور اسی سند سے مروی ہے اگر کوئی تمہارے گھر میں جھانکے اور تم نے اس کو اجازت نہ دی ہو تو تم اس کو کنکری مارو اور اُس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔
16. If someone dies or is killed in a big crowd
باب ۱۶ : إِذَا مَاتَ فِي الزِّحَامِ أَوْ قُتِلَ
اگر کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبداللہ بن ابی حسین سے روایت کی کہ نافع بن جبیر نے ہم سے بیان کیا۔ نافع نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے سب سے زیادہ قابل نفرت اللہ کے نزدیک تین شخص ہیں۔ حرم میں بے اعتدالی کرنے والا اور اسلام میں جاہلیت کی رسم و رواج کا خواہاں اور ناحق کسی آدمی کے خون کی جستجو کرنے والا تاکہ اس کا خون بہائے۔
فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ جنگِ اُحد کے دن مشرک شکست کھا گئے۔ اور محمد بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ابومروان یحيٰ بن ابی زکریا یعنی واسطی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: جنگِ اُحد کے دن ابلیس نے لوگوں میں دہائی دی اللہ کے بندو اپنے پچھلوں سے بچو۔ سنتے ہی اگلے اپنے پچھلوں پر پلٹ پڑے اور اُنہوں نے حضرت یمانؓ کو ما ر ڈالا۔ حضرت حذیفہؓ چلائے میرا باپ ہے میرا باپ ہے مگر اُنہوں نے اُن کو مار ڈالا۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔ اُنہوں نے کہا: اور اُن کافروں میں سے کچھ لوگ تو شکست کھا کر بھاگ گئے تھے یہاں تک کہ وہ طائف میں جا پہنچے تھے۔
اسحاق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ حبان (بن ہلال) نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں سے چور چور کر دیا۔ تو اس سے پوچھا گیا: تم سے یہ کس نے کیا ؟ کیا فلاں شخص نے کیا؟ فلاں شخص نے؟ آخر اس یہودی کا نام لیا گیا تو اُس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں) اس یہودی کو لے آئے اور اس نے اقرار کیا تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اس کا سر بھی ایک پتھر سے چور چور کیا گیا۔ اور کبھی ہمام نے یوں بھی کہا دو پتھروں سے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کیا جس کو اس نے اس کے زیوروں کے لالچ پر مار ڈالا تھا۔
عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ بن ابی عائشہ نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: ہم نے نبی ﷺ کے منہ میں آپؐ کی بیماری کے اثنا میں دوائی ڈالی۔ آپؐ نے فرمایا: میرے حلق میں دوا مت ڈالو۔ ہم نے کہا: بیمار کو دوا سے نفرت ہوتی ہے۔ (اس لیے آپؐ یہ فرما رہے ہیں) جب آپؐ ہوش میں آئے آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی باقی نہ رہے مگر اس کے حلق میں دوائی ڈالی جائے سوائے عباسؓ کے کیونکہ عباسؓ تمہارے ساتھ شامل نہیں تھا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابو زناد نے ہم سے بیان کیا کہ اعرج نے اُنہیں بتایا کہ اُنہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: قیامت کے دن ہم سب سے پیچھے آنے والے اور سب سے آگے بڑھنے والے ہیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حمید سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کے گھر میں جھانکا آپؐ نے اس کی طرف ایک تیر کا نشانہ باندھا۔ (یحيٰ کہتے تھے:) میں نے پوچھا: تم سے یہ کس نے بیان کیا۔ حمید نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے۔
اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں خبر دی۔ ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: جب اُحد کی جنگ ہوئی تو مشرکوں کو شکست دے کر بھگا دیا گیا۔ ابلیس نے دہائی دی۔ اللہ کے بندو! اپنے پچھلوں سے بچو۔ (یہ سن کر) پہلے پلٹ پڑے اور وہ اور پچھلے تلواروں سے آپس میں لڑنے لگے۔ حذیفہؓ نے غور سے جو دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ اُن کے باپ یمانؓ پر حملہ آور ہیں۔ اُنہوں نے پکارا، اللہ کے بندو یہ میرا باپ ہے، میرا باپ ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: اللہ کی قسم! وہ نہ ہٹے اس کو مار ہی ڈالا۔ حذیفہؓ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔ عروہ کہتے تھے: حضرت حذیفہؓ (کے دل) میں اس (کلمہ) کی وجہ سے ہمیشہ بھلائی رہی اور وہ اسی حالت میں اللہ سے جا ملے۔